• زینب کبری (س) اور عاشورا
  • خدا تعالٰی کا شکر هے یه مختصر مقاله" زینب کبری اور عاشورا" کے عنوان سے لکهنے کی توفیق هوئی؛ اس امید کے ساته که زیاده سے زیاده اهل بیت اطهار کی معرفت حاصل؛ اور قیامت کے دن ان هستیوں کی شفاعت نصیب هوں ۔ مقاله دوفصلوں پرمشتمل هے ۔ پهلی فصل میں کربلا میں موجودبعض خواتین اور ان کی جانثاری کا تذکره ۔ اور دوسری فصل میں جناب زینب کبری اور ان کی ذمه داریوں کو بیان کرنے سے پهلے آپ کی تاریخ ولادت، نام، کنیت، القاب، حسب و نسب، شخصیت اور عظمت، علم وتقوی کو بیان کیا گیا هے ۔که آپ شهر علم میں پیدا هوئی اور دروازه علم کے دامن میں پرورش پائی اورحضرت زهرا کے پاک سینه سے تغذیه حاصل کی۔ اور ایک لمبی عمر دوامام بهائیوں کے ساته گذاری ۔
    اس کے بعد انقلاب حسینی کے مراحل اور ذمه داریوں، کوفه اور شام کے دربار میں دئے هوئے خطبوں، جس کے ضمن میں یزید کو ذلت اور رسوا کرکے اس کے کافر هونے، حسب ونسب کے اعتبار سے اس کی ماں اور اس کاباپ اور دادا کا اسلام دشمنی کو ثابت کرکے اور شام کو شام غریبان میں تبدیل کرکے مدینه واپس آنا، وغیره بیان کیا گیا هے ۔
    الله هم سب کو زینب کبری کےنقش قدم پر چلتے هوئے دین مقدس کی ترویج کرنے کی توفیق عطا فرما ۔

  • مقدمه
    الحمد لله رب العالمین وصلی الله علٰی محمد وآله الطاهرین ولعنه الله علٰی اعدائهم اجمعین الی قیام یوم الدین ۔
    خدا تعالٰی کا شکر هے که اس دفعه بهی جشنواره شیخ طوسی میں یه مختصر مقاله لکهنے کی توفیق هوئی؛ اس امید کے ساته که زیاده سے زیاده اهل بیت اطهار کی معرفت حاصل؛ اور قیامت کے دن ان هستیوں کی شفاعت نصیب هوں ۔ یه مقاله بعنوان زینب کبریٰ اور عاشورا لکها گیا هے جودوفصل پرمشتمل هے ۔ پهلی فصل میں بعض خواتین کا تذکره کیا هے جنهوں نے کربلا میں اپنا کردار ادا کی هیں ۔ اور دوسری فصل میں جناب زینب کبریاور ان کی ذمه داریوں کو عصر عاشور سے لے کر کوفه اور شام پهر کربلا تا مدینه، بیان کیا گیا هے ۔ خدا تعالی سے یهی دعا هے که هم سب کو زینب کبری کے نقش قدم پر چلتے هوئے دین مبین اسلام کی تبلیغ وترویج کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
    پهلی فصل: کربلا میں خواتین کا کردار
    معاشره سازی اور خواتین
    مرد اور عورت دونوں معاشره اور جامعه کوتشکیل دینے میں برابر کے شریک هیں۔ اسی طرح اس معاشرے کی حفاظت کرنے میں بهی ایک دوسرے کےمحتاج هیں۔ فرق صرف طور وطریقے میں هے ۔
    معاشره سازی میں خواتین کاکردار دو طرح سے نمایان هوتا هے:
    1. پهلا کردار غیر مستقیم اور ناپیدا هے جو اپنے بچّوں کی صحیح تربیت اور شوهر کی اطاعت اور مدد کرکے اداکرتی هے ۔
