• کربلا، اقدار انسانی کی عظیم تحریک
  • اس میں کوئی شک نهیں که پوری دنیا میں انسان کی قدر و قیمت، منزلت و مقام اس کے اندر پائے جانے وال مشترکه فطری اصول اور اقدار کی پابندی پر موقوف هےیه اقدار، انسانی معاشرے کی بهبودی کے ضامن هیں لیکن تاریخ بشریت گواه هے که انسانیت کے دشمن همیشه اپنے شیطانی مقاصد کی خاطر اقدار انسانی کو ختم کرنے کی ناپاک کوش کرتے رهے هیں لیکن بدلے میں انسانیت پسند افراد نے هر دور میں جان کی بازی لگاکے انهیں زنده رکهنے کی انتهک کوشش کی تحریک کربلا بهی اقدار انسانی کی پاسداری کا عظیم عملی معرکه هے۔
    مقاله نگار نےتحریک کربلا کواقدارا نسانی کی حقیقی معنوں میں پاسبانی کرنے والی عالم بشریت کی ایک منفرد اور بے نظیر تحریک کے عنوان سے پیش کیا هے، اور کربلا میں عروج پانے والے عدالت، حریت، شجاعت، عزت، غیرت، استقامت وغیر جیسے انسانی اقدار پرتجزیه و تحلیل کرتے هوئے عصر حاضر میں بڑهتی هوئی شیطانی اور غیر انسانی رزیلتوں سے مقابله کرنے کے لئے کربلا والوں کی سیرت کو عملی میدان میں نمونه عمل بنانے کی ضرورت پر زور دیا هے کیونکه کربلا هر زاویے سے انسانیت کی ایسی بے نظیرتحریک هے جو ذاتی، علاقائی، قومی اور ملکی جیسی مادی محددیتوں سے بڑهکر انسانیت اور اقدار انسانی کی پاسداری کے خاطر معرض وجود میں آتی هے۔

  • مقدمه
    خدا وند عالم نے کائنات میں انسان کو اشرف المخلوق کا بنا کےبهیجا اور ساته هی کائنات کی هر دوسری چیز اسکی خدمت کے واسطے معرض وجود میں لائی یعنی کائنا ت میں انسان کو سب سے اونچا اور بلند مقام اور مرتبه عطا کیا هے لیکن انسان کا یه مقام اور مرتبه ایسی صورت میں هی قدر و منزلت کا هامی هے جب وه ان ودیعه کی گئی فطری اور طبیعی امورکا پاس اور لحاظ رکهے گا جن سے اسکی انسانیت گرویده هے انسان کو مقام اور منزلت عطا کرنے والے ان امور کو اقدار انسانی کے نام سے یاد کیا جاتا هے اگر انسان اپنے ان اقدار کاپا بند رها تو اسے انسانیت کے وه تمام اعزازبهی حاصل هونگے جو خدا نے اسکے لئے تیار کئے هیں لیکن اگر وه ان اقدار سے گر جاتا هے اور انهیں اپنی زندگی کا معیار اور محورقرار نهیں دیتا هو تو وه انسان تو کیا جانور کهلانے کا بهی حق نهیں رکهتا پس اس اعتبار سے اقدار انسانی کے موضوع پر قلم فرسائی کرنا حائز اهمیت رکهتا هے۔
    اس تمهید میں اقدار انسانی کی تعریف، حقیقت اور ضرورت بیان کرنے کے بعد مقاله کے اصلی مطالب کو دو فصلوں میں تقسیم کیا هے جس میں هماری کوشش یهی رهے گی که اقدار انسانی کے سب سےاهم قدروں کو انتخاب کرکے تحریک کربلا کی روشنی میں ان کی تجزیه و تحلیل کرتے هوئے معرکه کربلا کو اقدار انسانی کی ایک عظیم اور بےنظیر تحریک کی حیثیت سے پیش کریں گے اور ساته هی عصر حاضر میں تحریک کربلا کی ان انسانی قدروں پر عمل کرنے کی ضرورت کے اسباب بهی بیان کریں گے۔
    اقدار انسانی کےمعنی۔
    اقدار کے معنی اور مفهوم کو سمجهنے کے لئے لغت اور اصطلاح دونوں منابع سے استفاده کیا جاسکتاهے لغوی اعتبار سے اردو میں "اقدار"، قدر کی جمع هے جس کے مختلف معنی میں سے ایک بزرگی، مرتبه اور رتبه هے۔
    اقدارکے لئے ایک جامع اور اصطلاحی تعریف اتنی زیاده مستعمل اور روشن نهیں هے لهذا لغوی معانی اور مفاهیم (عزت بزرگی، توقیر، مرتبه، برابر، یکسان) کو مدنظر رکهتے هوئے انهیں یوں بیان کیا جاسکتاهےکه اقدار انسانی هی انسان کی انسانیت کا معیارهیں انسان کی شخصیت انهیں امور سے وابسته هے۔
    دنیا میں انسانیت کے لئے الگ الگ نسلی، علاقائی، ملکی یا خطی معیار نهیں بنائے جاسکتے اقدار انسانی دنیا کے تمام انسانوں کے درمیان بغیر ذات پات، نسل، رنگ اور زبان کے مشترک هیں۔اور اسلامی اعتبار سے بهی دیکها جائے تو دعوت اسلامی کی بنیاد بهی انسانی اقدار اور اصولوں کی دعوت هے ایسے اقدار جن کی حقیقت کو هر عقلمندانسان بغیراپنے قبیله اور طائفه کی منفعت کے درک کرتاهے اور لوگوں کے اچهے اور برے کردار اور گفتار کے بارے میں اظهار نظر کرتاهے۔
    برائی، اچهائی، اخلاقی کرامتیں، نیک اعمال، بهلائی، نیکی، عفت، وفائے عهد، صله رحم، امانت داری، وغیره جیسے دوسرے مفاهیم کو اقدار انسانی کے نام سے یاد کیا جاتا هے ان مفاهیم کے لئے مسلمان اور غیر مسلمان کو نهیں دیکها جاتا خدا نے معاشرے اور امت اسلامی کی سلامتی کے لئے ان اقدار پر زیاده زور دیاهے اگرمعاشرے سے صداقت، عفت، وفائے عهد، صله رحم اور امانت داری جیسے اهم اقدار کا خاتمه هوجائے، چاهے پهراسلامی معاشره هو یا غیر اسلامی معاشره، دونوں صورتوں میں انحطاط اورتنزل کرے گاکیونکه ایک معاشرے کی بقا اور استحکام ان هی اقدار سے وابسته هے۔
    اقدار انسانی کاسرچشمه۔
    اقدار انسانی کے معنی و مفهوم جاننے کے بعد اس امرپر روشنی ڈالنا بهی ضروری هے که اقدارانسانی کا سرچشمه کیا هے؟ یه اقدارکهاں سے وجود میں آتے هیں؟ اس امر کی حقیقت جاننے سےهمیں اقدارانسانی کی عمومیت اور فراگیری بهی بهتر طریقے سے سمجه میں آسکتی هے اور ساته هی تحریک کربلا کو اقدار انسانی کی حیثیت سے ایک عام اور فراگیر تحریک اور مکتب سمجهنے میں بهی مدد مل سکتی هے۔
    اس میں کوئی شک نهیں که انسان فطری طور سے کچه حقوق کا حامل هے جنهیں کبهی فطری اور طبیعی حقوق سے یاد کیا جاتا هے انسان فطری طور سے مسؤلیت پذیر هے اوریهی فطرت اسے خدا کےسامنے ذمه داری کا احساس دلاتی هے یعنی نه فقط خدا جویی اس کی فطرت میں ودیعه هوئی بلکه فطری اعتبار سے اپنے آپ کو خدا کے سامنے ذمه دار بهی مانتا هے ان دونوں فطری اصولوں یعنی فطرت سے نشأت پائے جانے والےطبیعی اور ذاتی حقوق اور اسی سرشت اور فطرت سے پیدا هونے والے خدا کےحضور احساس ذمه داری، کو آپس میں ملانےسے جوشعله بهڑکتاهے اسے انسانی اقدار سے تعبیر کیا جاتا هے۔مثال کے طور پر؛ انسان فطری طور سے آزادی کا احساس کرتاهےیه ذاتی اور فطری احساس که انسان غیر خدا سے بی نیاز اور مستقل هے ایک طبیعی، ذاتی اور فطری احساس هے جو انسان سے قابل جدا نهیں هے مثال کے طور پر نا هی انسان سے آزادی چهین سکتے هیں اور نا هی اسے عطا کرسکتے هیں کیونکه یه ایک جعلی اور قراردادی مسئله نهیں هے بلکه اس سے برتر هےیه ایک ایسی چیز هے جسے خدا نے انسان کی ذات میں ایک حق کی حیثیت سے ودیعه کیا هے۔ اب اگر اسی مقوله آزادی کے ساته مسؤولیت پذیری کے فطری احساس بهی ملایا جائے ان دونوں مقولوں کی تلفیق سے جو شعاعیں چمکنے لگتی هیں اسے هم اخلاص کهتے هیں یعنی مسؤولیت پذیری کے مقام پر غیر خدا معدوم هوجاتا هے۔ پس اس سے یه بات واضح هوجاتی هے که فطری انسانی امورکی تلفیق سے هی اقدارانسانی وجود میں آتے هیں لهذا اس بنا پر اقدار انسانی همیشه کے لئے ثابت هیں۔هر انسان کے اندر انکی استعداد پائی جاتی هے اور هرطرح کے قومی، مذهبی اورتهذیبی بندشوں سے بالاتر هوتے هیں۔
    اقدار انسانی کی ضرورت
    انسان کی حقیقت اسکی انسانیت سے وابسته هے اور انسانیت کا معیارانسان کے درمیان پائے جانے والے مشرکه مفاهیم، اقدار اور اصول هیں جن کے هوتے هوئے انسان کو حقیقی معنوں میں انسان کها جاسکتاهے اور یه مشترکه اقدار نه فقط اسکی ترقی اور انسانیت کی بقا کے لئے ضروری هے بلکه اپنی زندگی کے تمام جوانب کو بهتر سے بهتر طریقے سے دوسرے انسانوں کے ساته گزارنے کے لئے بهی ایک لازمی امرهےلهذا اس بات سے انکار کی قطعی گنجایش نهیں رهتی که ایک فرد یا معاشره بلکه پوری عالم انسانیت کی فلاح و بهبود کے لئے اقدار انسانی کا وجود اور اس پر عمل پیرا هونا نهایت ضروری هے۔لیکن عصر حاضر کے حالات اور واقعیات کا جایزه لیتے هوئے یهی دیکهنے کو ملتا هےکه دورحاضر کا انسان اپنے حقیقی اقدار سے کافی نیچےگر چکا هے آج انسانیت کے دشمن معیار انسانیت کو بدل کے اپنے شیطانی اور غیر انسانی قدروں کو فروغ بخشنے کی تگ و دو میں هیں صدیوں سے اقدار انسانی کی پیاسی دنیا آج انسانیت کی آخری سانسیں لی رهی هے تاریخ انسانیت کے ورق پلٹنے سے یهی اندازه هوتا هے که عصر حاضرکا ترقی یافته انسان مادی اعتبار سے بهت آگے بڑه کے ستاروں اور کهکشانوں کی سیر کرنے لگا هے لیکن انسانیت کے اعتبار سے روز بروزانحطار اور زوال کی جانب دوڑ رها هے آج روح انسانیت عدالت، حریت، صداقت، شجاعت، همت، ایثار، قربانی، علم، بیداری، وفائے عهد وغیر جیسے کتنے هی حقیقی انسانی اقدار کے لئے تڑپتی هےآج هرانسان کو انسانیت کےان واقعی معیار کی کهوج اور تلاش هےلهذا اس زاویے دور حاضر کے انسان کو اقدار انسانی کی سب سے زیاده ضرورت هے ۔
    اس حوالے سےدورحاضر میں اقدار انسانی کا پرچم بلند کرنے والی عظیم هستی امام خمینی (قدس سره) فرماتے هیں:
    "هم ایسے دور میں زندگی گزار رهے هیں جس میں ظلمت نے چاروں طرف سے گهیر لیا هے۔ هم ایسے دور میں زندگی بسر کر رهے هیں جس میں اقدار انسانی پوری طرح سے تباه اور نابود هوچکے هیں اور بدلے میں غیر انسانی اور شیطانی اقدار نے جگه لی هےهم ایسے دور میں گزر کر رهے هیں جس میں دنیا کے شیاطین انسانوں اور اقدارانسانی پر حمله آور هوئے هیں اور چاهتے هیں که دنیا کو شیطان کے قبضه میں قرار دیں"
    اپنے ایک اور نورانی بیان میں دور حاضر کواقدار انسانی کےمعیار سے خالی دیکهتے هوئے فرماتے هیں:
    "دنیا میں اقدرا انسانی دفن هوچکے هیں (بلکه) انسانیت دفن هوچکی هے"
    اسی طرح عالم اسلام کے عظیم الشان رهبر حضرت سید علی خامنه ای (دام ظله) دور حاضرمیں غیرانسانی اقدار کےتسلط اور اقدار انسانی کے خاتمے کے سلسلے میں فرماتے هیں:
    "دور حاضر جهوٹ، تشدد، هوس رانی اور مادی اقدار کو معنوی اقدار پر ترجیح اور برتری دینے کا دور هے۔ یهی دنیا هے۔ اور یه عصر حاضر سے مخصوص نهیں هے بلکه صدیوں سے دنیا میں معنویت ڈوب رهی هے طاقت ور (انسانوں) نے یهی کوشش کی که معنویت کو دنیا سے ختم کردیں۔
    طاقت ور اور کثرت سے مال و دولت رکهنے والوں نے دنیا میں ایک ایسے مادی نظام کی بساط بچهادی هے جن میں اقدار انسانی کی نسبت سب سے زیاده جهوٹی، دهوکه باز، لاپرواه اور سب سے زیاده بے رحم امریکی حکومت سر فهرست هے اور اسکے حامی دوسرے درجه پر نظر آتے هیں"
    عالم اسلام کے مایه ناز مفکر شهیدمطهری فرماتے هیں: " اقدار انسانی هی انسان کی انسانیت کا معیارهیں انسان کی شخصیت انهیں امور سے وابسته هے"
    پس انسانیت کے اقدار سے دور ی بهرتنے کی صورت میں جب انسان، انسان کهلانے کا حقدار نهیں رهتا اورعالم انسانیت میں ڈوبتے هوئے اقدار انسانی کی ضرورت کے عملی فقدان کو دیکهتے هوئے قطعی طور سے اس بات سے انکار نهیں کیا جاسکتا که دور حاضر میں اقدارانسانی کی حقیقی فهرست کو پیش کیا جائےاور نئے سرے سے اقدار انسانی کی ایک ایسی نمایش گاه کو معرض وجود میں لایاجائے جو نه فقط انسانیت اور اقدار انسانی کا فکری اور نظری ماڈل کهلاتی هو بلکی عملی صورت میں بهی انسانیت اور اقدار انسانی کاایک بے مثال نمونه هوتاریخ کے صفحات کهول کردیکهیں تو اس سلسلے میں کربلا سے بڑهکر اورکوئی معرکه اور نمایش گاه نظر نهیں آتی جو اقدار انسانی کی نظری اور عملی ماڈل کی سو فیصد عکاسی کرتی هو۔
    لیکن کربلا هی کیوں؟
    لیکن تاریخ کے مختلف حوادث، واقعات، تحریکیں اور مکاتب فکر میں اقدار انسانی کو ماڈل کے طور پر پیش کرنے والی نمایش اور تجلی گاه کربلا هی کیوں هے؟ کچه اهم خصوصیات کی وجه سے مکتب کربلا کے اقدار انسانی کی نمایش گاه دوسرے مکاتب فکر سے الک تهلگ هے۔
    الف) ۔کیونکه اقدار انسانی کی بهترین نمایش گاه هے
    اگر پوری تاریخ میں بهی اقدار انسانی کو بهترین شکل میں پیش کرنے والا عملی نمونه ڈهونڈا جائے تو تحریک کربلا سے بڑهکرکوئی انسانیت ساز معرکه نظر هی نهیں آتا جهاں اقدار انسانی کے احیا اور تعمیر نو کے واسطے صرف نظریاتی بحث وتمحیص نهیں کی جاتی بلکه عملی جدوجهد سے ایک ایسی نمایش گاه کی پرده گشائی کی جاتی هے جس کی تاریخ انسانیت همیشه کے لئے مرهون منت رهےگی۔
    بقول شهید مرتضی مطهری: " کربلا معنویت اور معرفت کی نمایشگاه هے انسان اس نمایش گاه میں بشر کی اخلاقی، روحانی اور معنوی عظمت اور طاقت کا اندازه لگایاسکتاهے اور اچهی طرح سے سمجه سکتاهے که انسان کس حد تک جانثار، آزاد، خداپرست، حق طلب اور حق پرست هوسکتاهے۔انسان کے اندر صبرو رضا، تسلیم اور شجاعت، مروت اور کرامت کس قدر ظهور هونے کی طاقت رکهتی هے"
    ب) ۔کیونکه انسانیت کا ایک بے مثال حماسه هے
    کربلا انسانیت کا ایک ایسا بے نظیر معرکه اور حماسه هے جس میں اقدار انسانی اپنی تمام خوبیوں کے ساته پروان چڑهتےهیں
    حسین ایک حماسی شخصیت هے لیکن انسان اور بشریت کا حماسه نه قومیت کا۔ حسین کا گفتار، کردار، جسم و جان سب کچه حماسه هے، تحریک هے، درس هے، طاقت هے، ۔۔۔ حسین انسانیت کا نغمه اور سرورهے اسی لئے بے نظیر هے دنیا میں حسین بن علی کے حماسه کی نظیر پیدا نهیں کی جاسکتی چاهے وه حماسه، طاقت اور قوت کے اعتبار سے هو یا اعلی، منزلت اور انسانیت کے اعتبار سے۔
