بسم اﷲالرحمن الرحیم
 

شیخ طوسی علیہ الرحمہ کاچودہواں انٹرنیشنل تحقیقی جشنوارہ

’جوچیزیں حوزات علمیہ کے شعبہ میں باقی رہنے والی اور ایک جاری صدقہ کے عنوان سے ہمیشہ رہنے والی ہیں وہ یہی تحقیقات اور تا لیفات ہیں۔‘‘

مقام معظم رہبری حضرت آیت اﷲالعظمیٰ آقائے خامنہ ای دام ظلہ العالی

’’تحقیق‘‘تمام افکار وخیالات اور نظریات کی تجلی ہوتی ہے،اس کے ذریعہ تمام نظریات کا تعامل ہوتاہے ،معلومات کی تحلیل ہوتی ہے،گزشتہ لوگوں کی میراث کا احیاء ہوتاہے،اس سے تمام مسائل میں غوروفکر کا موقع فراہم ہوتاہے نیز اس سے عقلانیت کی تلاش و کوشش کی ترویج ہوتی ہے۔
’’تحقیق‘‘ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ تمام معاشروں کی فکری،ثقافتی،اجتماعی و اقتصادی اور سیاسی امورمیں بنیادی رول ا داکرتی ہے اور ان امورکے تشکیل دینے میں بہت اہم کردار اداکرتی ہے۔
اگرچہ یہ اہم کام مختلف صورتوں منجملہ تقریر،جلسہ،کانفرنس،مذاکراتی جلسہ،درس اور گفتگو...میں انجام پاتاہے لیکن ان مذکورہ تمام امور میں’’ قلم‘‘ سب سے اہم اور ایک بہترین ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ایک تحقیق کو وجود میں لاکر اسے وسعت دی جاتی ہے اوراس میں ذرابھی شک نہیں کہ سب سے اچھے مصنف کا پہنچوانا دراصل ایک تحقیق کو عظمت بخشنا ہے اور اس کے بہترین وسیلہ یعنی قلم کو وقار عطا کرناہے۔
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شیخ طوسی علیہ الرحمہ کے چودہویں انٹر نیشنل تحقیقی جشنوارہ کو دو(۲)حصوں میں منعقد کررہاہے:

۱۔عمومی حصہ:
اس حصہ میں مطبوعہ کتابوں،مطبوعہ مقالوں اور دفاع کئے گئے پایان ناموں(ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالوں)کی تحقیق کرکے انھیں منتخب کیاجاتاہے اور پھرانعام دیاجاتاہے۔
الف) علوم قرآن وحدیث(درایہ ورجال)
ب) تاریخ اور سیرت
ج) فلسفہ اورکلام
د) اخلاق اور تربیت
ھ) فقہ،اصول اورحقوق
و) عرفان
ز) علوم انسانی(علوم سیاسی،سربراہی،معاشرہ شناسی،نفسیات شناسی...۔)
ح) ادبیات اور علوم ادبی(صرف،نحو،علم بلاغت)اور منطق

جشنوارہ کے عمومی حصہ کے ملاحظات:
۔
عمومی حصہ کے تمام آثار(کتاب،مقالہ یہ دونوں مطبوع ہوں اور ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالوں کا دفاع کیاجاچکا ہو ان سب) کو ارسال کرنے کی آخری تاریخ ۳۱؍۵؍۱۳۹۰ شمسی ہے۔
۔مطبوعہ کتابیں جو مذکورہ موضوعات پرہوں گی انھیں تین(۳) امورمیں جانچ کر منتخب کیاجائے گا:تالیف،ترجمہ،متن کی تصحیح اور اس کی تحقیق۔
۔ان تمام مطبوعہ آثار کا۱۳۸۹ ؁ھ.شمسی، ۱۴۳۱ ؁ھ.قمری یا ۲۰۱۰ ؁ء میں شائع ہونا ضروری ہے۔
۔صرف وہ ڈاکٹریٹ تحقیقی مقالے دستی طو ر پر قبو ل کئے جا ئیں گے جن کا دفاع جا معۃ المصطفیٰ العا لمیہ کے حوزہ سے الگ کسی دو سرے مقا م پر ہوا ہو ہاں!ڈاکٹر یٹ کے وہ تحقیقی مقا لے جن کا دفاع جامعۃ المصطفیٰ کے مختلف مدا رس اور اس کی نما ئند گی میں ہواہو انھیں سب سے پہلے جشنوارہ کے مر کزی آفس میں ارسا ل کیا جا ئے پہلے مرحلہ میں ان کی جانچ ہو گی پھر جشنوارہ میں شامل کیا جا ئے گا ایسے مقالوں کو دستی طور پر قبول نہیں کیا جا ئے گا۔
۔ڈاکٹریٹ کے صرف ان تحقیقی مقالوں کو جشنوارہ میں شا مل کیا جا ئے گا جن کا دفاع ۱۳۸۹ ؁ شمسی میں ہو چکا ہو۔
۔کتاب کے ٹائٹل یا مقدمہ میں مصحح، محقق یا مترجم کا نا م درج ہو نا ضرو ری ہے ۔
۔جن کتا بوں کا تر جمہ کیا گیا ہو ان کے اصلی متن کا بھی سا تھ میں ضمیمہ کر نا ضروری ہے( ور نہ جا نچ وانتخاب کی نوبت ہی نہ آئے گی)
۔مطبو عہ مقالات کا علمی وتحقیقی ہو نے کے علا وہ کم سے کم ۵؍صفحات پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔

۲۔خصوصی حصہ:
ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مو جو دہ دور میں ہر جگہ اسلا می بیدا ری کی لہریں دوڑگئیں، اسلا م کے دوبا رہ جدید ظہور کا آغاز ہوگیا، بین الاقوامی طور پر اور علا قہ کی تما م ظالم حکو متوں کے ذریعہ جوپا بندیاں عائد کی جا تی ہیں اور عوام پر سختیاں ہیں ان سب کے باوجود بھی یہ انقلاب عا لمی اور علاقائی پیما نہ پر بہت موثر ثابت ہوااس انقلاب کے تما م گوشوں کو جوو سعت حاصل ہو ئی وہ با عث بنی کہ اس کے با رے میں بہت زیا دہ تحقیقات انجا م دی جا ئیں۔
تمام ایرانی اور غیر ایرا نی محققین سے یہ در خواست کی جا تی ہے کہ وہ ایرا ن کے اسلا می انقلاب،علوم سیاسی، علوم اجتما عی، علاقائی مطا لعات اور بین الاقوامی روابط کے سلسلہ میں اپنے مقا لوں میں ان امور کو پیش نظر رکھیں صرف موضوع کی توصیف پر اکتفانہ کریں، وہ اموریہ ہیں: انقلاب کو کس طرح خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟انقلاب کا مستقبل کیا ہوگا؟حل کیا ہوگا؟
اس سلسلہ میں جا معۃ المصطفیٰ کا بین الاقوامی تحقیقی شعبہ جو اس جشنوارہ کا ذ مہ دا ر ہے اس نے معاونت تحقیق کے تعاون سے ا س سال کے جشنوارہ کاموضوع’’اسلامی بیداری‘‘قراردیاہے اس جشنوارہ کے خصوصی حصہ کی نظارت اور علمی ہدایت کی ذمہ داری ،انقلاب اسلامی کے تحقیقی شعبہ پر ہے۔

خصوصی حصہ کے عناوین:
کلیات:
۱۔اسلامی بیدا ری کا مفہوم اور اس کی حقیقت۔
۲۔اسلامی بیداری کے تشکیل پانے کے مقد مات۔
۳۔مختلف ملکوں میں اسلامی بیداری کے محقق ہونے کانتیجہ۔
۴۔دنیا کے عمو می افکار پر اسلا می بیدا ری کے اثرات۔
۵۔اسلامی بیداری اور غیر اسلامی ملکوں میں مسلمانوں کی اقلیت۔

عالم اسلام کی بیداری میں اسلامی انقلاب کا کردار:
۶۔اسلامی انقلاب کا صدور اور اس کے لئے رکاوٹیں۔
۷۔اسلامی تحریکوں پر ایرا ن کے اسلا می انقلاب کا اثر۔
۸۔معاصر دنیا کے فکری واجتما عی نظام پر ایران کے اسلا می انقلاب کا اثر۔
۹۔ مسلمان خواتین، اسلامی انقلاب اور دنیا میں دوبارہ حاصل ہو نے والی پوزیشن۔
۱۰۔عالم اسلام کی بیداری میں اسلامی انقلاب کے کچھ بنیادی پیغام اور نعروں کا انعکاس۔
۱۱۔عالم اسلام میں اسلامی انقلاب کی توسیع اور استمرار کے طریقے۔

مسلمانوں کی بیداری کے سلسلہ میں علماء اور دینی مدارس کا کردار:
۱۲۔ تمام ملکوں کی بیداری کے سلسلہ میں عالم اسلام کے تمام علماء اور دانشمندوں کا کردار۔
۱۳۔مسلمانوں کی بیداری کے سلسلہ میں اسلامی انقلاب کے اثرات کے بارے میں عالم اسلام کے علماء کے نظریات۔
۱۴۔اسلامی بیداری پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی معاشرہ اور حوزات علمیہ کے منظم ومستحکم رابطے۔
۱۵۔اسلامی بیداری کو وسعت بخشنے میں حوزوی اداروں کا مرتبہ اور ان کا کردار۔