    2. دوسرا کردار مستقیم اور حضوری هے جو خود سیاسی اور معاشرتی امور میں حصه لےکراپنی فعالیت دکهاتی هیں ۔حقیقت یه هے که اگر خواتین کاکردار مردوں کے کردار سے بڑه کر نهیں هے تو کم بهی نهیں ۔
    عظیم شخصیات جنهوں نے معاشرے میں انقلاب پیدا کئے یا علمی درجات کو طے کئے هیں، ان کی سوانح حیات کا مطالعه کرنے سے پته چلتا هے ان کی کامیابی کاراز دو شخصیتوں کی فداکاری کا نتیجه هے، ایک وه باایمان اور فداکار ماں، جس کی تربیت کی وجه سے اس کی اولاد کامیابی کے عظیم مقام تک پهنچ گئی هیں ۔ جیساکه امام خمینی نے فرمایا: ماں کی گود سے انسان کی معراج شروع هوتی هے ۔چنانچه سید رضی اور سید مرتضی علم الهدی علمی مدارج کو طے کرتے هوئے جب اجتهاد کے درجے پر فائز هوئے تو ان کی مادر گرامی کو یه خوش خبری دی گئی تو کها: مجهے اس پر تعجب نهیں، کیونکه میں نے جس طرح ان کی پرورش کی هے، اس سے بهی بڑے مقام پر هونا چاهئے تها ۔ یا وه باوفا اور جان نثار بیوی، جس کی مدد اور همکاری کی وجه سے اس کا شوهر کامیابی کے بلند وبالا درجے تک پهنچ جاتا هے ۔
    تاریخ اسلام میں بهت سی مؤمنه اور فداکار خواتین گزری هیں جنهوں نے سیاسی اور اجتماعی امور میں اپنی فعالیت اور کرداردکهائی هیں۔ اولاد کی صحیح تربیت دینے کے علاوه خود بهی مردوں کے شانه به شانه ره کر دین اورمعاشرےکی اصلاح کی هیں۔اسی طرح کربلا میں بهی خواتین نے عظیم کارنامے انجام دی هیں ۔جن میں سے بعض خواتین کے نام درج ذیل هیں:
    دیلم، زهیر کی بیوی
    یه عظیم عورت باعث بنی که اس کا شوهر امام حسین کے باوفا اصحاب میں شامل هوکر شهادت کے عظیم درجے پر فائز هوئے ۔ چنانچه قبیله فزاره و بجیله نے نقل کی هیں که: هم زهیر بن قین کے ساته مکه سے اپنا وطن واپس آرهے تهے ۔اور امام حسین کے پیچهے پیچهے حرکت کر رهے تهے۔ جهاں بهی آن حضرت خیمه نصب کرتے تهے؛ هم اس سے تهوڑا دور خیمه نصب کرتے تهے ۔یهاں تک که ایک منزل آئی، جهاں هم کهانا کهانے میں مصروف هوگئے ۔ اچانک امام کی طرف سے قاصد آیا، سلام کیا او ر کها: اے زهیر بن قین؛ اباعبد الله الحسین نے تمهیں بلایا هے ۔جب یه پیغام سنایا توان پر سخت خوف اور دهشت طاری هوگئی اور حیرانگی کی عالم میں اس قدر بے حرکت هوگیا؛ که اگر پرنده سر پر بیٹه جاتا تو بهی پته نه چلتا ۔
    زهیر کی بیوی دیلم بنت عمرو دیکه رهی تهی؛ کها: سبحان الله! فرزند رسول تمهیں بلائے اور تم خاموش اور جواب نه دے؟! کیا تو فرزند رسول کو جواب نهیں دوگے؟ آپ جائیں اور امام کی باتوں پر غور کریں که کیا فرمانا چاهتے هیں؟ جب اس کی بیوی کا یه جزبه دیکها تو وه آنحضرت کی خدمت میں حاضر هوا ۔ کچه دیر کے بعد نورانی چهره کیساته خوشی خوشی واپس لوٹا اور حکم دیا که ان کا خیمه بههی امام حسین کے خیمے کے نزدیک نصب کرے ۔ اور اپنی وفادار بیوی سے کها: میں تجهے طلاق دیتا هوں تو اپنے والدین کے پاس چلی جائیں ۔ میں نهیں چاهتا میری وجه سے تجهے کوئی تکلیف پهنچے۔ میں نے یه اراده کیا هے که امام حسین کیساته ساته رهوں تاکه اپنے کو ان پر قربان کروں۔ اور اپنی جان کو بلاوں کا حواله کروں ۔ پهر بیوی سے مربوط جو بهی مال دولت ساته لیکر آئے تهے ان کو دیدیا ۔ اور ان کو اپنےچچازاد بهائیوں کے ساته روانه کیا ۔