    جی هاں سانحه کربلا میں امام حسین (ع) کے محاذ کی طرف سے اصول انسانی کی مکمل رعایت دیکهنے کو ملتی هےگر چه دشمنوں کے سپاهی اور سپه سالار تمام انسانی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے تهے ۔ مثال کے طور پر: ایک آدمی پر سارے سپاهیوں کا ملکر حمله کرنا، خواتین اور بچوں پر مسلحانه حمله کرنا، خواتین کو اسیر بنانا، خیمه لوٹنا، امام حسین (ع) کے دوستوں پر پانے لینےکی پابندی لگانا، مقتولین کے سروں کو کاٹنا وغیره وغیره، یه سب غیر انسانی کردار کی جلوه نمایی اور دشمن کی جانب سے جنگی قوانین اور مقرارت کی صریح تنقیض هے ۔ لیکن امام حسین (ع) اپنی تحریک میں تمام اخلاقی اور انسانی اصول کے پابند تهے، کوفه کی جانب روانه هوتے وقت یزید سے متعلق ایک مالبردار قافله کو مصادرکرتے وقت قافله والوں سے کها۔ جو چاهے عراق تک همارے ساته آسکتا هے میں خود هی سفر کا خرچه اداکروں گا میں اچها همسفر بن کے دکهاؤں گا اور جو هم سے الگ هونا چاهتاهے اسکے لئے بهی کوئی رکاوٹ نهیں هے وه الگ هوسکتاهے۔
    ج) ۔کیونکه انسانیت کی تحریک هے۔
    کربلاوالے هر طرح کی ذاتی، نسلی، علاقائی، اور ملکی تشخص سے بالاتر بین الانسانی تشخص کے لئے عملی جدوجهد کرتے هیں۔شهید مرتضی مطهری فرماتے هیں: "چنانچه اس تحریک میں انسان کا دل اپنی شخصیت، ذات پات، نسل، قوم و ملت، علاقه اور ملک کے لئے نهیں جلتا هے حقیقت میں وه اپنی هستی کی بهی پرواه نهیں کرتا بلکه صرف حق اور حقیقت کو دیکهتا هے یا دوسرے الفاظ میں کها جائے که وه صرف انسانیت اور بشریت کو دیکهتا هے"
    دوسری جگه فرماتے هیں: "یه ایک مقدس اور مطلق حماسه هے مطلق اس اعتبار سے هے که کسی ایک ملت یا قوم کے لئے مخصوص نهیں هےبلکه اس سے بڑهکر راه خدا لے لئے هے یعنی خلقت کے کلی اهداف سے هم آهنگ هے اور مقدس اس اعتبار سے هے که کسی ذاتی فائیدے یا مقام و منصب کے لئے نهیں هے بلکه انسانیت کے مقدسات کے لئے هے، راه توحید میں انسان پرستی کے خلاف عدل و آزادی اور مظلوموں کی حمایت کے لئے هے اس اعتبار سے ایک حماسه الهی هے، حماسه جهانی هے، حماسه انسانی هے"
    علامه محمد تقی جعفری تحریک کربلا میں اقدارانسانی کو عروج بخشنے والوں کو تاریخ انسانیت کی روح اور حیات سے تعبیر کرتےهوئے فرماتےهیں۔
    "دنیا میں جس چیز کو بهی دیکها جائے وه ایک دوسرے کے ساته ملانے سے زیاده هوجاتی هیں سوائے روح انسانی کے۔کیونکه اگرروح انسانی واقعی معنوں میں ایک دوسرے سے مل جائیں انکی وحدت زیاده طاقت ور هوجاتی هے۔همیں کربلا کے بهتر آدمی کو بهترنهیں کهنا چاهیے بلکه ایک آدمی کهنا مناسب هوگا اور وه ایک آدمی تاریخ انسانیت کی روح هے۔"
    ه) ۔کیونکه عظمت الهی اور انسانی کا کامل نمونه هے
    کربلا کے اس عظیم معرکه میں حسین (ع) اقدار انسانی کی سربلندی اور بقا کے لئے اپنی اور اپنے اصحاب و اقرباء کی جانیں نثار کر رهے هیں نه کسی ذاتی منصب اور مقام کے لئے۔اسی لئے کربلا والوں کو یاد کرنا انسانیت کو یاد کرنے کے برابرهے۔ عبدالله عائلی کهتا هے:" اگر هم عظیم اور صاحب شخصیت افراد کے درمیان کسی ایک کو برتری دیتے هیں تو اسکا مطلب صرف یه نهیں هے که هم نے ایک عظیم انسان کوباقی دوسری شخصیات پرمقدم رکها بلکه ایک ایسی عظیم شخصیت کو ترجیح دے رهےهیں که دوسری ساری با عظمت شخصیات کا مرتبه اس سے نیچے هے، ایسے شخص کو برتری دے رهے هیں جو هر شخصیت سے بالاتر هے۔۔۔یه تقدم اور برتری کوئی نیا کام نهیں هے بلکه تاریخ کی جن شخصیات کو بهی هم جانتے هیں انهوں نے اپنی ساری عمریں زمین کے حقائق کی عظمت اور بزرگی کی تحصیل میں فنا کی لیکن حسین (ع) نے اپنی جان اقدار انسانی اور عظمت آسمانی کی راه تحصیل میں قربان کی، ایسا شخص سب سے برتر هے۔
    هم سب بهت ساری شخصیتوں کو پهچانتے هیں جن میں هر کوئی ایک جهت سے با عظمت هے کوئی شجاعت کے لحاظ سے، کوئی جوانمردی کے اعتبارسے، کوئی زهد میں تو کوئی ایثار اور قربانی میں، کوئی علم میں تو کوئی دانائی کے لحاظ سے، لیکن عظمت اپنے تمام جوانب اور نوعیت کے ساته حسین بن علی میں منحصرهوئی هے ۔۔۔ وه ایسا مرد هے جو محمد کی نبوت، علی کی جوانمردی، اور فضیلت فاطمه کی عظمت سے وجود میں آیا هے وه عظمت اور اقدار انسانی کا نمونه هے۔پس اسکی یاد یا حالات کا تذکره کرنا نه فقط ایک عظیم انسان کی یاد یا تذکره کرنا نهیں هے بلکه جاویدانه انسانیت کی یاد اور تذکره کرنے کے برابرهے۔ آپ کی تاریخ فقط انسانی اقدار کے بهادرانسان کی تاریخ نهیں هے بلکه بے مثال تاریخی بهادرانسان کی تاریخ هے۔"
    ط) ۔کیونکه اقتدارحیوانی پر اقدارانسانی کی کامیاب تحریک هے۔
    کربلا والے اقدار انسانی کے ذریعه سے حیوانی اقتدار کو کچل کے انسانیت کو همیشه کے لئے سربلند کرتے هیں اور چند گهنٹوں میں همیشه رهنے والے اقداروں کا بیمه کرکے ابدیت کی جانب کوچ کرتے هیں حسین درس انسانیت دے رهے هیں۔ ایسے دروس هیں جو حسین (ع) کی پوری سوانح حیات کے لحظه لحظه میں پائے جاتے هیں اور یه کتنے متنوع دروس هیں! اگر کوئی یه کهے که اس معین مدت میں تاریخ انسانیت کے تمام اقدار ایک طرف اور غیر انسانی اقدار کی فهرست دوسری طرف ظهور هونے لگی هے تو شک و تردید کی کوئی گنجایش نهیں هے۔ لیکن کبهی انسان سوچتاهے که وقت کم هے ایک یا دو دن کا حادثه هےوقت کی قلت کو نهیں دیکهنا چاهیے کبهی لحظه بهی ابدیت کی خوشبو دیتے هیں۔
    امام حسین (ع) خود بهی اپنی تحریک کے منشور کو احیائے اقدار الهی اور انسانی هی بتلاتے هیں:
    "الاوانّ هؤلاء قد لزموا طاعه الشیطان و ترکوا طاعه الرحمان، و اظهروا الفحشاو عطلوا الحدود، واستأثروا بالفی، و احلوا حرام الله و حرموا حلاله وا نا احق من غیره"
    "خبر دار اس قوم (بنی امیه) نے شیطان کی اطاعت اپنے اوپر فرض کرلی هے اور خدا ی رحمن کی اطاعت کو ترک کردیا هے، فحشا کو ظاهر کردیا هے اور حدود الهی کو معطل کردیا، خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیا اور میں اس بات کا زیاده سزاوار هوں که میں اس وضعیت کو تبدیل کروں"
    "اللهم انک تعلم انّه لم یکن ما کان منّا تنافسافی سلطان ولا التماسا من فضول الحطام، ولکن لنری المعالم من دینک و نظهر الاصلاح فی بلادک و یأمن المظلومون من عبادک و یعمل بفرائضک و سسنک و احکامک"
    "اے خدا! تو جانتا هے هم جو اظها ر کررهے هیں وه نا هی سلطنت حاصل کرنے کے لئے هے اور ناهی حقیر دنیا کی دستابی کے واسطے هے بلکه هم چاهتے هیں که تیرے دین کی نشانیاں استوار هوجائے، تیری سرزمین کی اصلاح هوجائے ترے مظلوم بندے امنیت حاصل کریں، تیرے فرائض، سنت اور احکام کی اجراهوجائے"
    پس اطاعت شیطان، بدکاری اور فساد کی ترویج، حرام اور برائی کو عام کرنا وغیر سب کوغیر انسانی اقدار کے عنوان سے یاد کرتے هیں لیکن بدلے میں ظلم ستیزی، مظلوموں کی حمایت، امنیت، عدالت اور حقوق و فرائض وغیر اجرا کرنے کو انسانی قدروں کا نام دیتے هیں جسے حسین بن علی علیه السلام دشت کربلا میں اپنے خون سے احیا کرکے انسانیت کو همیشه کے لئے اپنا مدیون اور مرهون منت بناتے هیں۔
    پس ان سب دلائل کی بنا پرمکتب کربلاکو هی اقدار انسانی کی نمایش گاه کے طور پر بیان کیا جا نا چاهیے تاکه صحیح معنوں میں اقدار انسانی کی عظمت اور منزلت کا اندازه هوجائے۔
    پهلی فصل
    ایثار وقربانی
    اقدار انسانی کے سب سے اهم ترین قدر و مرتبه میں ایثار اور قربانی کی اهمیت کا اندازه لگانا بهت هی مشکل هے شاید یه کهنا غلط نهیں هوگا که انسانی قدروں میں ایثار اور قربانی بنیادی کردار نبهاتاهے ایثار هی باقی دوسری انسانی اقدار کا منشأ قرار پاتاهے یه ایثار هی هے جو انسان کے اندر حق طلبی، عدالت طلبی، ظلم ستیزی، استقامت، شجاعت،، همت اور وفاداری جیسے اقدا ر انسانیت کو جنم دیتاهے ۔ایثار اور قربانی سے مراد یه هے که انسان هر لحاظ سے اپنی ذات پردوسروں کو برتری دے ۔ اور جب تک انسان اپنے آپ پر انسانیت، حقیقت اور دوسرے انسانی مفاهیم کو ترجیح نهیں دے گا تب تک واقعی سعادت اور حقیقی کمال حاصل نهیں کرسکتاهے کیونکه انسان اور راه سعادت کے درمیان جو حجاب پائے جاتے هیں وه اسی ایثار اور قربانی کی وجه سے هی دور هوجاتے هیں۔ کربلا اسی ایثار اور قربانی سے بهری هوئی ایک ایسی نمایش اور تجلی گاه کا نام هے جهاں حقیقت اور انسانیت کو قائم کرنے کیلئے اپنی محبوب سے محبوب ترین چیز کوبهی قربان کیا جاتا هے حسین (ع) اور آپکے احباب انسانیت اور حقانیت کو زنده کرنے کیلئے ڈهیر ساری قربانیاں دیتے هیں اپنے بے تحاشه اور بے مثال ایثار کا مظاهره اسی لئے تو کرتے هیں که انسان عزت اور آبرو مندانه زندگی گزار سکے۔حسین (ع) اپنے قیام کے دوران جگه جگه فرماتے هیں که میری دعوت اسی قربانی اور ایثار په استوار هے مکه سے کوفه کی جانب روانه هوتے وقت فرماتے هیں:
    "من کان باذلا فینا بهجه وموطنا علی لقاء الله نفسه فلیرحل معنا"
    "تم لوگوں میں سے جو بهی همارے راستے میں قربانی دینے اور وصال خدا کے واسطے اپنی جان فدا کرنے کے لئے آماده هےوه همارے ساته روانه هوجائے"
    فیلسوف زمان حضرت علامه جوادی آملی (دامت برکاته) تحریک کربلا کے ایثار اور جانثاری کے بارے فرماتے هیں: "کربلا کی عرفانی اور معنوی پهلوکے برجسته نمونے ایثار مال اور جان نثاری هے بنیادی طور سے اگر دیکها جائے توتحریک حسینی اسی بنیاد پر استوار هے"
    "امام حسین (علیه السلام) نے کربلا کی جانب حرکت کرتے وقت شریف جانوں اور نفیس اموال کو ایثار کے لئے اکٹهےکیا اور کربلا پهنچے پر اپنے دامن کوجهاڑکے سب کچه اپنے محبوب کی خوشنودی کے لئے پر خلوص انداز میں نثار کیا"
    مکتب کربلا ایثار اور جانثاری کے بے مثال نمونوں سے مالامال هے یهاں اختصار کے ساته چند نمونوں کی جانب اشاره کرتےهیں۔
    ۱ لف) حضرت عباس کا پانی تک پهنچ جانا لیکن امام حسین (ع) اور اهل حرم کی پیاس یاد آتے هی پانی پینے سے صرف نظر کرنا۔
    ب) آپکے اصحاب نےشب عاشورا میں جومحبت اور جذبه دکهایا اور اسی طرح روز عاشورا جب تک زنده رهے اس بات کی فرصت هی نهیں دی که بنی هاشم میں سے کوئی ان سے پهلے میدان جنگ میں چلا جائے اور اسی طرح جب تک بنی هاشم زنده تهے انهوں آنحضرت کو میدان جنگ میں جانے نهیں دیا۔
    ج) ظهر کے وقت اصحاب امام حسین کے دو ساتهیوں کی جان نثاری۔ جوآنحضرت کی اقامه نماز کے لے سپر بنے رهےاور شهادت کے درجه پر فایز هوگئے۔
    د) جناده بن کعب انصاری کی زوجه گرامی باوجود اسکے که صبح عاشورا حمله کی شروعات میں هی آپ کے شوهر شهید هوجاتے هیں اپنے گیاره ساله بیٹے کو تیار کرکے میدان جنگ میں بهیج دیتی هے اور جب دشمنوں نے آپکے بیٹے کے کٹےهوئے سر کو آپ کی طرف پهینکا اسے اٹها کر دشمن کے کسی ایک سپاهی پر دے مارا اور اسے هلاک کردیا(شاید یه اس بات کی طرف اشاره هو که راه خدا میں دی هوئی چیز کو هم واپس نهیں لیتے۔
    اقدار انسانی کا یه اعلی نمونے زمان ومکان کی سرحدوں سے بالاتر هر دور، هر جگه اور هر نسل کے لئے ایثار اور قربانی پیغام دے رهے هیں دور حاضر میں کسی بهی انسانیت ساز کام کو انجام دینے کے لئے ایسا ایثار اور قربانی کے جلوے کهاں ملیں گے آج زمانه ایثار کے ایسے اعلی انسانی اقدار کے واسطے تڑپ رها هے آج همیں کربلا کے ایثارگروں کو نمونه عمل بنا کے انسانیت کے اونچے درجات پر فائز هونا چاهیے۔
    اچهائی کی ترویج اور برائی کی روک تهام
    ایک انسانی معاشرے اور سوسائٹی کے اندر زندگی بسر کرنے والے افراد تب تک آداب وتربیت انسانی کے لحاظ سے رشد ونمو نهیں کر سکتے جب تک وه معاشره اورسوسائٹی نیکی اور اچهائیوں سے مملو اور برائیوں سے خالی نه هوکیونکه گهر کے علاوه سماج اورگردونواح کا ماحول بهی انسان کی تربیت اور تهذیب پر اثر انداز هوتا هے اسی لئے جب تک معاشره اور سوسائٹی منکرات اور برائیوں میں ڈوبا هوا رهے تب تک وه معاشره انسانی فلاح اور بهبودی کے راستےکو طےنهیں کرسکتا اسی لئے معاشرےمیں اچهائی کی ترویج اور برائی سے روک تهام کرنے والے عظیم انسانی اقدار کی ضرورت هوتی هے یه بهی فطرت کے سایه میں هی معرض وجود میں آتے هیں کربلا والوں کی اصطلاح میں اسے امر به معروف اور نهی از منکر سے یاد کیا جاتا هے کربلاکی عظیم الهی اور انسانی تحریک کا منشور اور دستور العمل هی یهی هے:
    (ارید ان امر بالمعروف و انهی عن المنکر)
    " میں معاشرے میں اچهائی کی ترویج اور برائی سے روک تهام کرنے کی غرض سے قیام کرتا هوں"
    حسین (ع) کی نص نص میں نیکی اور اچهائی بسی هے آپ کی پسندیده انسانی کاوش هی یهی هے اسی لئے فرماتے هیں:
    "اللهم انی احب المعروف وانکر المنکر"
    "خدایا میں معروف کو پسند اور منکر کو ناپسند کرتا هوں"
    امام حسین میدان منی میں اصحاب اور تابعین کی ایک جماعت کوامر به معروف اور نهی از منکر کرنے کی رغبت دلاتے هیں اور اسے دعوت عمومی کی صورت میں بیان کرتےهوئےاسکی اهمیت اور عمل کرنے کی ضروت کا اعلان کرتے هیں۔پهر علماء کی ذمه داریاں بیان کرتے هوئے ظالم حکمران کے خلاف قیام کرنے اور حکومت کے اصلاحی پهلو پر روشنی ڈالتے هیں اور اس معاملے میں علماء کی کوتاهی اور سهل انگاری کے ناقابل جبران اور زیان آور آثار اور نتائج کی یاد دهانی کراتے هیں۔
    نیکی اور اچهائی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا گر چه بذات خود دسرے اقدار انسانی کے واسطے ایک وسیله اور ابزا شمار هوتا هے لیکن دقت نظر سے دیکها جائے تو اسکا سرچشمه چونکه انسانی فطرت هی هے لهذا اسے بهی ان اقداروں میں شامل کیا جاتا هے۔
    نهضت کربلا کے سفیر مسلم بن عقیل کوفه میں ابن زیاد سے کهتے هیں:"تم لوگوں نے نیکی اور اچهائی کو دفناکے معاشرے کے اندر برائیوں کوجنم دیا هم اسلئے آئیے که نیکی اور اچهائی کو زنده کرکے منکرات کی ریشه کنی کریں"
    اقدار انسانی کے اس فطری حقیقت کو احیا کرنے کی گواهی هم بار بار زیارت امام حسین (ع) میں دیتے هیں:
    "اشهد انک قد اقمت الصلاه وآتیت ا لزکواه وامرت بالمعروف ونهیت عن المنکر"
    "میں گواهی دیتا هوں که آپ نے نماز قائم کی، زکوه ادا کی اور امر به معروف اور نهی از منکر کیا"
    دروحاضر میں سامراج اور انسانیت کے دشمنوں نے معیار انسانیت کے معیار کو الٹا کرکے رکهدیا هے برائیوں کی ترویج بڑے دهوم دهام سے هوتی هے برائی کی ترویج کے لئے سامراجی اور استعماری طاقتوں نے هر طرح کے امکانات دستیاب کر کے رکهےهیں آج استعماری طاقتیں برائی کو عام کرنے کے واسطے باضابطه طور پر پارلمنٹ میں بجٹیں پاس کروایی جاتی هے اورجهاں بهی انسانیت کا نام زنده هوگا وهاں په اسکی سرمایه گزاری کی جاتی هے تاکه غیر انسانی اقدار پوری دنیا په چها جائے اور اسطرح سے وه اپنے حیوانی اغراض اور مقاصد بهی حاصل کرسکیں۔ آ ج نیکی اور اچهائی کو دفنا یا جا رهاهے دنیاپهر سے کسی حسین کی تلاش میں هے جو اپنا خون دل بهاکے اقدار انسانی کو شرمسار هونے سے بچا سکےآج انسانیت تقاضا کررهی هے که کربلا والوں کے اقداروں کواپنایاجائے تبهی استعمار اور سامراجی طاقتوں کے هتهکنڈوں کامنه توڑ جواب دیا جا سکتا هے۔
    حدود الهی کی پاسبانی
    کربلا ایسے انسانوں کی تربیت گاه هے جو حدود الهی کے محافظ اورقوانین انسانیت کے پاسباں هیں حسین (ع) حدود الهی کی محافظت کے اعلی درجے په فائز هےکمال و سعادت کے اعتبار سے انسان جتنا اونچے درجے په فائز هوگا اتنا هی حدود الهی کا لحاظ رکهتا هوگا اور ایسا انسان دوست و دشمن دونوں کے سامنے یکسان حالت میں حدودالهی کی رعایت کرتا هے اور دوسری طرف انسان جتنا هی انسانیت کے درجے سے گر چکا هو اتنا هی حدود الهی کی مخالفت کرتا هے اور کسی بهی قانون کی رعایت نهیں کرتا حسین (ع) اور اسکے ساتهی اس انسانیت سازتحریک کے دوران انتهائی حد تک حدود الهی کی حفاظت کرتے هیں اور بد لے میں دشمن اپنی پستی اورگراوٹ کی وجه سےتمام حدود الهی کے دائروں کو توڑ کے اپنی حیوانیت کا ثبوت پیش کر رهاهے حسین (ع) دشواراور سخت ترین حالات میں بهی اپنے اصول کے پابند هیں چنانچه خانه کعبه کی بقا ئےحرمت کی خاطر مکه سے باهرنکلتے هیں اور امام کوکوفه کے بدلے یمن جانے کا مشوره دینے والا عبد الله بن عباس سے فرماتے هیں:
    "لان اقتل بمکان کذا احب الی من ان استحل بمکه"
    "میں مکه کے اندر رهنے کے بجائے مکه سے باهر هوکے قتل هونا زیاده پسند هے"
    اور اسی طرح عبد الله ابن زبیر کے جواب میں فرماتے هیں: "میں نهیں چاهتا که میرے قتل سے خدا کے گهر کی حرمت شکنی هو میں مکه سے دور هوکے مرنا پسند کرتا هوں اگر چه دو هی قدم کیوں نه هوں"
    حسین (ع) کے بیانات اس بات کی عکاسی کر رهے هیں که حدود الهی کی رعایت اور محافظت هر چیز پر مقدم هے بنیادی طور سے اگر دیکها جائے توحسین (ع) کا قیام ان هی حدود الهی کے احیاء کیلئے تها اس وقت حدود الهی کو پاؤں تلے روند کے کسی بهی حرمت کا لحاظ نهیں رکها جاتا تها الهی اورانسانی قدریں دونوں کو پائمال کرکے اقدار شیطانی کو فروغ بخشا جاتا تها حسین (ع) انهیں اقدار کو احیاکرنے اور انهیں حدوو اور حقوق کو اجرا کرنے اور انکے تحفظ کے واسطے قیام کرتے هیں اس سے صاف واضح هوتا هے که تحریک کربلا کی جدوجهدکا مقصد یهی هے که اقدار الهی کے سائے میں نشأت پائے جانے والے اقدار انسانی کی پاسداری اور محافطت هوتاکه انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جائےدورحاضر میں ایسے اعلی اور بلند اقدار پر عمل کرنے کی اشد ضرورت هے کیونکه آج کے دور کا انسان نه صرف اقدار اور حدود الهی اور بشری کی خلاف ورزی هی نهیں کرتا بلکه اپنے ذاتی اورشخصی حدو حدود سے تجاوز کرکے تمام رسوائی اور ذلتوں کو قبول کراتا هے آج انسانیت اس بات کاتقاضا کررهی هے که انسان اپنی اور اپنے قوم و ملت کے اقداراورمرتبے کو اقدارکربلائی بنائے جهاں حدود الهی کے سایه میں پرورش پانے والا انسان، انسانیت کے اعلی مقام اور مرتبه پر فائز هوتا هے۔
    تقوی اور پرهیزگاری
    انسان کی زندگی تبهی قدرو قیمت کی حامل هے جب وه برائیوں اور نازیبا کاموں سے پر هیز کر کے انسانی، اخلاقی کرامت اور فضیلتوں کی پیروی کرے اور یه سب کچه ایسی صورت میں ممکن هے جب وه تربیت اور تهذیب نفس کی کوشش کرتارهے اور اپنے آپ کو همشه انحرافات اور منکرات سے دور رهنے کی نه صرف ذهنی تلقین کرے بلکه عملی میدان میں بهی اس بات کا ثبوت پیش کرے جی هاں اسی کا نام تقوی هے یه اقدار الهی کی جلوه نمایی کرتی هے تقوا کی شعاعوں میں هی سرزمین کر بلا پر اقدار انسانی کی نمایش گاه تعمیر هوئی اقدار الهی اور انسانی کی اس تحریک میں حصه لینے والوں کی زندگی کا شعار تقوی هے تقوای الهی کے پیکر اور انسانیت کے انمول گوهرحسین (ع) فرماتے هیں:
    "اوصیکم بتقوی الله واحذرکم ایامه"
    "میں تمهں تقوی الهی کی وصیت کرتا هوں اور روز حساب سے ڈراتا هوں"
    "اوصیکم بتقوی الله فان الله قد ضمن من اتقاه ان یحوله عما یکره الی مایجب لله"
    "میں تمهیں تقوی الهی کی وصیت کر تا هوں تقوای الهی اختیار کرنے والے شخص کا ضامن خدا هے وه اسکی ناپسند چیزکو، پسندیده چیز کی طرف پلٹادیتا هے"
    شهید مطهری فرماتے هیں: ایک عمومی معنی کے اعتبار سے تقوا هر آدمی کی زندگی لازمی جز هے جو شخص بهی انسان کی طرح رهنا چاهتا هے اور عاقلانه زندگی میں کچه معین اصول کی پیروی کرنا چاهتاهےاسکے اندر تقوا کا ملکه هونا چاهیے اس اعتبارسےتقوا کا حساب بهی اقدار میں هی کیا جانا چاهیے لهذا انسان کے اندر جتنا زیاده تقوا اور پرهیزگاری کا مادهوگا اتنا هی وه دوسرے انسانی قدروں کا پابند هوگا انهیں هر حال میں زنده رکهنے کا متعهد هوگا گویا تقوا دوسرے اقدار انسانی کے واسطے اجرائی ضمانت کی حیثیت رکهتا هے۔
    یه تقوااور پر هیز گا ری هی هے جوانسان کو معنوی اور اخلاقی لحاظ سےهوا وهوس کی رقت اور بندگی سے آزادکر تی هے اورهواے نفس سے آزادهونےکے بعد هی اسکی معاشرتی زندگی میں بهی حریت اور آزادی کا انقلاب پیدا کر دیتی هےکیونکه معاشرتی اور سماجی رقت اور بندگی، معنوی رقت اور بندگی سے هی وجود میں آتی هے جو شخص مقام اور منصب کا غلام هو گاوه سماجی منصب اور مقامات سے آزاد هو کر زندگی نهیں گزار سکتا هے بلکه مقام اور منصب کی دست یابی کی خاطر کوئی بهی گنو نا کا م انجام دے سکتا هے پس درواقع تقوا انسان کو هر قید وبند سے آزاد کراتا هے۔ اسی لئے امیر المؤمنین علی (ع) بهی فرماتے هیں: "تقوا هر گرفتاری سے آزادی اور هر تباهی سے نجات کا ذریعه هے"
    تقوامحدودیت نهیں هے بلکه مصونیت اور حریت کا نام هے ۔حسین (ع) نے اپنی تحریک انسانیت میں تقوا کو حقیقی مفهوم اور معنی عطا کیا اورعملی ثبوت دے کے بنی نوع انسان کودکهایا که اسلام جس تقوا کا داعی هے اسکی حقیقت کیا هے۔عصر حسین کےایک برجسته فقیه اور بے نظیر عالم ابو سعید خدری آنحضرت کو مکه میں رهنے کی تلقین کرکے باطل کے خلاف قیام نه کرنے کو تقوا کهتا هے
    اور اسی طرح عبد الله بن عمر، حسین (ع) کو یزید سے بیعت کرکے اپنی جان بچانے کوهی تقوا کهتا هے۔بالکل آج کے اصلاح طلب افراد کی طرح جو امریکه جیسے باطل اور ظالم حکمرانوں سے رابطه برقرار رکهنے اور اسکے باطل غرور کے سامنے سرجهکانے کو هی عزت اور وقارسمجهتے هیں اور انکے نقطه نگاه سے امریکه اگرچه انسانیت اور اسلام کا دشمن هے لیکن عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکهتے هوئے اسکی بیعت کرنے کے سوا کوئی چاره نهیں هے لیکن مکتب انسانیت کو پروان چڑهانے والےحسین (ع) شدت سے اس دعوت کو رد کرتےهوئے ایسے منفی اور بزدلانه تقوا کی سخت مخالفت کرتے هیں:
    "اف لهذاالکلام ما دامت السماوات والارض"
    عبد الله بن عمرکے جواب میں فرماتے هیں: "مجهے ایسی دعوت پر افسوس هے جب تک زمین وآسمان قائم هے میں هرگز ایسا نهیں کرسکتا"
    یعنی تقواهواے نفس کے بر عکس عمل کرنے کا نام هے تقوی اپنے آئین اوراصول کی پیروی کرنے کا نام هے جهاں ذلت اورپستی کی کوئی جگه نهیں هے یا دوسرے الفاظ میں یوں کها جائے که جس تقوا کی بات عبد الله بن عمر کررها هے وه ذلت، رسوائی، خوف اور بزدلی جیسے منفور الفاظ اور شیطانی وسوسوں پر قائم هے لیکن جس تقوی کی تشریح حسین (ع) کررهے هیں وه مصونیت، حریت، بصیرت، قوت اور عزت جیسے انسانی قدروں کو اپنے اندر سمیٹے هواهے تاریخ گواه که عبد الله بن عمر اپنے بے منطق اور بے معنی تقوی کی وجه سے بهت رسوا هوا جهاں وه امام علی کے زمانے میں بیعت سے منه موڑ کے خود کو قاعدین میں شمار کرتا هےوهیں وه رات کے اندهیرے میں اپنے بے معنی تقوا کی وجه سے حجاج بن یوسف ثقفی کے هاته کے بجائے پیر پر بیعت کرتا هے اسی وجه سےهمیشه کیلئے صفحه تاریخ سے مٹ گیاکیونکه اسکا تقوا اسکی ترجمانی نهیں کرتا تها لیکن حسین (ع) زنده هے کیونکه آپکا خالص تقوا آپکی حیات کا ضامن هےآپکاتقوا اقدار انسانی کا ترجمان هے آپ تقوای الهی کے رو میں ظلم اوربربریت کے خلاف قدعلم کرکے انسانیت کو همیشه زنده رکهنے کی جدوجهد میں مصروف هیں اسی لئے انسانیت همیشه حسین (ع) کو یاد کرتی رهے گی۔
    عصر حاضر کے انسان کو حسین (ع) کے حقیقی تقوا کی ضرورت هے اگر انسان اپنی کرامت، عزت اور حریت کا طالب هے تو اسے حسینی تقوا کو اپنانا هوگا ایسی صورت میں وه نه فقط اپنے آپ کو حریت اور عزت عطا کرسکتاهے بلکه پوری انسانیت کو بے تقوا اور غلامی کی قیدوں سے نجات دلا سکتاهے عصر حاضرمیں اگر اس کی مثال امام خمینی کی صورت میں پیش کی جائے تو بیجا نه هوگا جی هاں آپ نے مکتب حسینی کی روشنی میں نه فقط اپنی قوم بلکه پوری دنیا میں انسانیت کا نغمه گوایا عالم انسانیت کبهی امام خمینی کو بهول نهیں سکتی یه اسی مکتب کربلا کے ایک ادنی شاگرد تهے۔
    وسیله اور هدف میں تطابق
    اپنی خلقت کے اعتبار سے انسان بهت هی اونچے اور بلند اهداف کا مالک هے جن میں سب سے اهم هدف اسکی دینی اور انسانی تربیت هے ان اهداف کے حصول کے کئے بهت سارے وسائل اور ابزار موجود هیں جن میں کچه جایز اور مشروع هیں اور بعض دوسرے ناجایز اور غیرمشروع هیں مذهب اور ایک خاص تهذیب سے بالاتر انسان بما هو انسان کی انسانیت یهی تقاضا کرتی هےکه ان اهداف کی رسائی کے لئے مشروع وسائل سے استفاده کیا جائےکسی بهی انسانی معاشرے میں اهداف اور وسیله کے اس تطابق اور سنخیت کو ضرورملحوظ نظر رکها جاتا هے انسان کوقطعی طور سےاس بات کی اجازت نهیں هےکه وه اپنے اهداف کی رسائی کے لئے هرجایز اور ناجایز وسیله کا استعمال کرے۔
    کربلا اس امر کی ایک روشن نمایش گاه هے جهاں مقدس اور پاکیز الهی اور انسانی اهداف کے خاطر وسیله اور ابزار بهی پاکیز اور مشروع هیں کربلا والوں کی نقطه نگاه میں آداب انسانی کی احیا کی غرض سے کسب قدرت کیلئے جهوٹ، دهوکه بازی اور خیانت کا سهارا نهیں لیا جاسکتا اجتماعی اور سیاسی اصلاحات کو اجرا کرنے کیلئے ظلم وستم سے کام نهیں لیا جا سکتا لوگوں کی هدایت کیلئے دیکٹیٹر شپ (DECTATARSHIP) اور آمریت نهیں اپنایی جاسکتی، دینداری کی ترویج کیلئے بے دینی اور سچائی کے تحقق کیلئے جهوٹ کا سهارا نهیں لیا جاسکتا۔
    حسین (ع) جب کربلا کے سفر کے دوران عبید الله بن حر جعفی سے مدد کی خواهش کرتے هیں لیکن وه عظمت حسینی کے اقرار کے باوجود موت کے خوف سے صرف اپنا گهوڑا اور شمشیر دے کے امام کی مدد کرنا چاهتا هے ایسے میں امام وه سب کچه لینے سے انکار کرتے هوئے فرماتے هیں: "جب تو همیں اپنی جانی مدد کرنے سے انکار کرتا هے تو همیں تمهارے مالی تعاون کی بهی ضرورت نهیں رهتی اور آیه مبارکه{وما کنت متخذ المضلّین عضدا} "میں نے هرگز گمراه هوئے انسانوں کو اپنایا رومددگار نهیں بنایا" کی تلاوت کرکے اپنے موقف کو واضح کردیا که اهداف متعالی کے خاطر هم صرف ایسے وسائل کا استعمال کرسکتے هیں جوانسانیت کے لئے جایز اور مشروع هوں همیں اقدار انسانی کی بقا کی خاطر خون کی ٖضرورت هے نه تلوروں اور نیزوں کی، همیں انسانی قدورں کے تحفظ کے لئے جانیں دینی هیں نه جانیں لینی هیں۔
    اور اس حوالے سے سفیر حسین، مسلم بن عقیل کا وه انسانیت ساز عمل اس بات کی ایک زنده مثال هے جب وه هانی بن عروه کے گهر میں اسکے کهنے په چوری چهپے عبید الله بن زیاد پروار کرکےاسے همیشه کیلئے موت کی نید سلا سکتےتهےلیکن مسلم بن عقیل نے ایسا نهیں کیا اور هانی ابن عروه سے کها که رسول نے فرمایا هے: " که مومن آدمی کسی کو چوری چهپے نهیں مار سکتا" اگرچه عبید الله بن زیاد کے مرنے سے ایک فاسق اورفاجر انسان کا خاتمه هوجاتا اور انسانی قدروں کو فروغ بخشنے والی راه سے بهت بڑا مانع بر طرف هوجاتا اور بذات خود یه ایک مقدس اور نیک کام تها لیکن وسیله نا مشروع هے وسیله ٹرو رسٹی هےجوایک غیرانسانی اور شیطانی وسیله هے اور تحریک حسینی میں پروان چڑهنے والا اقدارانسانی کا محافظ هرگز ٹرورسٹ نهیں هوسکتا۔
    جب ابن زیاد کی طرف سے حر کو قافله حسینی پر زیاده سختیاں کرنے کا فرمان پهنچتاهے، زهیر بن قین امام سے عرض کرتے هیں: خدا کی قسم جو سپاهی انکے بعد آئیں گے انکی تعداد ان سے کهیں زیاده هوگی آپ اجازت دیجئے هم یهی پر انکا کام تمام کریں گے ۔ آپ نے فرمایا: میں جنگ کی شروعات نهیں کروں گا۔