اسلامی بیداری ،امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کے افکارمیں:
۱۶۔اسلامی متفکرین کے افکارمیں امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کا مرتبہ اور اسلامی بیداری کے سلسلہ میں اس کا اثر۔
۱۷۔ امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کی نظر میں اسلامی انقلاب کے صدور کا عقیدہ۔
۱۸۔ امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کی نظرمیں بین الاقوامی ظالمانہ نظام کے خلاف عالمی پیمانہ پر مخالفت کرنے والے مؤثر عوامل واسباب۔
۱۹۔ امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کی نظرمیں اسلامی بیداری کے سلسلہ میں جمہوری اسلامی نظام کی ذمہ داریاں اور اس کے طریقے۔
۲۰۔ امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کی نظرمیں مستقبل میں اسلامی بیداری کے علل واسباب اوررکاوٹیں۔
۲۱۔ امام خمینی ؒ اور مقام معظم رہبری دام ظلہ العالی کی نظرمیں اسلامی ملکوں میں انقلابات کے مستحکم ہونے کے بعد ایک پسندیدہ ومقبول حکومت۔

اسلامی بیداری اور دنیا کا مستقبل:
۲۲۔عالم اسلام کا ایک عالمی قدرت وطاقت کے عنوان سے پہچاناجانا۔
۲۳۔اسلامی بیداری کے خلاف علاقائی حکومتوں کا ردعمل۔
۲۴۔اسلامی بیداری کے خلاف غیر اسلامی حکومتوں کا رد عمل۔
۲۵۔اسلامی بیداری کا عالمی سطح پرہونا۔
۲۶۔اسلامی بیداری ،اس کے مواقع اور خطرات۔

جشنوارہ کے خصوصی حصہ کے ملاحظات:
۔تمام رائٹر حضرات اور محترم محققین سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے مختصر حالات،علمی صلاحیت،کسی ادارہ سے وابستگی اور اپنے سارے انفرادی مشخصات وجزئیات کو درج کریں(نام،خاندانی نام،والد کانام،قومیت،جامعۃ المصطفیٰ کے محققین کے لئے کمپیوٹری کوڈ،تحصیل علم کے کس مرحلہ میں مشغول ہیں،ڈاکخانہ کا پتہ،ای میل،فون نمبر،موبائل نمبر،فیکس نمبر)
۔مقالہ کا خلاصہ(۲۰۰؍سے۲۵۰؍الفاظ تک)ہونیز ساتھ میں کلیدی الفاظ،مقدمہ،متن و نتیجہ اور مآخذ کا ہونا ضروری ہے۔
۔جو مقالے ہمیں ارسال کئے جائیں ان کا ورڈWord۲۰۰۳میں۱۴فونٹ،Pdf نسخہ کے ساتھ ۱۵؍سے۲۰؍صفحات تک ہونالازمی ہے(ہر صفحہ۳۰۰؍الفاظ پر مشتمل ہو)اور ماہ مہر۱۳۹۰شمسی کے آخر تک سی ڈی کی صورت میں یا ای میل کے ذریعہ جشنوارہ کے مرکزی دفتر میں پہنچنا ضروری ہے۔
۔مقالوں کا جشنوارہ کے دیئے گئے خصوصی موضوعات سے مربوط ہونا ضروری ہے نیز ضروری ہے کہ اس جشنوارہ سے پہلے کسی سمینار یا مجلہ میں شائع نہ ہوئے ہوں۔
۔جو مقالات اس جشنوارہ کے خصوصی موضوعات سے خارج ہوں گے وہ جشنوارہ کے سکریٹری یا اس کی علمی کمیٹی کی تائید کے بعد ہی شامل ہوسکیں گے۔
۔علمی کمیٹی میں ثالثی کے بعد جو مقالات منتخب کئے جائیں گے انھیں تمام مصنفین و محققین کے اجتماع میں جشنوارہ میں پیش کیاجائے گا۔
۔جشنوارہ کا مرکزی دفتر بہترین مقالوں کو کتاب کی صورت میں شائع کرے گا اور نفیس انعامات بھی پیش کرے گا۔
۔اگرچہ اس سمینار کی اصلی زبان فارسی ہے لیکن اس کے باوجود بھی عربی،انگریزی،فرانسوی اور اردوزبانوں میں لکھے گئے مقالات کابھی استقبال کیاجاتاہے۔

جشنوارہ کا وقت:
بروزجمعرات ۱۳؍بہمن۱۳۹۰ھ.شمسی ، ۹؍ربیع الاوّل۱۴۳۳ ؁ھ.قمری ، ۲؍فروری۲۰۱۲ء ؁۔

جشنوارہ کے مرکزی دفتر کا پتہ:
قم۔بلوارامین،سہ راہ سالاریہ،ساختمان جامعۃ العلوم،بلوک۳،پژوہشگاہ بین المللی المصطفیٰ،دبیر خانہ جشنوارہ بین المللی پژوہشی شیخ طوسیؒ ۔

فون:۲۱۳۳۳۸۲۔۲۵۱۔۰۰۹۸
تلفکس:۲۱۳۳۳۷۵۔۲۵۱۔۰۰۹۸
ایمیل:tousi@.miu.ac.ir
سایت: tousi.miu.ac.ir

کليه حقوق اين وب سايت متعلق به جشنواره بين المللي-پژوهشي شيخ طوسي (ره) مي‌باشد.
Copyright © 2009-2013 - All rights reserved