    وه مؤمنه بیوی اپنی جگه سے اٹهی اور روتی هوئی زهیر کو الوداع کیا ۔ اور کها: خدا آپ کا حامی وناصر هو اور هر خیر اور نیکهی آپ کو نصیب کرے، لیکن میری ایک خواهش هے که قیامت کے دن جدّحسینکے سامنے میری شفاعت کرنا ۔
    تذکره الخواص میں سبط جوزی نے لکهاهے که زهیر بن قین کی شهادت کے بعد ان کی بیوی نے زهیر کے غلام سے کها: جاؤ اپنے آقا کیلئے کفن پهناؤ ۔جب وه غلام کفن لیکر وهاں پهنچا تو امام حسین کو برهنه دیکه کر کها: میں اپنے آقا کو کفن پهناؤں اور فرزند رسول کو عریان رکهوں؟! نهیں خدا کی قسم میں امام حسین کو کفن پهنادوں گا۔
    وهب بن عبدالله کی ماں
    وهب بن عبدالله اپنی ماں اور بیوی کے ساته امام حسین کے لشکر میں شامل تها ۔ اس کی ماں اسے شهادت کی ترغیب دلاتی تهی که میرے بیٹے اٹهو، اور فرزند رسول کی مدد کرو ۔ وهب کهتے هیں: اس معاملے میں میں کوتاهی نهیں کروں گا، آپ بےفکر رهیں ۔ جب میدان جنگ میں جاکر رجز پڑها اور دشمنوں پر حمله کرنے کے بعد ما ں اور بیوی کے پاس واپس آیا اور کها: اماں جان! کیا آپ راضی هوگئیں؟ وه شیر دل خاتون کهنے لگی: اس وقت میں تم سے راضی هونگی که تم امام حسین ؑ کی راه میں شهید هوجائے۔ اس کی بیوی نے اس کے دامن پکڑکے کها: مجهے اپنے غم میں داغدار چهوڑ کر نه جائیں ۔
    ناسخ التواریخ نے لکها هے که شب زفاف کو ۱۷ دن هی گزر ے تهے که کربلا میں پهنچے ۔ شوهر کی جدائی اس خاتون کیلئے بهت سخت تهی، کها اے وهب مجهے یقین هوگیا که اب تو فرزند رسول کی راه میں شهید هونگے اور بهشت میں حورالعین کے ساته بغل گیر هونگے اور مجهے فراموش کروگے ۔ میں ضروری سمجهتی هوں که فرزند رسول کے پاس جا کر تجه سے عهد لے لوں که قیامت کے دن مجهے فراموش نهیں کروگے۔دونوں امام حسین کی خدمت میں پهنچے۔ وهب کی بیوی نے عرض کیا: یابن رسول الله! میری دو حاجت هے:
    1. جب میرا شوهر شهید هونگے تو میں اکیلی ره جاونگی، مجهے اهلبیت اطهارکے ساته رکهیں گے ۔
    2. وهب آپ کو گواه رکهنا چاهتا هے که قیامت کے دن وه مجهے فراموش نهیں کریگا ۔
    یه سن کر امام حسین نے آنسو بهاتے هوئے فرمایا: تیری حاجتیں پوری هونگی اور اسے اطمینان دلایا۔
    ماں نے کها: اے بیٹا ان کی باتوں پر تو کان نه دهریں اور پلٹ جا، فرزند رسول پر اپنی جان کا نذرانه دو۔تاکه قیامت کے دن خدا کے سامنے تیری شفاعت کرے ۔