    اسی طرح جب آنحضرت وارد کربلا هوتے هیں تو اس سرزمین کو ساٹه درهم کے عوض اپنے اور اپنے پیروکاروں کے واسطے خریدلیتے هیں روایت میں آیا هے که امام حسین (ع) نے اهل نینوا اور غاضریه سے مقتل اور اسکے گرد نواح کی زمین کو ساٹه درهم کے عوض خریدا هے، پهر اس زمین کو انهیں واپس بخشتے هوئے فرمایا که اسکے بدلے میں آپکے زائرین کی راهنمائی کیا کریں اور تین دن انهیں اپنا مهمان بنایا کریں۔
    دیکهئے امام حسین (ع) کتنی دقت سے اپنے هدف کو آگے بڑهارهے هیں انسانیت سے گرے هوئے آدمیوں کی طرح ناجایز قبضه نهیں جماتےبلکه چند دن کے قیام یا جنگ کے لئےبهی پهلے اس سرزمین کو خریدتے هیں۔
    کربلا کی انسان ساز تحریک میں ایسے بهت سارے نمونےمل جائیں گے جوهر حال میں اپنے حصول اهداف کے لئے مشروع وسیله کا هی استعمال کرتے هیں۔
    لیکن صد افسوس که عصر حاضر کا ماکیاولیسٹ انسان هوای نفس کی آگ بهجانے کے واسطے اپنے جایز اور ناجایزاهداف تک پهنچنے کیلئے هر طرح کے مشروع اور غیر مشروع وسیله کا استعمال کرنے سے نهیں اترتا ۔ آج انسانیت کے دشمن اپنے شیطانی اقداروں کو ترویج بخشنے کی غرض سے هر طرح کے وسیله کا استعمال کرتاهے وه انسانیت سے کوسوں دور هیں دنیا میں انسانی اقداروں کے ایسے بے مثال رکهوالےکهاں دیکهنے کو ملتے هیں جو جنگی اور فوجی قوانین میں بهی دشمن کو فریب اور دهوکه نهیں دیتے عصر حاضر کے استعماراور سامراج نے ان اقداروں کا گلاگهونٹ کے رکه دیا هے جو اپنی غیر انسانی اغراض اور مقاصد کی خاطر نه فقط انسان بلکه انسانیت کو بهی دهشت گردی اور ٹرورسٹی کا نشانه بناتی هے دوسرے ممالک پر چڑهائی کرکے جابرانه اور غاصبانه قبضه جماتی هے کیا وه وقت نهیں آیا که انسان تحریک حسینی میں آکے هرجهت سے انسانیت کے معیار کو ملحوظ نظر رکه کے فوجی، سیاسی، تهذیبی، سماجی یا دوسرے الفاظ میں کها جائے که انسانیت کی مشق کرے تاکه عصر حاضر کے حسینی قدروں کویزید خصلتوں سے جدا کرسکے۔
    علم و بیداری
    علم اور بصیرت ایک ایسی انسانی صفت هے جو انسان کو صحیح معنوں میں زندگی کرنا سکهاتی هے جو شخص علم وآگاهی په عمل کرکے زندگی گزارتا هے وه هر میدان میں کامیاب نظر آتا هے اور جو شخص جهالت اور نادانی سے کسی کو انجام دیا جاتا هے وه نه صرف قدر و قیمت کی حامل نهیں هوتی بلکه انسان کی تباهی اور بربادی کا سبب بنتی هے۔مرحوم علامه اقبال بصیرت اور علم و آگاهی کے انسانی گوهر کے حوالے سے فرماتے هیں:
    آدم از بی بصری بندگی آدم کرد گوهری داشت ولی نذر قباد و جم کرد
    یعنی در خوی غلامی ز سگان خوارتر است من ندیدم که سگی پیش سگی سر خم کرد
    "یعنی جهالت اور لاعلمی هی سبب بنتی هے که انسان غیروں کے آگے سرجهکانے په مجبور هوتا هے اور ایسی حالت میں انسان، کتے سے بدتر هوجاتاهے کیونکه میں نے آج تک ایک کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سرجهکاتے نهیں دیکهاهے"
    جی هاں لاعلمی اندهی تقلید کا باعث بنتی هے جو ذلت، خواری اور غلامی کے سوا کوئی اور چیز انسان کے واسطے تحفے میں نهیں لاتی هے علم اور بصیرت انسانی قدروں کا ایک عظیم نمونه هے قیام حسینی علم وآگاهی پر مبنی هے جهاں هر قدم علم وآگاهی کے ساته اٹهایا جاتا هے علم و آگاهی کا سرچشمه حسین (ع) همیشه انسان کو بیدار هونے پر زور دیتے هیں اور یهی کوشش کرتے هیں که اسکے ساتهی بهی آگاهی اور بیداری سے کام لیں یعنی کربلا والوں کی زندگی بیداری اور آگاهی په مبنی هے کربلا اور کربلا والوں سے اظهار محبت کا نام علم وآگاهی پر عمل کرنے کا نام هے وهاں نادان اور اندهی تقلید پر عمل کرنے والوں کیلئے کوئی جگه نهیں هے۔
    عصر حاضر میں کربلا کے بیداری اورعلمی انسانی اقدار پر عمل کرنے کے بے مثال نمونے امام خمینی، انسانیت کونئی زندی عطا کرنے والے ان کربلائی جیالوں کی شان میں فرماتے هیں:
    "وه روز عاشورا شهادت کےجتنے نزدیک هوتے جارهے تهے اتنے هی انکے چهرے نورانی هوتے جارهے تهے اسکے جوان شهید هونے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لیتے تهےوه سب جانتے تهے که کچه گهنٹے کے بعد شهید هوجائیں گے لیکن ایک دوسرے پر سبقت لیتے تهے کیونکه سمجه چکے تهے که کهاں جارهے هیں وه جانتے تهے که هم وظیفه الهی انجام دینے کیلئے آئیں هیں هم اسلام کی حفاظت کرنے آئیں هیں"
    حسین (ع) اپنی انسانیت ساز تحریک کے آغاز سےهی لوگوں کو آگاهی اور بصیرت عطا کرنا چاهتے هیں اسی لئے بنی هاشم کے نام لکهے گئے ایک خط میں اس بات کی طرف اشاره کرتے هیں که دیکهو میری تحریک کا انجام یه هے ۔
    "و اما بعد، فانه من لحق بی منکم استشهد، و من تخلف لم یبلغ مبلغ الفتح"
    "اما بعد، جان لو! جو بهی میرا ساته دے گا شهید هوجائے گا اور جو مجه سے روی گردان هو گا اسے کامیابی نصیب نهیں هوگی"
    امام کے ان جملات سے صاف واضح هوجاتاهے که آپ سب کو یه موقعه فراهم کرتے تهے که علم و آگاهی کے ساته تحریک حسینی کا ساته دیں کیونکه یه معرکه جهالت اور اندهی تقلید جیسے غیر انسانی اقدار کے خلاف هے پس کربلا والوں کی مسیر علم اور بصیرت کے اعلی انسانی اقدارپه استوار هے وه همارے لئے بهترین نمونه عمل هیں علم وبصیرت پر عمل کرنے کا اعلی اقدار انسانی فطرت سے هم آهنگ پیغام همیشه کیلئے زنده هے علم ا ور آگاهی، بیداری اور بصیرت انسان کے لئے ایک ایسا اهم مبنی اور بنیاد قرار پاتا هے جسکی رو میں انسان انسانیت کے اصول اور اقدار کی شناخت حاصل کرسکتا هے جسکے هوتے هوئے انسان کمالات کے اعلی مراتب کو حاصل کرسکتا هے آج بعض نادان افراد اندهی تقلید کرنے کے باوجود بهی اپنے آپ کو حسین (ع) ٴ کے شیدائی کهتے هیں جبکه حسین (ع) کی تربیت گاه میں ایسے افراد کے لئےکوئی جگه نهیں هے کیونکه وهاں سراسر علم وآگاهی هے آج اس بات کی ضرورت هے که هم اپنے اور اپنی قوم اور ملت کے فعل وانفعال کا مبنی علم وآگاهی اور بیداری قرار دیں اندهی تقلید کی وادی سے نکل کر معاشرے کے فرد فرد میں علم وبیداری کی انسانی قدر و منزلت کاجذبه پیدا کریں تاکه جهالت اور نادانی جیسے غیر انسانی اقدار کا خاتمه هوپائے۔
    دوسری فصل
    حریت اورآزادی
    آزادی انسان کا ایک فطری حق هے جب تک انسان نادانی اور گمراهی کے چنگل سے آزاد نه هو وه اپنی اور کائنات کی خلقت کے بلند اهداف اور مقاصدتک نهیں پهنچ سکتا ۔ انسانی قدروں میں سب سے اعلی اور اهم مرتبه کی حائز قدر آزادی هےانسان کے لئے آزادی کی قدر و منزلت، مادی قدروں سےکافی بڑهکر هےجوکوئی بهی انسانیت کی مهک سے آشنا هو وه سب سے دشوار حالات میں بهوکے پیٹ اور عریان بدن کے ساته زندگی گزارنا گوارا کرے گا لیکن کسی کی غلامی کو پسند نهیں کرے گادوسروں کے ماتحت زندگی نهیں بتائے گا بلکه آزاد زندگی گزارے گا۔
    کربلا کے سب سے اهم اور سب سےاعلی مرتبه پر پائے جانے والےاقدار انسانی کی فهرست میں آزادی کا مقام اور مرتبه کافی بلند هے کربلا والوں نے اپنی آغاز تحریک سے انجام تک اسی آزادی اور حریت کو هی "هیهات منا الذله"کے نعره کی شکل میں اپنا محور بنایا هےیه نعره انسان کو آزاد اور حریت کی زندگی گزارنے کی دعوت دے رها هے تحریک کربلا کے امیر سیدشهداءنے اپنی اور اپنے عزیزوں کی شهادت سے دنیا کے تمام لوگوں کیلئے حریت اور آزادی کا دروازه همیشه کیلئے کهول دیا جیسا که امام صادق سے منقول هے۔
    "وبذل مهجه فیک لیستنقذ عبادک من الجهاله وحیره الضلاله" "اس نے اپنی جان تیری راه میں قربان کی تاکه تیرے بندوںکو جهالت اور گمراهی کی سرگر دانی سے آزادکرے۔"
    پس حسین (ع) قربانی اس لئے دے رهیں که بشریت، انسانیت اور خدا کے بندوں کو حریت اور آزادی عطا کرے اور یه حریت اور آزادی اس بات کا سبب بنتی هے که انسان کمالات کے اعلیٰ درجے په فائز هو سکے کر بلا والوں کی فهرست میں اسکی بارزمثال حر ابن یزید ریا حی کی شکل میں میسر هے جو باطل کے سپاهیوں میں فوجی اقتداراور منصب کی کرسی رکهنے کے باوجود بهی اسارت اور غلامی کااحساس کر رها هے اسی لیے اس اعلی ٰ منصب کو ٹهو کر مارکے کربلا کےحقیقی وا رثوں کی صف میں شامل هو جاتاهے جهاں آزادی حریت، عزت، شجاعت وغیره وه سب کچه مهیا هے جو انسان کو حقیقی اور ابدی سعادت کی جانب روانه هونے میں هر سمے اور هر لمحه مددکرتا هے۔
    کهتے هیں حر ابن یزید ریا حی اتنی تیزی سے امام کی جانب روانه هوا کوفیوں کوایسا لگا که وه امام سے لڑنے جارها هے لیکن جب امام کی چوکهٹ پر پهنچا بڑی انکساری کے ساته گردن جهکائے امام کے سامنے سرخم هوکے کهنے لگا کیا میرے لئے توبه کی گنجائش هے؟ امام نے هاں میں جواب دے کے حر کو حریت عطا کی، ایک روایت کے مطابق اسی وقت امام نے حر سے کها: "نعم انّها لک توبه، فابشر، فانت حر فی الدنیا و انت حر فی الآخره انشاء الله" "جی هاں تمهارے لئے توبه کا امکان هے اور میں تمهے خوشخبری دیتاهوں که تم دنیا میں بهی حر هو اور انشاء الله آخرت میں بهی حر هو"
    جی هاں یه آزای اور حریت هی هے جوانسان کو بشریت کے اقدار کے واسطے انسانی جانوں کی قربانی کرنے لئے آماده کرتی هے اور انسانیت کے واسطے بهتے هوئے خون کے سیلاب کو خوبصورت اور دلکش انداز میں دیکهتی هے اس کی زنده مثال جناب زینب کا وه بڑا حسین (ع) جواب هے جو آپ نے ابن زیاد جیسے هوس اوراقتدار کے غلام آدمی کو دیا۔ابن زیاد نے پوچها کربلا میں تم نے کیا دیکها: زنیب بڑے اطمئنان سے کهتی هے: "ما رأیت الاّ جمیلاً" "میں نے خوبصورتی اور زیبائی کے سوا کچه نهیں دیکها" جی هاں جناب زینب (ع) اپنے خاندان کی جانی اور مالی قربانیوں، بهتر آدمیوں کے تن سے جدا کئے گئے سروں اور گهوڑوں کی ٹاپوں سے مسمار اور چهلنی پاکیزه جسموں کو خوبصورتی سے تعبیر کرتی هے یه اسی وجه سے هے که آپ خدا کے حضور دوسری تمام قید و بند سے آزادهو کر مسئله کو نظاره کرتی هیں اس بات کی ترجمانی علامه اقبال (رح) ایک خوبصورت شعر کر رها هے۔آپ فرماتے هیں:
    غلامی کیا هے؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی جسے زیبا کهیں آزاد بندے هے وهی زیبا
    اسارت اور غلامی انسان کو اپنے حقیقی اقتدار سے گرا کے جانوروں جیسی زندگی گزارنے په آماده کرتی هےلیکن آزادی اور حریت هی صرف اسکے آج اور کل کی فلاح اور بهبودی کی ضامن هے۔
    بهروسه کر نهیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر که دنیا میں فقط مردان حر کی آنکه هے بینا
    وهی هے صاحب امروز جس نے اپنی همت سے زمانے کے سمندر سے نکالا گوهر فردا
    پس حریت اور آزادی کی قدر و مرتبه پوری عالم بشریت کے لیے هے آج ضرورت اس بات کی هے که دنیا میں شیطانی اقدار ترویج پانےوالے باطل صفوں کو نابود کرکےحریت حسینی اور انسانی کو نمایا کیا جائے تحریک کربلا، انسانیت کی تحریک هے جهاں انسان، انسان بن جاتا هے اس تحریک انسانیت کے باب اول پر انسان کی نور آزادی کی شعاعیں منتشر هوتی هیں آج کلمه حریت کے تقدس کو دوسرے ممالک پر غاصبانه قبٖضه کرکے انسانیت کو سرمسار کیا جارها هے انسان مادیات میں غرق هو کے انسانیت کے حدوں کو توڑ چکا هے آج پهر سے حریت اور آزادی کا حقیقی مفهوم درک کرنے کے لئے انسانیت بے چین هے کربلاکے حریت پسند اور آزادی خواه انسان کو اسوه اور نمونه عمل بناکے انسانیت کو شیطانی اورغیر انسانی اقدار سے نجات دلایا جاسکتاهے۔
    عدالت طلبی اورظلم ستیزی
    انسان فطری اعتبار سے عدالت کو پسند کرتا هے عادل انسان کسی بهی قوم وملت اور کسی بهی آئین کا ماننے والاکیوں نه هو، کو اچهے، تربیت یافته اور اعلی اقدار انسان والے شخص کی حیثیت سے یاد کیا جاتا هے اور اسکے برعکس ظالم اور غیر منصف شخص کو برا، غیر تربیت یافته اور اقدار انسانی سے گرا هو ا آدمی مانا جاتا هے کربلا میں یهی عدالت اور اسی فطری صلاحیت اور استعداد کاقوه پروان چڑه کے اپنی حقیقی فعلیت کی شکل اختیار کرتاهے حسین (ع) عدل وعدالت کا فرزند ظلم ستم کے خلاف ایک آتش فشاں کے مانند هے تحریک حسینی کا مقصد صرف قسط وعدالت کو اجرا اور ظلم وستم کو نابود کرناهے جیسا که آپ خود اس بات کی جانب اشاره کرتے هوئے فر ماتے هیں:
    "فلعمری ماالامام الا الحاکم بالکتاب والقائم بالقسط والدئن بدین الحق والحابس نفسه علی ذات الله" "حقیقت میں امام (قائد) وهی هے جو الله کی کتاب په عمل کرے اور قسط وعدالت کو اپنا پیشه بنائے اور حق کی پیروی کرے اور اپنی ذات کو ذات الهی کیلئے وقف کرے۔"
    حسین کے نظر میں شیطان صفت انسانوں نے عدالت کا گلا گهونٹ دیا هے اور باطل کا عام کیا هے۔
    "الا ترون ان الحق لا یعمل به وان الباطل لا یتناهی عنه"
    " کیا آپ لوگ نهیں دیکه رهے که حق پر عمل نهیں هو رها هے او ر باطل سے دوری نهیں کی جارهی هے۔"
    امام حسین علیه السلام نے مدینه سے حرکت کرتے هی اپنے قیام اور تحریک کے مقصد یعنی عدالت طلبی اور ظلم ستیزی کی جانب اشاره کرتے هوئے فرمایا:
    "انى ماخرجت اشرا ولابطرا و لامفسدا و لاظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امه جدى ارید ان آمر بالمعروف وانهى عن المنکر "
    "میں نه مقام اور جاه طلبی کے لئے قیام کررها هوں اور نه هی ظلم و فساد برپا کرنے لئے ۔ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے واسطے قیام کر رها هوں میں چاهتا هوں که امربه معروف اور نهی از منکر کو احیا کروں"
    یزید کے سلطنتی نظام نیز غیر شرعی اور غیر انسانی امورکی ترویج اور احکام خدا کی مخالفت کرنے کی جانب اشاره کرتے هوئے فرماتے هیں:
    "ایها الناس ان رسول الله‏ صلی‏الله‏علیه‏و‏آله قال: من رآی سلطانا جائرا مستحلاً لحرم الله‏ِ ناکثا عهده مخالفا لسنه رسول الله یعمل فی عبادالله‏ِ بالاثم و العُدوان فَلَم یغیر علیه بفعل و لا قول کان حقّا علی الله‏ أن یدخله مدخلَه الا و ان هؤلاء قد لزموا طاعه الشیطان و ترکوا طاعه الرحمان، و اظهروا الفحشاو عطلوا الحدود، واستأثروا بالفی، و احلوا حرام الله و حرموا حلاله وا نا احق من غیره"
    "اے لوگو! بیشک رسول خداصلی الله علیه و آله وسلم کا فرمان هے: جوکوئی ظالم حاکم کو اس حالت میں دیکهے که خدا کی حلال چیزوں کو حرام کرے اسکے عهد و پیمان کو توڑے، رسول خدا کی سنت کی مخالفت کرے خداکے بندوں کے ساته گناه اور ظلم سےپیش آئے اوراپنے فعل اور عمل سے اسکے خلاف اقدام نه کرے تو خدا کو یه حق بنتا هے که وه اسے اسی ظالم کے ٹهکانے میں دهکیل دے۔خبر دار اس قوم (بنی امیه) نے شیطان کی اطاعت اپنے اوپر فرض کرلی هے اور خدا ی رحمن کی اطاعت کو ترک کردیا هے، بدکاری کو عام اور حدود الهی کو معطل کردیا، خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیا اور میں اس بات کا زیاده سزاوار هوں که ایسے حالات کو بدل دوں"
    اسی مکتب عدالت کے اقدار سے پاسبانی کرنے والے مسلم بن عقیل عدالت انسانی کا دفاع کرتے هوئے ابن زیاد کی تهمت کاجواب دیتے هوئےفرماتا هے:
    "کلاّ لست اتیت، ولکن اهل المصرزعموا ان اباک قتل خیارهم و سفک دمائهم، و عمل فیهم اعمال کسری و قیصر، فاتیناهم لنأمر بالعدل و ندعو الی حکم الکتاب"
    "هرگز میں اس کام کے لئے یهاں نهیں آیا ۔ بلکه اس شهر کے لوگوں کا عقیده هےکه تمهارے باپ نے انکے بزرگوں کو قتل کیا اور انکا خون بهایا هےاور قیصر و کسری کی طرح ان سے برتاؤکیا ۔ میں اس حیثیت سے انکے پاس آیا هوں که عدالت اجرا کرنے کا حکم دوں اور انهیں کتاب خدا کی پیروی کا فرمان دوں"
    حسین (ع) اورآپکی پرورش گاه میں پروان چڑهنے والوں کے یه بیانات صرف اس بات کے داعی هیں که انسان کا یه فطری قوه بیدار هوجائے وه زندگی کے مختلف سیاسی، اجتماعی، فردی، ثقافتی، معیشتی جوانب کو میزان عدالت پر موازنه کرکے سامراج کے ظلم وستم کا خاتمه کردےکربلا والوں کی طرف سے اعلی انسانی اقدار کا یه پیغام مدینه کی آغاز حرکت سے لیکر عصر عاشورا پر اختتام پزیر نهیں هوا بلکه وه شام اور کوفه کے بازاروں، ابن زیاد اور یزید کے درباروں میں بهی اس اقدار عدالت کی ترویج و تبلیغ کرکے لوگوں کوعدل وانصاف کی حاکمیت کا قیام اور ظلم و جور کی سلطنت کےخاتمے کی دعوت دیتے رهیں تاکه انسان عدالت کے سائے میں انسانی اور الهی تربیت حاصل کرکے حقیقی سعادت کو نائل هوسکے۔علامه اقبال فرماتے هیں: حسین نے اپنے خون قیامت تک کے لئے ظلم و ستم کا قلع قمع کیا اور عدل و انصاف کے چمن همیشه کے لئے گلزار بنایا۔
    بر زمین کربلا بارید و رفت لاله در ویرانه ها کاریدو رفت
    تا قیامت قطع استبداد کرد موج خون او چمن ایجاد کرد
    آج دنیا عدالت اور انصاف کی پیاسی هے دنیا کے مظلوم اور مستضعف قومیں عدالت کی قدر و منزلت کی خاطر ظالم اور سامراج سے دست به گریبان هوئی هیں دور حاضر اسی بات کا تقاضامند هے که پوری انسانیت پرچم عدالت کے سائے میں امن اور مساوات کی زندگی گزارسکیں لیکن آج کے یزیدی صفت انسان نے غیر انسانی، ناعادلانه معیشتی، معاشرتی، سیاسی، فوجی اور ثقافتی نظام جهاں میں تشکیل دے کے انسانیت کو داغدار کرکے رکها هے آج بهی تاریخ بشریت اقدار انسانی کے پاسباں اور انسانیت کو جلا بخشنے والے حسین اور حسینیوں کی تلاش میں هےتاکه پهر سے پرچم عدالت عالم انسانیت کے خوبصورت دنیا میں لهرایا جائے۔
    شجاعت اور بهادری
    انسان شجاعت اور بهادری کے آئینے میں هی زندگی کے مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرکے کامیابی اور سر بلندی حاصل کرتا هے وه اپنی زندگی کے تمام فردی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی مراحل نیزصلح وجنگ، نشیب وفراز، حق طلبی اور حق گوئی میں صرف شجاعت کے ساته هی آگے بڑه سکتا هے شجاعت اقدار انسانی کے اعلی قدروں میں سے ایک هے شجاعت انسان کی زندگی کو معنی خیز بنادیتی هے۔اسکے برعکس بزدلی، ڈر اور حوف سے مارا انسان کبهی کامیابی کی منزلوں کوطے نهیں کرسکتا۔انسان کو شجاعت کے اس انمول موتی کی حفاظت کرنی چاهیے اسے خوف اور ڈر کے دهیمک سے چهٹکارا دلانا چاهیےکیونکه ڈر اور بزدلی انسان کو ذلت اور غلامی کی زنجیریں پهاننےپر مجبور کرتی هے۔
    "سید جمال دین اسد آبادی اپنے ایک مضمون"الجبن"میں لکهتے هیں که باوجود اسکے که انسان کو فطری اعتبار سے آزاد اور آبرومند پیدا کیا گیا هے، غلامی کی زنجیروں کو پهننا پسند کرتا هے اور ذلت اور پستی کی زندگی اپنے لئے مول لیتا هے اسکی وجه خوف اور ڈر کے سوا کچه بهی نهیں هے یهی خوف اور ڈر حکومت کی بنیادوں کو سست بنا کے انهیں تباه کردیتا هے یهی خوف قوموں کے آپسی روابط کو بگاڈ کے ان کے اندر درارپیدا کرتا هے اوریهی خوف پهرایک مهلک بیماری کی شکل اختیار کر تا هے اور اسکی وجه یهی هوتی هے که وه اپنی سر نوشت کو فراموش کر تا هے خدا کے دئے هوئےشجاعت اور همت جیسے وسائل اور ابزار، جن سے وه دنیا وآخرت کی خیر وبرکت کو حاصل کر سکتا هے، سے استفاده نهیں کرتا هے هاں ایساانسان اپنے آپ سے غافل هوجا تا هے اورجو چیز (شجاعت) خدا اسکی زندگی کے بقا کے واسطے قرار دیتا هے وهی اسکی موت کا سبب بن جاتی هے"
    جی هاں بزدلی اور خوف هر برائی اور فساد کی جڑ هے۔تحریک کربلا میں بزدلوں کی کوئی جگه نهیں هے وه شجاع اور بهادورں کا ایک ایسا معرکه هے جهاں احیائے حق کے واسطے حسین (ع) اور آپکے متوالے جان هتهیلی په رکه کے خطروں سے کهیل کرشجاعت اور بهادری کے ایسے کارنامے چهوڑ جاتے هیں جو رهتی دنیا تک کے لوگوں کیلئے ایک بے مثال درس اور پیغام کی شکل میں همیشه زنده هے خود حسین (ع) کی زندگی کے تمام مراحل شجاعت اور بهادری سے لبریز هے۔یهاں مختصر طور پر شجاعت کے کے کچه لمحات قلمبندکرتا هوں۔
    حاکم مدینه ولید بن عتبه نے جب یزید کے لئے بیعت کا سوال کیا تو امام نے اپنی کرامت اور فضائل بیان کرنے کے بعد یوں فرمایا:
    "ایها الامیر! انا اهلبیت النبوه و معدن الرّساله و مختلف الملائکه و مهبط الرحمه بنا فتح الله‏ُ و بنایختم و یزید رجلٌ شارب الخمرو قاتل النَّفس المحترمه، معلنٌ بالفسق؛ و مثلی لا یبایع مثلَه، ولکن نصبح و تصبحون و ننظر و تنظرون أینا أحقّ بالخلافه و البیعه"
    "اے امیر! هم خاندان نبوت سے هیں، الله کی رسالت کے معدن، فرشتوں کی رفت و آمد اور رحمت خدا کے نزول کی جگه هیں۔ خدا نے همارے طفیل هی رحمت کے دروازے کهولے هیں اورهمارے هی ذریعه بند کرے گا۔ یزید ایک شرابی، قاتل هے جس نےاپنے فسق و فجور کو آشکار کیا۔میرے جیسا کبهی یزیدجیسے کی بیعت نهیں کرے گا۔ لیکن هم اور تم مستقبل کے انتظار میں هیں اور اسی سوچ میں هیں که هم میں کون ایک خلافت اور بیعت لینے کا زیاده مستحق اور لائق هے۔"
    امام کی جانب سے اپنی فضیلت اور دشمن کی پستی بیان کرنے کے ساته اتنا کڑوا جواب دینا آپکی شجاعت اور بهادری کی علامت هی توهے۔اگلے دن مروان بن حکم همدردی جتاتے هوئے امام سے یزید کے هاته پر بیعت کرنے کو کهتا هے۔ آپ نےمروان کو سرزنش کرتے هوئےفرماتے هیں:
    "انّا لله وإنا الیه راجعون، و علَی الإسلام السّلام اذا بلیت الامه براعٍ مثل یزید و لقد سمعتُ جدّی رسول الله‏ِ صلی‏الله‏علیه‏و‏آله یقول: الخلافه محرّمه علی آل ابی سفیان فإذا رأیتم معاویه علی منبری فابقروا بَطنَه، و قد رآه أهل المدینه علی المنبر فلم یبقَروا فابتلاهم الله‏ُ یزید الفاسق"
    "هم خدا کے لئے هیں اور خدا هی کی جانب پلٹ جائیں گے اور اسلام کو خیر آباد کهنا چاهیے جب امت یزید جسے شخص کی حاکمیت میں مبتلا هوجائے۔بیشک میں نے اپنے نانا رسول خدا صلی الله علیه وآله کو کهتے هوئے سنا هے که: خلافت آل ابی سفیان پر حرام هے اگر تم نےمعایه کو میرے منبر پر دیکهاتو اسکی پیٹ پهاڈڈالنا اور اهل مدینه نے اسے منبر رسول پر دیکها لیکن اپنی ذمه داری کو انجام نهیں دیا اسی لئے خدا نے انهیں یزید جیسے فاسق کی حکمرانی میں مبتلا کیا"
    اس زمانے کے سیاسی حالات کو مدنظر رکهتے هوئے ایسے جرت آمیز جواب دینا آپ حضرت کی شجات اوربهادری کی نشانی هے۔آپ نے اپنے بهائی محمد بن حنفیه کی تجویز سننے کے بعد اپنے اسی عزم کو دهراتے هیں:
    "یا أخی! لو لم یکن فی الدّنیا ملجأ و لا مأوی لما بایعت یزید بن معاویه۔۔۔"
    "اے برادر! اگر دنیا میں مجهے کهیں بهی امن کا ٹهکانه اور جگه نه مل جائے پهر بهی یزید کی بیعت نهیں کروں گا۔"
    مکه سے نکلتے وقت اپنے چاهنے والوں سے خطاب کرتے هوئے فرمایا:
    "خطّ الموت علی ولدآ دم مَخط القلاده علی جید الفتاه، و ما أولهنی إلی أسلافی اشتیاق یعقوب الی یوسف، و خیر لی مصرع أنَا لاقیه۔۔۔لا محیص عن یوم خط بالقلَم، رضا الله‏ رضانا اهل البیت، نصبر علی بلائه و یوفّینا اجور الصّابرین۔۔۔ اَلا و من کان فینا باذلاً مهجتَه موطّنا علی لقاء الله‏ نفسَه فَلیرحل معنا فإنّی راحلٌ مُصبحا اِن شاء الله‏"
    "انسانی کی موت کنواری لڑکی کے سینه پر گردن بند کے مانند هے اسلاف کے دیدار نے مجهے کتنا مشتاق بنایا هے جیسے یعقوب کو یوسف کے دیدار کا شوق هو۔ میرے لئے قتلگاه معین هوئی هے اور میں ادهر هی جاؤں گا۔۔۔ جس دن سے تقدیر کے قلم نے موت لکهی هے اس سے بهاگنے کا کوئی راسته هی نهیں هے خدا کی خشنودی همارے خاندان نبوت کی خشنودی هے خدا کے امتحان پر صبر سے کام لوں گا کیونکه خدا صبر کرنے والوں کا اجر پوری طرح عطا کرتاهے۔ اب جو کوئی همارے راسته میں اپنے آپ کو قربان کرنے لے لئے تیار هوگا اور خدا کے دیدار کا مشتاق هوگاوه همارے ساته چلےاگر خدا نے چاها تو میں کل سویرے روانه هورها هوں"
    یزید کے سلطنتی نظام نیز غیر شرعی اور غیر انسانی امورکی ترویج اور احکام خدا کی مخالفت کرنے کی جانب اشاره کرتے هوئے فرماتے هیں:
    "ایها الناس إنّ رسول الله‏ صلی‏الله‏علیه‏و‏آله قال: من رآی سلطانا جائرا مستحِلاً لحرم الله‏ِ ناکثا عهده مخالفا لسنه رسول الله یعملُ فی عبادالله‏ِ بالاثمِ و العُدوانِ فَلَم یغیر علیه بفعلٍ و لا قولٍ کانَ حقّا علَی الله‏ أن یدخله مدخلَه۔۔۔"
    "اے لوگوں بیشک رسول خداصلی الله علیه و آله وسلم کا فرمان هے: جوکوئی ظالم حاکم کو اس حالت میں دیکهے که خدا کی حلال چیزوں کو حرام کرے اسکے عهد و پیمان کو توڑے، رسول خدا کی سنت کی مخالفت کرے خداکے بندوں کے ساته گناه اور ظلم سےپیش آئے اوراپنے فعل اور عمل سے اسکے خلاف اقدام نه کرے تو خدا کو یه حق بنتا هے که وه اسے اسی ظالم کے ٹهکانے میں دهکیل دے۔"
    یه سارے کلمات حسین کی بے پناه شجاعت اور بهادری کی عکاسی کرتے هیں جو ان پیچیده سیاسی حالات میں بهی حکومت وقت کی غیر انسانی سرگرمیوں کو مورد تنقید قرار دیتے هیں اور بنا کسی ڈر اور خوف کے لوگوں سے ان حالات سے مقابله کرنے کی دعوت دیتےهیں۔
    کربلا میں صرف صنف واحد نے هی نهیں بلکه تمام اصناف بچے، نوجون، جوان، بوڑهے اور خواتین نے بهی تمام مراحل میں اپنی شجاعت اور بهادری کا لوها منوایا۔چاهے معرکه کربلا میں حسین (ع) کے با وفا اصحاب هوں یا کوفه وشام میں اسیران کربلا کاقافله اور قافله سالارحضرت زینب اور امام سجاد۔کربلا والوں کا دستور العمل یهی رها هے که شجاعت سے جیو شجاعت سے مرو اور شجاعت کی انسانی قدر و منزلت کو عام کرو کیونکه انسان کی انسانیت اور سعادت شجاعت اور بهادری کی پرتو میں هی نمایاں هوتی هےکربلا میں شجاعت اپنے تمام جوانب میں پروان چڑهتی هے۔
    شجاعت صرف یه نهیں هے که انسان میدان جنگ میں دشمن سے نبرد آزما هو بلکه دشمن کی تمام طاقت کے سامنے اسکے احاطے میں جاکر اسے للکارنا بهی شجاعت کا عظیم نمونه هے تحریک کربلا میں اقدار انسانی کی پاسبان زینب بهی شجاعت کی عظیم هستی هے جس نے ابن زیاد اور یزید کی سامراجی محلوں میں دشمنان انسانیت کے ظلم و ستم کا پرده فاش کیا ۔ آپ بڑی بے اعتنائی سے ابن زیاد کے دربار میں وارد هوئی۔ ابن زیاد نے پوچها یه خاتوں کون هے؟ زینب نے جواب نهیں دیا۔ ابن زیاد نے انهیں حقیر کرنے کی غرض سے کها: خدا کا شکر هے جس نے تمهے رسوا کیا اور تم لوگوں کو قتل کرکے جهوٹ کو برملا کیا۔
    لیکن انسانیت کی پاسبان نے اسطرح سے جواب دیا: "خدا کا شکر هے جس نے همیں محمد جیسے پیغمبر سے سرفراز کیا ۔جان لو فاسق آدمی ذلیل هوتا هے اور جهوٹا نامرد هوتاهے اور وه هم خاندان نبوت کے علاوه هے۔" یعنی وه فاسق اور فاجرتم هو۔
    لیکن یزید جیسے ظالم اور فاجر حاکم کے سامنے کچه زیاده هی اطمئنان قلب کے ساته وارد مبارزه هوتی هے۔: اے یزید! سلطنت نے تیری انسانیت کو نابود کیا هے۔تو عذاب کی اهلیت رکهتا هے۔ کیا تم میرے دادا کے آزادکرده (بابن الطلقاء) نهیں هو۔ تجه پر لعنت هو۔میں تمهے بهت هی پست اور نیچا جانتی هوں اور تمهے بهت سخت سرزنش اور تنبیه کرتی هوں۔تم رسول خدا کے دین سے مبارزه کرتے هو لیکن جان لو اگر پوری طاقت کا استعمال بهی کروگے پهر بهی همارے دین کو نهیں مٹا پاؤ گے بلکه یه همیشه باقی رهےگا لیکن بدلے میں تو هی مٹ جائے گا۔
    زینب کی اس بهادری اور شجاعت نے یزید جیسے مست آدمی کو بهرے دربار میں ذلیل کرکے رکه دیا اسے پشیمان کیا اور لوگ بهی یزید کے اصلی چهرے سے واقف هوگئے۔یزید کو گالیاں دی اسے لعنت کی اور اهلبیت کی جانب مائل هوئے اور یزید جب اس بات کی طرف متوجه هوا تو اس نے اپنے آپ کو حسین کے قتل سے بری کرنا چاها ابن زیاد کو لعنت کرکے قتل کا سارا الزام اسکے سرڈال دیا اورخود امام کے قتل سے پشیمانی کا اظهار کیا۔ سامرج اور طاغوتی حاکم کے سامنے حق و حقیقت گوئی کا بے تحاشه مظاهر ے سے زینب (ع) کی شجاعت اورعظیم بهاری کا اندازه هوجاتا هے شاید علامه اقبال بهی اپنے خوبصورت شعر میں اسی حقیقت کی جانب اشاره کرتے هوئے فرماتے هیں:
    آئین جوان مرداں حق گوئی و بے باکی الله کے شیروں کو آتی نهیں روباهی
    کربلا والے اپنے خون سے پوری عالم بشریت کے واسطے شجاعت اور بهادری کا درس لکه رهے هیں عصر حاضر کا انسان هر طرح کی شجاعت کهوچکا هے دشمن کے مقابلے ڈٹ جانے کی شجاعت، حق بات کهنے کی شجاعت، مظلوموں کی حمایت کرنے کی شجاعت، گویا اس بات کا فقدان هی فقدان هے اسی لئے ذلت اور پستی کی زندگی گزار رها هے کربلاوالوں نے شجاعت کی قدر و منزلت انسانیت کے عروج پر پهنچایا اسی لئے عصر حاضر کے انسان کے خوف اور بزدلی کا علاج بهی ایسے هی شجاعت اور بهادری کے پیکروں کو اپنا نمونه عمل بنانے میں هی هے۔
    غیرت
    غیرت ایک فطری چیز هے جو انسان کو اپنی عزت، آبرو، اصول، اعتقاد اور انسانی حقوق سے دفاع کرنے پر آماده کرتی هے انسان کی فطرت جتنی زیاده بیدار اور آگاه هوگی اسکے اندر غیرت کی معنویات بهی اتنا هی زیاده قوی اور بیدار هوگی حسین (ع) اور آپکے ساتهی اسی غیرت کا عملی نمونه هیں۔ دین اور انسانیت پر آنے والی هر آفت اور بدعت کا خاتمه کیا اپنے اور انسانیت کے اصول، اقدار اور حقوق سے همیشه دفاع کیا۔غیرت هی ایک ایسی چیز هے جو انسان کو ذلت، خواری اورپستی کے منجلاب اور دلدل سے نجات دلاتی هے اور اشرف مخلوقات کی صف میں لا کے کهڑا کرتی هے تحریک کربلا کی اقدار انسانی کی اس نمایش گاه میں غیرت کے ایسے متوالے پائے جاتے هیں جوعالم بشرت اور انسانیت کو درس غیرت دے کےذلت اور گمراهی کے دلدل سے نجات دلانا چاهتے هیں۔
    ابن ابی الحدید معتزلی کهتا هے: "سید الاهل الاباء الذی علم الناس الحمیه و الموت تحت الضلال السیوف اختیارا له علی الدنیه ابو عبد الله الحسین علی بن ابی طالب"
    "ان لوگوں کا سردار جنهوں نے ذلت کو قبول نهیں کیا وه جس نے لوگوں کو غیرت اورمردانگی کا درس دے کے شمشیر کے سایه میں مرنا سکهایا اور ایسے موت کو ذلت اور رسوائی کی زندگی په ترجیح دی، علی بن ابی طالب کا بیٹا ابو عبد الله حسین هے۔"
    امام حسین علیه السلام کی غیرت کے سلسلے میں شهید مرتضی مطهری فرماتے هیں: "پهلے دن سےلیکرزندگی کے آخری لمحے تک حسین بن علی علیه السلام کے پاکیز وجود میں روح غیرت روشن تهی آپ کے قول کے مطابق غیرت آپکی زندگی اور خون کا ایک حصه بن گئی تهی آپ سے جدا هونا نا ممکن تها۔ ابااعبد الله جب زندگی کی آخری سانسیں لے تے هوئےقتلگاه میں پڑے تهے ناهی حرکت کرنے کی طاقت نا هی کهڑا هونے کی سکت اور ناهی دشمن سے لڑنے کی قدرت باقی رهی بهت هی مشکل سے حرکت کررهے تهے پهر بهی دیکهنے کو ملتا هے که حسین (ع) کے کلمات سے غیرت ابهر رهی هے عزت چهلک رهی هے لشکردشمن حسین (ع) کا سر مبارک بدن سے جدا کرنا چاهتے هیں لیکن آپکی شجاعت اوررعب دیکه کے کسی میں آگے بڑنے کی جرت نهیں هورهی هے بعض سوچتے هیں کهیں حسین (ع) نے جنگی حیلے سے کام لیا هو اور نزدیک بڑهتے هی حمله کردے اور آپ سے مقابله کرنے طاقت کس میں هے؟ اسی لئے ایک ذلیل اور پست سازش رچی۔ کهتے هیں اگر خیموں پر حمله کیا جائے تو وه برداشت نهیں کر پائیں گے۔میں اس حالت کو بیان نهیں کر سکتا امام حسین (ع) قتلگاه میں گر پڑے هیں لشکر آپکے اهل حرم کے خیمه پر حمله آور هوجاتی هے امام بهت سختی سے اپنے زانوے مبارک پر کهڑے هوے اور نیز پر ٹیک لگاکے ایک مرتبه چلاتے هیں:
    "ویلکم یا شیعه آل ابی سفیان ان لم یکن لکم دین و لاتخافون المعاد فکونوا احرار فی دنیاکم"
    اے ابوسفیان کے ماننے والو! اگر تم لوگوں کے پاس دین نهیں هے اور قیامت سے کوئی خوف و هراس نهیں هے تو کم سے کم دنیا میں آزاد بن کے جیو!
    تم لوگوں کی غیرت اور شرافت کهاں گئی؟ کسی نے کها: ما تقول یابن فاطمه؟ فاطمه کے بیٹے کیا کهتے هو؟ آ پ نے فرمایا: انا اقاتلکم و انتم تقاتلونی و النساء لیس علیهن جناح"
    تم لوگ میرےساته لڑرهے هو اور یه حسین کا بدن حاضر هے آؤ اور تیروں اور نیزوں کا نشانه بناؤ لیکن حسین کبهی یه برداشت نهیں کرسکتاکه اسکے جیتے جی کوئی انکی اهل حرم کے خیموں پر حمله کرے"
    جی هاں انسانیت کا یه انمول موتی تحریک کربلا میں نمایاں هے حسین (ع) اور حسین والے غیرت کا دامن کبهی هاته سے نهیں چهوڑتے بدلے میں یزیدی فوجیں اپنی بے غیرتی اور بے مروتی کا غیرانسانی کاموں سے باز نهیں آتے کربلا کے بلند حوصلے اور باغیرت حسینی پیروکار نے اقدار انسانی کے اس بے مثال انسانی جوهر کو همیشه کے لئے سربلند کیا۔ عالم انسانیت سے آج غیرت کا جنازه نکل چکا هے ترقی اور جدیدیت (ماڈرنیسم) کے نام پرانسانیت اور غیرت سے عاری هر مرد اور عورت بے غیرتی کا مظاهره کررهے هیں سامراج نے هر طرح کی غیر انسانی ثقافتی یلغار کے سائے میں انسانی تهذیب اور تمدن کو نابودکر دیا هے آج انسانیت کے دوستداروں کو کربلائی اور عاشورائی غیرت کا مظاهره کرکے انسانیت کے بے غیرت دشمن کا قلع و قمع کرنا هوگا اپنی اور اپنی ماں بهنوں کی عزت اورآبرواور انسانیت کا دفاع کرتے هوئے شیطان ٖصفت بے غیرت دشمنوں کا جم کے مقابله کرنا هوگا۔
    عزت
    فطری طور سے انسان عزت اور آبرو کے ساته زندگی گزارنا چاهتا هے چاهیے وه دیندار هو یا بے دین هرشخص عزت اور کرامت کی زندگی کو ذلت اور پستی کی زندگی پر ترجیح دیتاهے عزت هی ایک ایسی شئی کا نام هے جس کے لئے انسان اپنا سب کچه لٹا دیتاهے عزت انسان کے اعلی اقدار کا عظیم نمونه هے۔
    تحریک کربلا دوسرے انسانی اقداروں کی طرح عزت اور کرامت کی حیات کی جنگ هے کربلا۔۔۔ یعنی عزت۔۔۔یعنی عزت سے جینا۔۔۔یعنی عزت سے مرنا۔۔۔حسین (ع) عزت اور شرافت کا ایک مکمل مجسمه هے جسے زندگی کے نشیب وفراز، مشکلات اور سختیاں رسوا هونے پر مجبور نهیں کرسکتی حسین اور حسین والے تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے هونا پسند کرتے هیں گهوڑوں کی ٹاپوں سے جسم اور تن کی پایمالی برداشت کرسکتے هیں لیکن عزت کا دامن چهوڑ کے ذلت کی زندگی گوارا نهیں کر سکتے ۔
    نهضت حسینی کا شعار هی یهی رها هے:
    الموت اولی من رکوب العار و العار اولی من دخول النار
    "عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بهتر هے اور جهنم کی آگ سے ظاهری ذلت هی بهتر هے"
    اور اسی طرح فرماتے هیں:
    "لا والله‏ لا اعطیهم بیدی إعطاء الذّلیل و لا أفر منهم فرار العبید"
    "قسم خدا کی میں ایک ذلیل اور پست آدمی کی طرح بیعت کے لئے انکے هاتهوںمیں اپنا هاته نهیں دوں گا اور ناهی غلاموں کی طرح جنگی محاذ سے بهاگ جاؤں گا۔"
    امام کے ایک اور خطبه کا اقتباس اس بات کو روشن کرتا هے که آپ هر چیز پر عزت اور کرامت کو هی ترجیح دیتے تهے۔
    "الا! انّ الدّعی بن الدّعی قد رکز بین اثْنتین بین السّلّه والذّله و هیهات منّا الذّله یأبی الله‏ُ لنا ذلک و رسوله و المؤمنون و حجور طابت و طهرت و أنوف حمیه و نفوس أبِیه من ان نؤثر طاعه اللّئام علی مصارع الکرام "
    "جان لو! اس ذلیل آدمی (ابن زیاد) کے ذلیل بیٹے نے مجهے دو راهے پر کهڑا کیا یا تلوار سے جنگ کروں یا پهر ذلت و خواری قبول کروں۔ ذلت هم سے کوسوں دور هے۔ خدا اور اسکا رسول اور مومنین سبهی ذلت اور پستی قبول کرنے سے دوری بهرتے هیں اور ماؤں کے پاکیزه دامن، غیرتمندانسانوں کی جانیں اور شرافت کی سانسیں اس بات کی اجازت نهیں دیتی که بهادر اور عزت داروں کی قتلگاه پر ذلیل اور پست انسانوں کی اطاعت په راضی هوجائیں ۔"
    چوتهی صدی هجری کا مشهور شاعر حسین (ع) کے درس عزت کے بارے میں کهتا هے۔
    الحسین الذی رأی الموت فی ال عزّ حیاه والعیش فی الذل قتلا
    " حسین وهی هے جس نے باعزت موت کو زندگی کی نظر سے دیکها اور ذلت کی زندگی کو موت کے برابر پایا"
    عزت کی راه میں اپنی جان قربان کرنا آپ کے لئے بهت هی آسان هے آپ فرماتے هیں:
    "ما اهون الموت علی سبیل نیل العز و احیاء الحق"
    "عزت اور احیائے حق کے راسته میں مرنا کتنا آسان هے!"
    پس تحریک کربلا عزت اور کرامت کی تحریک هے اقدارانسانی کے اس انمول موتی کی حیات کے واسطے اپنی جانیں نچهاور کی جاتی هے تبهی تو همیشه کے لئے تاریخ انسانیت کے صفحات پر زنده رهے هیں آج عصر حاضر کے انسان کی هرذاتی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی بدحالی اور بدبختی صرف اس گوهر انسانی یعنی فقدان عزت کی وجه سے وجود میں آئی هےآج ضرورت اس بات کا تقاضا کررهی هے که غیرانسانی اقداروں کے هاتهوں ڈوبتی هوئی انسانیت کو عزت اور کرامت انمول گوهر اور موتی سے آراسته کیا جائے تاکه انسان سربلند هوکے جینا سیکهے اور دوسروں کو بهی عزت او ر کرامت کی زندگی گزارنے کا درس سکهائے۔
    استقامت
    استقامت اور ثابت قدمی کا شمار بهی اقدار انسانی کے فهرست میں کیا جاتا هےاستقامت بهی دوسرے انسانی قدروں کی طرح انسان کے اعلی کمالات کی غمازی کرتی هے جس شخص میں استقامت پائی جاتی هے وه زندگی میں کبهی مشکلات سے لڑتے هوئے هار نهیں مانتا بلکه حق اور حقیقت کی راه میں همیشه استوار اور محکم رهتا هے کربلا اسی استقامت اور ثبات قدمی کی انسان سازنمایشگاه کا نام هے وهاں استقامت کا پیکر حسین (ع) موجودهے جو بهی حسین (ع) سے درس استقامت لیتا هے حسین (ع) هی کی طرح مجسمه استقامت کی صورت میں نمایاں هوتا هے اسکی زنده مثال حضرت زینب هے آپ نے بهی اس عظیم انسانی قدروں کے پاسباں سے اسطرح درس استقامت سیکها که عاشوره کے بعد کادورتاریخ استقامت کا سنهرادور بن گیا،، جهاں آپ استقامت اور ثابت قدمی کا مجسمه بنی، بے شمار مصائب اور صعوبتوں کو برداشت کرنے کے باوجود بهی اسیروں کی امیری کی اور باطل حکمران ابن زیاد اور یزید کی سرنگونی اور زوال کے راستوں کو مهیا کیا، نادان اور جاهل لوگوں کے پتهروں اور تالیوں کا سامنا کرنے کے باوجود بهی استقامت کا دامن نهیں چهوڑا
    شهید مرتضی مطهری، اس حوالے سے جناب زینب (ع) کی شان میں فرماتے هیں: "نهضت حسینی میں جس نے سب سے زیاده درس سیکها اور جسکے پاکیزه روح پر حسین (ع) کی شعاعیں اجاگر هوئیں وه یهی عظیم بهن زینب هےسچ مچ یه ایک عجیب مسئله هے که اس عظمت کے باوجود جو آپ پهلے سے رکهتی تهیں اور اس عظمت کے هوتے هوئے بهی جو آپ نے زهراء (ع) کے دامن اور علی (ع) کی تربیت سے حاصل کی تهی، ماقبل کربلا کی زینب، مابعد کربلا کی زینب سےمتفاوت هے یعنی مابعد کربلا کی زینب اب زیاده عظمت اور شخصیت کی حامل هے" عصر عاشوره جهاں زینب حسین (ع) کے غم فراق کو برداشت نه کرنے سے بے هوش هوتی هے وهی زینب عصر عاشوره کے بعد سے عواطف اور احساسات کو صبر و استقامت کی لگام سے روک کے یزید اور ابن زیاد، اهل شام اور اهل کوفه جیسے نادان اور سنگدل لوگوں کے سامنے علیٴ کے لهجے میں فصیح اور بلیغ خطبے دیکر تحریک حسینی کے احیائےاقدار انسانی کےمشن کی تشریح کرکے ظالموں کے ظلم وبربریت کے خلاف احتجاج کرتی هے پس کربلا کی اس اقدار انسانی کی نهضت میں ایسے هی افراد کو جگه ملتی هے جو زندگی کے هر موڑپر محکم اور استوار هوں نه سست ونڈهال۔حسین (ع) جب اهل کوفه کی خیانت سے آگاه هوئے آپ نےفورا اپنے موقف کا اعلان کیا جس میں استقامت اور ثابت قدمی هی سر فهرست هےآپ فرماتے هیں:
    "ایها الناس، فمن کان منکم یصبر علی حد السیف و طعن الاسنه فلیقم معنا و الاّ فلینصرف عنّا"
    "اے لوگو! جو کوئی تم میں سے تلوروں کی تیز دهار اور نیزوں کی ضربت کو برداشت کرسکتا هے همارے پاس رهے و رنه یهیں سے لوٹ جائے"
    کیونکه یه اقدار انسانی کو عروج بخشنے کی تحریک هےیهاں ظلم و ستم کے خلاف اور اقدار شیطانی کو نابود کرنے کے لئے جان کی بازی لگائی جاتی هے۔اسی طرح حسین (ع) سے درس استقامت سیکهنے والے مسلم بن عقیل، ابن زیاد کے شکنجوں کو سهنے کے بعد بهی راه حق کے عزم و ارادےمیں محکم اور مضبوط نظر آتے هیں ابن زیاد سےکهتے هیں:
    "اس شهر کے لوگوں کا عقیده هےکه تمهارے باپ نے انکے بزرگوں کو قتل کیا هےاور انکا خون بهایا هےاور قیصر و کسری کی طرح ان سے برتاؤکیا ۔ میں اس حیثیت سے انکے پاس آیا هوں که عدالت اجرا کرنے کا حکم دوں اور انهیں کتاب خدا کی پیروی کا فرمان دوں"
    مسلم بن عقیل کے موقف سے صاف ظاهر هوتا هے که همارے سارے اقدام معاشرے میں انسانی قدروں کو زنده کرنے کے لئے هے ان قدروں کی پاسداری کے لئے هم اپنی جان نچهاور کرنے سے بهی گریز نهیں کریں گے۔ یزیدیوں نے قیصرو کسری کی طرح ان قدروں کو پایمال کیا هے شیطانی اقدار اور غیر انسانی رذائل کو انسانیت پر تهوپ دئے هیں لیکن تحریک حسینی کبهی اپنے موقف سے پیچهے نهیں هٹے گی بلکه استقامت کی قدر و منزلت سے انسانیت کو زنده رکهے گی۔
    حسین (ع) اقدار انسانی کا پاسبان هےعصر حاضر میں انسانی اقدار کی حفاظت کرنے والوں کو حسین (ع) سے درس استقامت سیکهنا چاهیے آج اگر انسانیت کی حقیقت کو غیر انسانی افراد کے سامنے زنده رکها جاسکتاهے تو وه صرف انسان اور انسانیت کے جانی دشمن کے ساته مقابلے کرنےمیں استقامت اور ثابت قدمی کا مظاهره کرنے سے هی ممکن هےورنه شیطانی اقدار کے حامی استعماری اور سامراجی طاقتیں سست اور نڈهال لوگوں اپنی شیطانی طاقت کا نواله بناکے انسانیت کی ساری قدروں کو نیست و نابود کریں گے.