    وهب میدان میں گیا اور پے درپے حرم رسول خدا کی دفاع میں جنگ کرتے رهے، یهاں تک که ۱۹ گهوڑا سوار اور ۱۲ نفر پیدل آنے والوں کو جهنم واصل کیا ۔ دشمنوں نے ان کی دونوں هاتهوں کو قطع کیا ۔ آپ کی ماں نے خیمه کا ستون هاته میں لیکر میدان کی طرف نکلی اور اپنے بیٹے سے مخاطب هوکر کها: اے میرے بیٹے میرے ماں باپ تجه پر فدا هو ۔حرم رسول خداکی دفاع میں جهاد کرو ۔ بیٹے نے چاها که اپنی ماں کو واپس کرے، ماں نے بیٹے کی دامن پکڑ کے کها: جب تک تو شهید نه هوگا، میں کبهی واپس نهیں جاوں گی۔ اور جب وهب شهید هوئے تو اس کی تلوار اٹها کر میدان کی طرف روانه هوگئی ۔
    اس وقت امام حسین نے فرمایا: یا ام وهب اجلسی فقد وضع الله الجهاد عن النساء انک وابنک مع جدی محمد فی الجنه
    اے وهب کی ماں! بیٹه جائیں که خدا تعالی نے عورتوں پر سے جهاد کی تکلیف اٹهالیا هے ۔بیشک تو اور تیرے بیٹے دونوں بهشت میں میرے جد امجد کے ساته هونگے۔ خدا تمهیں اهلبیت رسول کی طرف سے جزای خیر دے، خیمے میں واپس جائیں اور بیبیوں کے ساته رهیں۔ خدا تجه پر رحمت کرے ۔امام کے حکم پر وه کنیز خدا خیمه میں واپس آگئی اور دعا کی: خدایا مجهے نا امید نه کرنا ۔ امام حسین نے فرمایا: خدا وند تمهیں ناامید نهیں کریگا۔
    وهب جب جهاد کرتے کرتے شهید هوگئے تو ان کی بیوی سرانے آکر اس کے چهرے سے خون کو صاف کیا ۔ شمر ملعون نے اپنا غلام بهیجا جس نے اس خاتون کے سر پر وارد کیا اور وه بهی شهید هوگئی ۔ اور وه پهلی خاتون تهی جو امام حسین ؑ کے لشکر میں سے شهید هوگئی۔
    امام صادق سے روایت نقل هوئی هے که وهب بن عبدالله نصرانی تها جو امام حسین کے دست مبارک پر مسلمان هوگئے۔
    وهب بن عبدالله کی شجاعت کو دیکه کر عمر سعد ملعون نے کها: ما اشدّ صولتک؟ یعنی تو کتنا شجاع هے؟ دستور دیا که اس کا سر الگ کرکے لشکر گاه حسینی کی طرف پهینک دیا جائے ۔ اس کی شیر دل ماں نے اپنے بیٹے کے سر کو دوباره لشکر عمرابن سعد کی طرف پهینکا، جس سے ایک اور دشمن واصل جهنم هوگیا۔
    همسر حبیب ابن مظاهر
    جب امام حسین کربلا میں وارد هوئے تو ایک خط محمد حنفیه کو اور ایک خط اهل کوفه کو لکها ۔ اور خصوصی طور پر اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاهر کو یوں لکها:
    بسم الله الرحمن الرحیم
    حسین ابن علی کی طرف سے فقیه انسان، حبیب بن مظاهرکے نام ۔
    هم کربلا میں وارد هوچکے هیں اور تو میری رسول الله سے قرابت کو بهی خوب جانتے هیں ۔ اگر هماری مدد کرنا چاهتے هو تو همارے پاس آئیں۔
    حبیب عبیدالله کی خوف سے قبیلے میں چهپےهوئے تهے ۔جب خط آیا تو قبیلے والے بهی اس سے آگاه هوئے، سب ارد گرد جمع هوگئے۔ اور پوچهنے لگے که کیا حسین (کی مدد کیلئے جائیں گے؟!
    انهوں نے کها: میں عمر رسیده انسان هوں میں جنگ کیا کروں گا؟ جب قبیله والوں کو آپ کی بات پر یقین هوگیا که نهیں جائیں گے، آپ کے اردگرد سے متفرق هوگئے ۔
    تو آپ کی باوفا بیوی نے کها: اے حبیب! فرزند رسول تجهے اپنی مدد کیلئے بلائے اور تو ان کی مدد کرنے سے انکار کرے، کل قیامت کے دن رسول الله کو یا جواب دوگے؟! ۔
    حبیب چونکه اپنی بیوی سے بهی تقیه کررهے تهے، کها: اگر میں کربلا جاؤں تو عبید الله ابن زیاد اور اس کےساتهی میرے گهر کو خراب اور مال جائیداد کو غارت اور تجهے اسیربنائیں گے ۔
    وه شیر دل خاتون کهنے لگیں: حبیب! تو فرزند رسول کی مدد کیلئے جائیں میری، گهر اور جائیداد کی فکر نه کریں ۔خدا کا خوف کریں ۔
    حبیب نے کها: اے خاتون! کیا نهیں دیکه رهی که میں بوڑها هوچکا هوں، تلوار اٹهانے کی طاقت نهیں رکهتا۔
    اس مومنه کی غم وغصه کی انتها نه رهی اورروتی هوئی اپنی چادر اتاردی اور حبیب کے سر پر اوڑ دی اورکهنے لگی: اگر تو نهیں جاتے تو عورتوں کی طرح گهر میں رهو! اور دلسوز انداز میں فریاد کی: یا ابا عبدالله؛ کاش میں مرد هوتی اور تیرے رکاب میں جهاد کرتی!
    جب حبیب نے اپنی بیوی کا خلوص دیکها، اور یقین هوگیا که یه دل سے کهه رهی هے؛ تو فرمایا: اے همسر! تو خاموش هوجاؤ میں تیری آنکهوں کیلئے ٹهنڈک بنوں گا ۔ اور تیرا ارمان نکالوں گا ۔
    اور میں حسینکی نصرت میں اپنی اس سفید دا ڑهی کو اپنے خون سے رنگین کروں گا۔
    کربلا میں شهیدوں کی مائیں
    کربلا میں شهید ایسے هیں که جن کی مائیں خیمه گاه میں ان پر بین کر رهی تهیں:
    1. عبدالله بن الحسین جن کی ماں حضرت رباب تهیں ۔
    2. عون بن عبدالله بن جعفر جن کی ماں حضرت زینب تهیں۔
    3. قاسم بن الحسنجن کی ماں ر مله تهیں۔
    4. عبدالله بن الحسن جن کی ماں شلیل کی بیٹی بجلیه تهیں ۔
    5. عبدالله بن مسلم جن کی ماں امیرالمومنین کی بیٹی رقیه تهیں ۔
    6. محمد بن ابی سعید بن عقیل که جن کی ماں اپنے بیٹے کو شهید هوتے هوئے دیکه رهی تهیں۔
    7. عمر بن جناده کی ماں اسے جهاد کیلئے تیار کرکے میدان جنگ میں اسے لڑتے هوئے دیکه رهی تهیں ۔
    8. عبدالله کلبی که جن کی ماں اور بیوی دونوں اسے جهاد کرتے هوئے دیکه رهی تهیں ۔
    9. علی ابن الحسین کی ما ں لیلا ان کیلئے خیمے میں نگاه کر رهی تهیں ۔
    حضرت ام البنین
    جناب فاطمه حزام کلابیه کی بیٹی تهیں ۔ جو بعد میں ام البنین کے نام سے معروف هوگئیں۔ مورخین نے لکها هے که حضرت امیر المومنین نے اپنے بهائی عقیل سے فرمایا: تو عرب کےنسب شناس هو؛ میں اپنے بیٹے حسین کی حفاظت کیلئے ایک اپنا نائب چاهتا هوں، جو حسین کی مدد کرے ۔ بهائی عقیل! کسی بهادر گهرانے کی کوئی خاتون تلاش کرو۔ ام البنین کا نام پیش کیا گیا جو شرافت و پاکدامنی اور زهد و تقوی کے اعتبار سے مشهور تهیں ۔ امیرا لمومنین نے منظور فرمایا ۔ عقد هوا، ام البنین علی کے گهر تشریف لائیں، حسن وحسین تعظیم کیلئے کهڑے هوگئے ۔ ام البنین نے هاته جوڑ کر کها: شهزادو! میں ماں بن کے نهیں، بلکه میں تو کنیز بن کر آئی هوں ۔