    همت
    همت یعنی انسان اپنے عزم و ارادے میں استوار اور مضبوط هو یه انسانی قدروں کا ایک ایسا انمول نمونه هےجس میں مذهب اورعقاید کی چاردیواری سےبالاتر دیکها جاتا هے راه انسانیت میں همت سے کام لینے والاشخص دنیا میں کهیں بهی موجود کیوں نه هو اسکی سراهنا کی جاتی هے اسکا شماراعلی درجه کے انسانوں میں کیا جاتا هےاس بنا پر اقدار انسانی میں مقوله همت کو بهی اپنا ایک مقام اور مرتبه حاصل هے۔اس تمهید کو مد نظر رکهتے هوئے اگر انسان کو دیکها جائے تووه فطری طور سے سعادت اور کمال کا طالب هےوه زندگی کی تمام دشواریوں کو طے کرکے کامیبابی کی منزل کی تگ و دو میں لگا رهتا هے اور یهی فطری تقاضا اسکی بلند همت اور حوصلے کا مالک بننے کا سبب بنتا هے اسی بلند همت کی وجه سے وه تحصیل سعادت کیلئے شب وروز کوشاں رهتا هے اورپهر یهی همت اور حوصله اسکے قدر وقیمت کی عکاسی کرتا هے۔امام علی فرماتے هیں:‘‘قدر الرجل علی قدر همته" "انسان کی قدر وقیمت اسکی همت کے مطابق هے۔"
    پس انسان همت اورحوصلے کے اعتبار سے جتنا هی اونچا هوگا اتنا هی اسےانسانیت کے درجات کے لحاظ سے اعلی اور بلند مانا جائےگا تحریک کربلاچنانچه اقدار انسان کی تحریک هے، اونچی همت اور بلند حوصلے والوں کے سب سے اعلی نمونه کی نمایش هے جهاں بلند همت اور حوصلوں کےعملی مجسمے پائے جاتے هیں۔ مرحوم علامه اقبال حسین (ع) کی همت اور عزم و اراده کو پهاڑ سے تشبیه دیتے هوئے یوں فرماتے هیں:
    عزم او چون کوهساران استوار پایدار و تند سیر و کامکار
    امام کا را سته روکتے وقت حر ابن یزید ریاحی سے حسین (ع) فرماتے هیں:
    "لیس شأنی شأن من یخاف الموت، ما اهون الموت علی سبیل نیل العز و احیاء الحق۔۔۔ ا فبالموت تخوفنی؟ هیهات، طاش سهمک، و خاب ظنک! لست اخاف الموت؛ ان نفسی لاکبر من ذالک و همتی لاعلی من ان احمل الضیم خوفا من الموت"
    "میری شان ایسی نهیں کے که میں موت کی دهمکی سے ڈرجاؤں کیونکه احیائے حق وحقیقت اور عزت کی راه میں میرے لئے مرنا بهت آسان هے۔۔۔ کیا تو مجهے موت سے ڈراتاهے؟ تیرا تیر نشانه پر نهیں لگا هے تیرا گمان اشتباه هے! میرا رفتار موت کے خوف سے زیاده عظیم هے اور میری همت اسے کهیں زیاده هے که میں موت کے خوف سے ظلم وستم سه لوں"
    حسین (ع) بلند همت کا مالک هے موت بهی اسکے حوصلوں کو پست نهیں کر سکتی۔اسی طرح حسین (ع) کے ساتهی بلند همت کے مالک هیں۔
    " شب عاشوره حسین (ع) اپنے ساتهیوں کو اپنی بیعت سےدستبرار کرکے اندهیری رات میں بهاگ کے اپنی اپنی جان بچانے کی تجویز پیش کرتے هیں لیکن یه بلند همت اور حوصلے والےکمال اور سعادت کے قلع کو سر کرنے کیلئے هزار بار قتل هونا پسند کرتے هیں لیکن پیکرهمت یعنی حسین (ع) کی تربیت گاه سے ایک لمحے کیلئے دور رهنابهی گوارا نهیں کرتے"
    تحریک کربلا بنی نوع انسان کا مکتب هے انسانی اقدار کی اس نمایش گاه میں اونچی همت اور بلند حوصله پیدا کرنے کا درس دینے والے هر دور خاص کرعصر حاضر کے انسان کو حوصله مند بنانے کا اهم پیغام دے رهے هیں پست ارادوں اور حوصله شکن افراد هوای نفس کے بهنور میں اپنی کشتی ڈبو کے عمر بهر ذلت اور پستی کی زندگی گزارتے هیں بنی نوع انسان کوکربلا کے همت والوں کو عملی نمونه بنا کےهوای نفس کی قید سے آزاد هوکے حسین (ع) کی کشتی نجات میں شامل هونا چاهیے تاکه کےانسانیت کے اعلی مرتبه اور مقام پر فائز هوسکیں عصر حاضر کا هر فرد بلند همت اور حوصله کے ذریعه سے سامراجی اور شیطانی طاقتوں کا مقابله کرکے انسانی قدروں کا فروغ بخش سکتا هے۔
    انسان دوستی
    انسان دوستی کا مطلب یهی هے که انسان دوسروں کے مشکلات، دکه، درد اور غم اور خوشی میں شریک هوجائے هر لمحه انکا حامی اور مددگار بنے دوست هو یا دشمن هرمشکل میں انکی مدد کرے لیکن انسان دوستی سے بڑه کر انسانیت دوستی هے جس کا معیارانسان دوستی سے کافی اونچا هے انسانیت دوستی کے مکتب میں هر اس انسان کو دوست رکها جاتاهے جس نے اچهائی، نیکی اور اقدار انسانی کا پاس رکهاهو اسلام انسانیت دوستی کو پسند کرتا هےاور انسانیت دوستی کا حامی اور مددگار هے۔استاد مطهری انسان اور انسانیت کے درمیان فرق بیان کرتے هوئےانهیں دو الگ الگ مقولے کی صورت میں بیان کرتے هیں:
    "اسلام کے اندر ایک اهم چیز پائی جاتی هے وه یه هےکه اسلام انسانیت دوستی کا مکتب هے نه انسان دوستی کا۔ انسان مداری (humanism) انسان دوستی اور همه گیر صلح کا نام هے اور یه انسانیت دوستی کی ضد هے۔ لهذا اس بنا پر اسلام میں نوع پرستی نهیں پائی جاتی بلکه فضیلت پرستی هے نوع پرستی انسان پرستی کا نام هے جبکه فضیلت اور کمال پرستی انسانیت پرستی کو کهتے هیں"
    پس انسانیت هی دوستی اور محبت کا معیارهونا چاهیےاور یه انسانیت انسان کامل کی شکل میں مجسم هوتی هے جس کی زندگی کے لمحات دوسروں کی خدمت کرنے میں گزر جاتے هیں۔ ڈاکٹرعلی شریعتی کهتے هیں: "حیوان کهتا هے میرے لئے، انسان کهتا هے همارے لئے لیکن زهد اور تقوا کا مجسمه انسان کامل کهتا هے دوسروں کیلئے" ۔جی هاں کربلا والے ایسے هی انسان کامل کی پرورش میں تربیت پاتے هیں جو دوسروں کیلئے یعنی انسانیت کے لئے زنده هے جو دوست اور دشمن دونوں کی فلاح اور بهبودی کے خیر خواه هیں حسین (ع) کی شفقت اور محبت،، هدایت اور عنایت احباب اور اعداء سب کیلئے یکسان هےکربلا میں انسان اور انسانیت دوستی کے اعلی نمونے موجود هیں اس اعلی انسانی قدر کی منزلت اپنے اونچے درجه پر فائزهے ۔جس کاسب سے اعلی نمونه حر بن یزید ریاحی اور امام حسین (ع) کی ملاقات میں بهت اچهی طرح سے آشکار هوتاهے۔
    علامه محمدتقی جعفری (قدس سره) اس ملاقات کو انسان دوستی کے زوایے سے دیکهتے هوئےفرماتےهیں:"جی هاں هر تاریخ نویس اورمحقق عمر بن سعد کی طرف سے امام حسین کو گرفتار کرکے کوفه لانے والے مأمور هزار آدمیوں پر مشتمل حربن یزید ریاحی کی لشکر کی ملاقات کے واقعه کو ملاحظه کرسکتا هےتاریخ میں لکه سکتا هے لیکن هوسکتاهے که اس واقعه کے سب سے اهم انسانی قدروں کو درک کرنے سے عاجز هو۔
    اس واقعه کا خلاصه اس طرح سے هے؛ جب امام حسین (ع) نےکوفه جانےکے لئے منزل"شراف "سے عبور کیا آپکے ایک صحابی نے تکبیر کهی ۔ آپ نے کها الله اکبر، تکبیر کس لئے کهی؟ عرض کیا: سامنے خرمے کے درخت دکهائی دے رهے هیں۔ بعض نے کها: اس جگه خرمے کے درخت نهیں هیں جوکچه بهی دکهائی دیتا هے وه گهوڑے اور نیزے هیں۔ امام حسین (ع) نے فرمایا: میں بهی ایسا هی دیکه رها هوں۔
    آپس میں مشوره کرنے کے بعد" ذی حسم" کی جانب روانه هوئے تاکه حر کی لشکر کا سامنا نه کرنا پڑے۔تهوڑا سا وقت گزرنے کے بعد گهوڑے نظر آنے لگےهم نے راسته موڑ لیا جیسے هی انهوں نے دیکها که هم نے راسته موڑ لیا انهوں نے بهی راسته موڑ لیا هم ان سے پهلے هی "ذو حسم" کے مقام پر پهنچ گئے۔ امام حسین (ع) نے حکم دیا هم نے خیمے نصب کئے ۔حر کی لشکر جو تقریبا ایک هزار افراد پر مشتمل تهی دن کی کهلی دهوپ میں آنحضرت کے سامنے کهڑی هوئی ایسے میں امام حسین (ع) اور آپکے ساتهی عمامه پهنے، تلوریں کمر میں باندهےهوئےتهے۔ آنحضرت نے اپنےاصحاب کو حکم دیا که بهت دور سے آئی هوئی لشکر حر کو پانی پلادیں اور سیراب کریں اور انکے جانوروں کو بهی پانی پلادیں اصحاب طشت وغیر ه پانی سے بهر بهرکے گهوڑں کے سامنے رکه دیتے تهے جیسے هی گهوڑے چار پانچ گهونٹ پیتے تهے ظرف اٹها کے دوسرے گهوڑوں کے سامنے رکه دیتے تهےاور اس طرح سے ان سب کو سیراب کیا۔
    علی بن طعان محاربی کهتا هے که میں بهی حر کی لشکر میں تها اور آخر میں پهنچا جب امام حسین (ع) نے میری اور میرے گهوڑے کی پیاس اورتشنگی کو دیکها پانی کی مشک میرے هاته میں تهماکے کها: برادر! مشک کے دهانے کو کهولواور پانی پیو۔ میں نے پانی پینے کی بهت کوشش کی لیکن پانی مشک کے دهانے سے بهه کے نیچا گر رها تها اور میری سمجه میں نهیں آتا تها که میں کیا کروں! ایسے میں امام حسین کهڑے هوئے اور مشک کے دهانے کو موڑا تب میں پانی پی سکا اور گهوڑے کو بهی پانی پلا سکا"
    اس اعلی فضٰلت کی اهمیت اور قدر و قیمت کا اندازه صرف ایسےانسان کے لئے قابل فهم هے جوانسان کی کرامت اورحق حیات کو دوستی اور دشمنی سے بالاتر درک کرے اور اس پر ایمان رکهتا هو۔ وگرنه امام معمول کے مطابق جانتے تهے که یهی هزار آدمی چند دن بعد اسکے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے"
    جی هاں یه اقدار انسانی کو جلا بخشنے والی وه معرکه آرائی هے جس میں انسانیت کے دشمن اور شیطان سے فریب خورده انسانوں کو بهی اقدار انسانی کے دائرے میں آنے کی دعوت دی جاتی هے۔
    "حسین (ع) نویں اور دسویں محرم سے پهلے عمر بن سعد کیلئے دوستی کا پیغام بهیجتے هیں خودبهی جاکر ملتے هیں اور توبه کی دعوت دے کے اپنی اقدار انسانیت کی نمایش گاه کے دروازے کهول دیتے هیں لیکن اس کےفسق و فجور اور لالچ اور طمع جیسے غیر انسانی اقدار نے اسکی انسانیت کو اندها کردیا تها اسی لئے بهانے بناکے انکار کی ضد په اڑا رها" اسی طرح عبید الله بن حر جعفی حسین (ع) کی دعوت حق کو انکا کرتے هوئے زندگی کی آخری سانس تک واحسرتا کی فریادیں لگا کر خود کو حسین (ع) کی انسانیت دوستی اور رفاقت قبول نه کرنے کی ملامت کرتا رها۔
    تحریک کربلا کی انسان اور انسانیت دوستی کی قدر و منزلت رهتی دنیا تک تاریخ انسانیت کے واسطے ایک اهم درس هے قدر انسان دوستی کو دنیا میں همیشه کے لئے سربلند کیا اسے اپنے محبت اور عشق سے ایسی جلا اور حیات بخشی که انسان اور انسانیت کے دشمنوں کو رهتی دنیا تک ذلیل اور خوار کیا آج دنیا کو ایسے هی اقدار کی بے انتها ضرورت هے آج انسانیت کی دنیا انسان اور انسانیت دوستی جیسےعظیم اور اعلی قدر انسانی کے واسطے تشنه کام هے انسانیت کے خون بهانے والے هر طرح سے انسان دوستی کے نام کا ناجایز استعمال کرتے رهتے هیں تحریک کربلا سے یهی درس لےسکتے هیں که کس طرح سے انسانی اقدار کو انسانیت دوستی کے کردار میں ڈهال کے زنده رکها جاسکتا هے۔
    حق محوری اور حق طلبی
    انسان کے اعلی کمالات کی ایک عظیم نشانی یه بهی هے که اسکی زندگی حق طلبی په مبنی هوا اور اپنی زندگی کے تمام مراحل میں حق کا آئینه دار هو دوسرے الفاظ میں یوں کها جائے که اقدار انسانی کے اعلی مفاهیم کا ایک حصه حق محوری اور حق طلبی هےچنانچه دنیا میں جهاں کهیں بهی حق اور حقیقت پسند یا حقیقت طلب انسان پیدا هو تا هےسب اس کے ساته اظهار محبت کرتے هیں تحریک کربلا بهی ایسے هی حق شناس، حقیقت پسند اور حقیقت طلب افراد کی نمایش گاه کا نام هےجو احیائے حقیقت کے واسطے اپنا سب کچه قربان کرتے هیں وه راه حق پر ثابت قدم اور استوار هیں حق کے پیغمبرهیں اور طلب حق کے لئے راه حق میں اپنے خون کا آخری قطره بهی بهاتے هیں وه انسانیت کوعقلی کمال تک پهنچانے کے واسطے حق اورحقیقت کی اطاعت کرنا لازم جانتے هیں جیسا که حسین (ع) فرماتے هیں: " لا یکمل العقل الا باتباع الحق " "جب تک عقل حق کی اطاعت نه کرے کمال تک نهیں پهنچ سکتی"
    انکی دعوت احیائے حق کی دعوت هے۔"فانی ادعوکم الی احیاء معالم الحق واماته البدعه" "میں آپ لوگوں کو حق کے آثار اور نشانیوں کو زنده کرنے اور بدعت کو نابود کرنے کی دعوت دیتا هوں"
    بقول مرحوم علامه اقبال دنیا میں حق و حقیقت کی حیات حسین (ع) کی طاقت سے هی هے:
    زنده حق از قوت شبیری است باطل آخر داغ حسرت میری است
    وه حق اور حقیقت کا گلا گهونٹتے نهیں دیکه سکتے بلکه احیائے حق کے واسطے اپنے گلے کٹوا تے هیں۔
    "الا ترون ان الحق لایعمل بها وان الباطل لا یتناهی عنه لیرغب المومن فی لقاء الله۔۔۔" "تم نهیں دیکهتے که حق په عمل نهیں هو رها هے اور باطل سے دوری نهیں کی جا رهی هے؟ ایسے میں با ایمان شخص کو (احیائے حق کے واسطے اپنی جان کی بازی لگا کے) خدا سے ملاقات کرنی چاهیے"
    اس مکتب حق و حقیقت میں وه مشهور واقعه اس بات کی عکاسی کرتا هے که کربلا کا فرد فرد حق اور حققیت کے واسطے جان کی بازی لگانے کے لئے تیار هے۔ "جب حسین (ع) کے جوان سال بیٹے علی اکبر اپنے والد کی زبان مبارک سے کلمه استرجاع (انا الله و انا الیه راجعون) کی تلاوت کی وضاحت پوچهنے کے بعد عرض کرتے هیں اے بابا! کیا هم حق پر نهیں هیں؟
    امام نے فرمایا: قسم خدا کی جس کی طرف سب کی بازگشت هےهم حق پر هیں۔
    علی اکبر نے عرض کیا: "اذا لا نبالی نموت محقّین" پهر موت سے ڈر کیسا جب هم حق پرجان دے رهے هیں"
    جی هاں وه حق اور حقیقت کے پیکر تهے انکا هر قدم راه حق میں استوار تها انکے ارادوں کو طوفان بهی نهیں موڑ سکتاتها۔مرحوم علامه اقبال مرد حق کی کچه اهم صفات کی طرف اشاره کرتے هوئے فرماتے هیں:
    مرد حق از کس نگیرد رنگ و بو مرد حق از حق پذیر د رنگ و بو
    هر زمانی اندر تنش جانی دگر هر زمان او را چو حق شأنی دگر
    حق بین، حق گوی وغیر از حق مجوی یک دو حرف از من به آن ملت بگوی
    بنده حق مرد آزاد ا ست و بس ملک و آئینش خدا داد است و بس
    وحی حق بیننده سود همه در نگاهش سود و بهبود همه
    جی هاں حق پرستوں کا آئین یهی هے که وه کسی کے بندے نهیں هوتے بلکه وه حق اور حقیقت کے غلام هوتے هیں وه همیشه اسی فکر میں رهتے هیں که دوسروں کی بهلائی اور بهودی کے لئے اپنی زندگی صرف کریں یعنی انسانیت کے واسطے اپنی خدمتیں انجام دیتے رهیں تحریک کر بلا کا مشن صرف حق په مبنی هے باطل کے لئے وهاں کوئی جگه نهیں هے وهاں کے آزاد مرد رنگ حقیقت سے مزین هیں ۔
    آج کے دور میں جهاں انسانیت اور حق و حقیقت کے دشمن هر طرف کے سے حق کا گلا گهونٹ رهے هیں اور طالبان حق کو نیست ونابود کیا جارها هے وهی حق پرست افراد بهی حق کی طاقت سے باطل کی گردن مروڑ رهے هیں آج اگر حق کو اپنا محور اور معیار قرار دیا جائے تو کبهی باطل سامراج اور استعماری طاقتیں اپنا سر اونچا نهیں کرسکتیں کربلا میں عروج پانے والے اقدارانسانی کے اس حق طلبی اور حق محوری کی قدر و منزلت کو دور حاضر کے واسطے دوباره احیا کرنے کی ضرورت هے بنی نوع انسان کو ان حق پرستوں کے نقش قدم کو اپنا عملی معیار قراردینا هوگا تب هی انسانی اقدار همیشه کے لئے اپنے اعلی مقام اور مرتبه پر قائم رهیں گے۔
    وفا ئے عهد
    عام طور سے اگر عالم انسانیت میں دیکها جائے توکچه ایسی چیزیں ضرورنظر آئیں گی جن میں نا تو انسان کا حسب ونسب اورقوم وملت دیکها جاتاهے اور نا هی اسکا دین وآئین ۔ان هی امور میں سے ایک وفائے عهد هے جی هاں وفائے عهد کو انسانی قدروں میں شمار کیا جاتا هےاور یه ایک ایسا فطری امرهےجوانسان کی انسانیت اور اسکی شرافت کی غمازی کرتی هیں اپنے عهد و پیمان سے وفا کرنے کا سلیقه تحریک کربلا کے جانبازوں کی نص نص میں بساهواهے ۔
    تحریک حسینی کا هر قدم وفا اور عهد و پیمان کی پابندی په قائم هے حسین اپنے بهائی اور معاویه کے درمیان صلح نامه کی قرارداد کا پورا احترام کرتے هیں اور معاویه کی موت سےپهلے کسی بهی حال میں اسے توڑنا نهیں چاهتے۔چنانچه معاویه کے نام لکهے ایک خط میں اس کی غیرانسانی اور بدرفتاری کا پرده فاش کرتے هیں لیکن عهد نامه کی نقض نهیں کرتے:
    "وما ارید حربا لک ولا خلافا علیک و ایم الله لقد ترکت ذالک"
    "میں تمهارے ساته لڑنے یا آشکارا مخالفت کرنے کے در په نهیں هوں خدا قسم میں نے (صلح نامه) کی وجه سے تیرے ساته مبارزه کو ترک کیا هے"
    اسی طرح امام حسین (ع) شب عاشورا اپنے اصحاب سے بیعت واپس لے تے هوئے انهیں کهیں بهی جانے کے لئے آزادچهوڑتےهیں لیکن ان سب نے وفا اور عهد و پیمان کا تذکره کرکے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے میں پیش قدمی کی۔
    "ولله لا نفارقک ولکن انفسنا لک الفداء نقیک بنحورنا و جباهنا و ایدینا فاذا نحن قتلنا کنا وفینا و قضینا ما علینا"
    "خدا قسم هم آپ سے هرگز جدا نهیں هونگے، هماری جانیں آپ پر فدا هوں هم اپنی چنگال اور دانتوں سے تمهاری حفاظت کریں گے اور جب قتل کئے جائیں گےگویا اپنی عهد کی وفا کی اور اپنی ذمه داری کو نبهایا"
    کربلا کے فرد فرد سے وفاعهد کو کامل کرنے کی خوشبو آتی هے هر صحابی اور ساتهی اپنے اپنے وعده پر باقی هے وه امام کا ساته نبهانے میں ذرا برابر بهی کوتاهی نهیں کرتے، امام کے ایک صحابی نافع بن هلال بجلی امام سے عرض کرتا هے: آپ چاهے مشرق کی اور چلے جائیں یا مغرب کی اور، هم تمهارے ساته رهیں گے اور تمهارے دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن بن کے جئیں گے۔
    کربلا میں اور بهی بهت سارے عهد و وفا کے کارنامے دیکهنے کو ملتے هیں جن میں حسین اور انسانیت کے دشمنوں کی طرف سے حضرت عباس اور آپکے بهائیوں کے نام امان نامه کی تجویزتهی جسے مجسمه وفا حضرت عباس ٹهکراتے هوئے اقدار انسانی کوتجلی بخشنے والے حسین (ع) کی وفاداری میں اپنا سب کچه لٹا دیتے هیں۔یه انسانیت کے پیکر وفا اور عهد و پیمان کی پابندی کے بے مثال نمونے هیں حضرت عباس نے وفاداری کو اتنا عروج بخشا که وفا دار کربلاکے نام سے هی مشهور هوئے جی هاں کربلا میں وفائے عهد کے پیکر شب عاشوره اپنے عهدو وفا کی تجدید کرکے عالم بشریت کیلئے اس انسانی اقدار کو اعلی مرتبه عطا کرتے هیں ایک انسان کی انسانیت ان هی امور سےگردیده هے آج عصر حاضر کے انسان کو چاهے که بے وفائی، خیانت اور پیمان شکنی کے اس دور میں تحریک کربلاکےان انمول انسانی قدروں کواپنا کے پهر سے انسانیت اور حقیقت کے چهرے کو آشکار کرے۔کیونکه حقیقت ابدی کی پهچان مقام حسین کے ادراک کے بغیر ناممکن هے۔
    حققیت ابدی هے مقام شبیری بدلتے رهتے هیں انداز کوفی و شامی
    نتیجه
    پس اس مقاله میں هم نے اس بات کو ثابت کردیا که پوری دنیا میں دشمنان انسانیت کے هاتهوں گرتے هوئے انسانی قدروں سے مقابله کرنے کی خاطر انسان کو پهر سے ایک ایسے عملی نمونے کی ضرورت کا احساس هوتا هے جس کی طرف وه رجوع کرکے صحیح انسان قدروں کو پهچان سکے، اور ان قدروں کو پروان چڑهانے والوں کو اپنا نمونه عمل قرار دے سکےتاکه هر حال میں اقدار انسانی کی پاسداری کرتے هوئےانسانیت کا سربلند کرسکے اس حوالے سے کربلا هی ایک ایسی نمایش اور تجلی گاه دکهائی دیتی هے جس میں نسلی، قومی، ذاتی، علاقی اور ملکی مصلحت اور مفادات سے دور، انسانی مصلحتوں اور فضیلتوں کی تعمیر نو کے لئے شیطان صفت انسانوں سے مقابله کیا جاتا هے تحریک کربلا میں ظلم، بربریت، دهشتگردی، فساد، بدکاری، ناانصافی، پیمان شکنی، غلامی، بزدلی، وغیره جیسی غیر انسانی رزیلتوں قلع و قمع کرنے کی غرض سے عدل و انصاف، نیکی اور اچهائی، وفاداری، ایثار، حریت، شجاعت، همت، عدالت اور انسانیت وغیره جیسی انسانی قدروں کے احیا کے لئے اپنا جان اور مال اور سب کچه قربان کیا جاتاهے۔
    اس حوالے سے کربلا هر چیز سے پهلے انسانیت کا مکتب هے نه کسی خاص ملت، قوم یا مذهب کا۔ لهذا دنیا کا کوئی بهی انسان کسی بهی تهذیب اور کسی بهی ذات، پات، علاقه اور عقیده کا پابند هی کیوں نه هو وه اس مکتب اور تحریک کے جیالوں کے انسانی کارناموں کو اپنی زندگی کا سرمشق بنا سکتا هےیه انسانیت کی تحریک هےانسانی قدروں کو عملی صورت دینے کا عظیم کارنامه هے یهاں انسان پرورش پاتے هیں جو رهتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے نمونه عمل بن سکتے هیں، عصر حاضر کی هر غیر انسانی درد اور بیماری کا سو فیصد علاج بهی کربلاوالوں کے انسانیت ساز پیغام پر عمل کرنے میں هی مضمر هے۔
    اس دن کی امید کے ساته جب عالم انسانیت کے هر گوشه میں پرچم کربلا لهراکے انسان اپنے آپ کو هر طرح کی غیر انسانی رزیلتوں نجات دلاکے اقدار انسانی کو پاسبان بنے گا۔انشاء الله۔

    منابع اور مآخذ
    1. قرآن مجید.
    2. الرضی، سید شریف، نهج البلاغه؛ ترجمه، سید ذیشان حیدر جوادی، چاپ دوم، قم، انتشارات انصاریان، ۲۰۰۶ ء
    3. آٓملی، جوادی، حماسه و عرفان، تنظیم؛ محمد صفائی، چاپ یازدهم، قم، مرکز نشر اسراء، ۱۳۸۷ ه۔ش۔
    4. آیتی، محمد ابراهیم، بررسی تاریخ عاشورا، مقدمه؛ علی اکبر غفاری، چاپ اول، کتابخانه صدوق، سال١٣٤٣ ه۔ش
    5. ابن اثیر، عزالدین علی بن محمد، الکامل فی التواریخ، بیروت، دار صادر، ج٤، سال١٣٨٥ق
    6. اصفهانی، علی بن حسین، مقاتل الطا لبین؛ شرح وتحقیق؛ سید احمد صقر، چاپ دوم، بیروت، مؤسسه الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۸ ه۔ق
    7. بلاذری، ابوالحسن احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقق؛ سهیل زکار، یاض زرکلی، بیروت، دارالافکر ج٣ و ۵، سال١٤٠٨ه۔ق
    8. جعفریان، رسول، تأملی در نهضت کربلا، چاپ چهارم، قم، انتشارات انصاریان، ۱۴۲۴ ه۔ق
    9. جعفری، محمدتقی، حسین شهید فرهنگ پیشرو انسانیت، تنظیم؛ شاهین، علی جعفری، چاپ هشتم، تهران، موسسه تدوین و نشر آثار علامه جعفری، ۱۳۸۷ ه۔ش
    10. خاتمی، سید احمد، عبرتهای عاشورا، چاپ هفتم، قم، انتشارات موسسه بوستان کتاب، ۱۳۸۷ ه۔ش
    11. خمینی، روح الله، صحیفه نور، ج ۱۷، ص ۴۱۰،
    12. خوارزمی حنفی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، تحقیق وتعلیق؛ احمد السماوی، قم، انتشارات مفید، ج١،
    13. دلشاد تهرانی، مصطفی، مدرسه حسینی، چاپ پانزدهم، تهران، انتشارات دریا،١٣٨١ ه۔ش
    14. راهبردهای عاشورا، چاپ اول، قم، انتشارات نمایندگی ولی فقیه در سپاه، ۱۳۸۱ ه۔ش۔
    15. شریعتی، علی، برای خود، برای ما، برای دیگر ان، انتشارات حکم، ١٣٥٦ه۔ش
    16. شریفی، محمود، فرهنگ جامع سخنان امام حسین علیه السلام، ترجمه؛ موسوعه کلمات الامام حسین، چاپ ششم، قم، نشر معروف، ۱۳۸۱ ه۔ش
    17. شعبه الحرانی، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول، قم، انتشارات بصیرتی،١٣٩٤ه۔ق
    18. شوستری، قاضی نور الله، احقاق الحق وازهاق الباطل، ج١١، تعلیق: سید شهاب الدین مرعشی، قم، چاپ مرعشی نجفی۔
    19. طاووس، رضی الدین، الملهوف علی قتل الطفوف، تحقیق وتقدیم؛ فارسی تبریزیاں، چاپ اول، دار الاسوه، ۱۴۱۴ ه۔ق
    20. طبری، محمد بن جر یر، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)، تحقیق؛ محمد ابو الفضل ابراهیم، چاپ چهارم، القاهره، دار المعارف، ج٥، سال ۱۹۷۹ ء
    21. عاملی، محسن امین، اعیان الشیعه، بیروت، دارلتعارف، ج ۱، ۔۔۔۔ه۔ق
    22. عبدالمحمدی، حسین، زمینه های قیام امام حسین،، پژوهشکده تحقیقات اسلامی قم، زمزم هدایت، ج ۲،، سال ۱۳۸۳، ه۔ش
    23. فیروز الدین، مولوی، فیروز اللغات (اردو)، چاپ اول، لاهور، فیروز سنز پرائیوٹ لمیٹڈ، ۲۰۰۵ ء
    24. قمی، عباس بن محمد رضا، مفاتیح الجنان، ترجمه؛ محمد الهی قمشه ای، دفتر نشر فرهنگ اسلامی
    25. قمی، عباس بن محمد رضا، منتهی الآمال، تهران، انتشارات جاویدان، ج١،
    26. قمی، عباس بن محمد رضا، نفس المهموم فی مصیبه سید نا الحسین المظلوم؛ تحقیق؛ رضااستادی، قم، انتشارات بصیرتی، ١٤۰٥ه۔ق
    27. قندوزی، سلیمان، ینابیع الموده، بیروت، مؤسسهالاعلمی للمطبوعات، ج ٢، سال۔۔۔۔۔۔
    28. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح وتعلیق؛ علی اکبر الغفاری، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ج٧، سال١٣٨٨ه۔ق
    29. کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج٥، بیروت، دار الندوه الجدید۔
    30. لاهوری، محمد اقبال، کلیات اقبال فارسی؛ مقدمه احمدسروش، تهران، انتشارات سنائی، ۱۳۷۶ ه۔ش
    31. لاهوری، محمد اقبال، کلیات اقبال اردو، شارح؛ اسرار زیدی، لاهو، شیخ محمد بشیر اینڈ سنز، بی تا۔
    32. مجلسی، محمد باقر، بحار انوار، چاپ سوم، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ج٤٤، ۴۵ و ٧٨، سال١٤٠٣ ه۔ق
    33. محمد بن سعد، ترجمهالامام الحسین ومقتله من الطبقات الکبری، تحقیق؛ سید عبدالعزیز الطباطبائی، چاپ اول، قم، موسسه آل البیت لاحیاء التراث١٤١٥ق
    34. معتزلی، عزالدین عبد الحمید، شرح ابن الحدید، تحقیق؛ محمد ابو الفصل ابراهیم، چاپ اول، مصر، دار احیاء الکتب العربیه، جلد ۳ و ١٣، سال١٣٧٨ه۔ق
    35. مطهری، مرتضی، انسان کامل، چاپ بیست و دوم، تهران، انتشارات صدرا، سال ۱۴۲۱ ه۔ق۔
    36. مطهری، مرتضی، حماسه حسینی، چاپ پنجاه و پنجم، تهران، انتشارات صدرا، ج ۱ و ۲، سال ۱۴۲۸ ه۔ق۔
    37. مطهری، مرتضی، ده گفتار، ده گفتار، تهران، انتشارات صدرا، ۱۳84.
    38. مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، تهران، انتشارات صدرا، ج ۱۷ ۔
    39. مطهری، مرتضی، یاداشتهای استاد مطهری، چاپ سوم، تهران، انتشارات صدرا، ج ۱، سال ۱۴۲۷ ه۔ق
    40. مفید، محمدبن نعمان، الارشاد، تصحیح؛ سید کاظم موسوی، تهران، دار لکتب الاسلامیه، ١٣٧٧ه۔ق
    41. موسوی، محمد بن حسین، کشف الغمه فی معرفه الائمه، تبریز، انتشارات بنی هاشم، ج٢، سال١٣۸۱ ه۔ق
    42. نجمی، محمد صادق، سخنان حسین بن علی علیه السلام از مدینه تا کربلا، چاپ پنجم،1364
    43. مجمع البحرین ج ۵، ص ۴۶۱، ماده کربلا
    44. جرائد اور ویب سایٹ
    45. جعفریان، رسول؛ بعثت دعوت به ارزشهای انسانی۔
    46. زنجانی، عمید، نشریه قدس؛ ۲۴/۱۲/ ۱۳۸۱
    47. علوی مهر، حسین، حضرت زینب پاسدار بزرگ ارزشها، ماهنامه کوثر، شماره ۶
    48. www.kanoonandisheh.com
    49. www.tebyan.net/Religion.html
    50. www.hawzah.net.

    • فایل مقاله : دانلود فايل
    • <#f:7352/> : <#f:7353/>
    • <#f:9774/> : <#f:9775/>
    • <#f:9776/> : <#f:9777/>