    جناب ام البنین کا بڑا احسان هے قیام حق پر ۔ چار بیٹے عباس، عبدالله، جعفر اورعثمان تهے، ۔ ایک پوتا تها، پانچ قربانیاں ایک گهر سے ۔مروان بن حکم کهتا هے که واقعه کربلا کے بعد میں جنت البقیع کے راستے پر گزر رها تها که دور سے کسی بی بی کے رونے کی آواز آئی ۔ میں نے گهوڑے کا رخ ادهر پهیر دیا ۔ میں نے دیکها که ایک بی بی خاک پر بیٹهی بین کر رهی هے ۔ میں نے غور سے سننے کی کوشش کی تو بین کے الفاظ یه تهے۔ عباس! اگر تیرے هاته نه کاٹے جاتے تو میرا حسین نه مارے جاتے ۔
    یه وه خاتون هیں جنهوں نے چاروں بیٹوں کو حسین کے ساته کربلا بهیجے اور اپنے ساته مدینے میں ایک بهی نهیں رکهے۔اپنے ان چاروں بیٹوں کی مصیبت کو فرزند زهراکی شهادت کے مقابلے میں آسان سمجهتی تهیں۔
    : فلما نعی الیها الاربعه، قالت: قد قطعت نیاط قلبی ۔ اولادی ومن تحت الخضراء کلهم فداء لابی عبدالله الحسین ۔ اخبرنی عن الحسین ۔ جب انهیں اپنے ایک بیٹے کی شهادت کی خبر سنائی گئی تو فرمایا: اس خبر سے کیا مراد هے؟ مجهے اباعبدالله کے بارے میں آگاه کریں ۔ جب بشیر نے اسے اپنے چار بیٹوں کی شهادت کی خبردے دی تو کها: میرا دل پهٹ گیا، میرے تمام بیٹے اور جو کچه آسمان کے نیچے موجود هیں سب اباعبدالله الحسین پر قربان هوں، مجهے اباعبد الله الحسینکے بارے میں بتائیں۔
    دوسری فصل: کربلا میں حضرت زینب کبری کا کردار
    تاریخ ولادت
    آپ کی تاریخ ولادت جو شیعوں کے درمیان مشهورهے پانچ جمادی الاول چه هجری هے ۔
    نام گزاری
    جس طرح امام حسین کا نام خدا کی طرف سے رکها گیا اسی طرح آپ کا نام بهی خدا کی طرف سے معین هوا ۔ جب آپ پیدا هوئیں؛ فاطمه نے علی سے کها: سمّ هذه المولوده ۔ فقال ما کنت لاسبق رسول الله کان فی سفر) ۔ ولما جاء النبی ساله علی فقال ماکنت لاسبق ربّی الله تعالی ۔ فهبط جبرئیل یقرء علی النبی السلام من الله الجلیل وقال له سمّ هذه المولوده زینب ۔ ثمّ اخبره بما یجری علیها من المصائب فبکی النبی وقال من بکی علی مصائب هذه البنت کان کمن بکی علی اخویها الحسن والحسین ۔
    یعنی فاطمه نے علی سے کها: اس نومولود کا نام انتخاب کریں ۔ علی نے کها: میں نے کسی بهی کام میں رسول خدا ﷺ پر سبقت نهیں کی هے ۔ که آپ سفر پر تهے ۔ جب آپ تشریف لائے تو علی نے سوال کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے بهی کسی کام کو خدا کے حکم کے بغیر انجام نهیں دیا۔ اس وقت جبرئیل امین نازل هوئے اور رسول اللهﷺکو خدا کا سلام پهنچایا اور فرمایا: اس بچی کا نام زینب رکها جائے ۔پهررسول خدا ﷺ کو اس نومولود پر بیتنے والی ساری مصیبتیں سنائی؛ تو رسول خدا ﷺ آنسو بهانے لگے ۔ پهر فرمایا: جوبهی اس بچی کی مصیبتوں پر آنسو بهائے گا ایسا هے که ان کے بهائی حسن اور حسین پر آنسو بهایا هو۔
    اسم گرامی
    زینب هے ۔ اصل میں زین اب یعنی باپ کی زینت ۔ کثرت استعمال کی وجه سے الف گر گیا هے ۔اسی لئے بعض
    نے کها: ام ابیها کے مقابلے میں زین ابیها رکها گیا ۔
    کنیت: ام المصائب هے ۔
    مشهور القاب
    شریکه الحسین، عالمه غیر معلمه که امام سجاد نے فرمایا: انت بحمد الله عالمه غیر معلمه، عقیله قریش، عقیله الوحی، نائبه الزهراء یعنی کربلا میں پنجتن پاک کے نائب موجود تهے جو بدرجه شهادت فائز هوئے:
    پیامبر اسلام ﷺ کا جانشین علی اکبرتهے ۔
    امیر المؤمنین کا جانشین؛ علمدار عباستهے ۔
    حسن مجتبیٰ کا جانشین؛ قاسم بن الحسن تهے۔فاطمه الزهرا کا جانشین آپ کی بیٹی زینب کبریٰتهیں ۔
    اور اس جانشینی کو اس قدر احسن طریقے سے انجام دیا که کربلا میں بهائی کے آخری وداع کے موقع پر اپنی ما ں کی طرف سے حلقوم اور گلے کا بوسه بهی دیا ۔
    آپ کا حسب ونسب
    ویسے تو آپ کا نسب بیان کرنے کی ضرورت نهیں تهی لیکن فن مقاله یا کتاب نویسی کی رعایت کرتے هوئے مختصر اً ذکر کرنا ضروری سمجها جاتا هے:
    آپ کا دادا: شیخ البطحیٰ مؤمن قریش، اهل مکه کا سردار حضرت ابوطالب تهے۔
    آپ کا نانا: سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ هیں ۔ چنانچه ینابیع الموده میں عمر فاروق سے روایت هے که: قَالَ عُمَرُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ یَقُولُ کُلُّ حَسَبٍ وَ نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَه مَا خَلَا حَسَبِی وَ نَسَبِی وَ کُلُّ بَنِی أُنْثَى عَصَبَتُهُمْ لِأَبِیهِمْ مَا خَلَا بَنِی فَاطِمَه فَإِنِّی أَنَا أَبُوهُمْ وَ أَنَا عَصَبَتُهُمْ ۔
    رسول خدا ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ساری نسبتیں ختم هوجائیں گی سوائے میری اور میری اولادوں کی ۔اور هر بچے کی نسبت اس کی ماں کی طرف نهیں بلکه اس کے باپ کی طرف دی جائے گی لیکن میری بیٹی فاطمه الزهرا کی اولاد کی نسبت میری طرف دی جائے گی۔
    معاشر الناس هو ناصر دین الله و المجادل عن رسول الله و هو التقی النقی الهادی المهدی نبیکم خیر نبی و وصیکم خیر وصی و بنوه خیر الأوصیاء معاشر الناس ذریه کل نبی من صلبه و ذریتی من صلب علی‏ اے لوگو! وه علی دین خدا کا مدد گار، رسول اللهﷺ کامحافظ، اور وه متقی، پرهیزگار، هدایت کرنے والا هے اور تمهارے نبی سب نبیوں سے اعلیٰ، ان کا جانشین بهترین جانشین، اور ان کی اولاد بهترین جانشین هیں ۔ اے لوگو! هر نبی کی ذریت کا سلسله ان کے اپنے صلب سے جاری هوتا هے، لیکن میری ذریت کا سلسله علی کےصلب سے جاری هوا هے ۔
    ‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَ أَبِی الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ جَالِسَیْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ص إِذْ دَخَلَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ع فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَیْهِ رَسُولُ اللَّهِ ص السَّلَامَ وَ بَشِرَ بِهِ وَ قَامَ إِلَیْهِ وَ اعْتَنَقَهُ وَ قَبَّلَ بَیْنَ عَیْنَیْهِ وَ أَجْلَسَهُ عَنْ یَمِینِهِ فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَ تُحِبُّ هَذَا یَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ یَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ وَ اللَّهِ اللَّهُ أَشَدُّ حُبّاً لَهُ مِنِّی إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ ذُرِّیَّه کُلِّ نَبِیٍّ فِی صُلْبِهِ وَ جَعَلَ ذُرِّیَّتِی فِی صُلْبِ هَذَا ۔ ‏
    عبد الله بن عباس روایت کرتا هے که میں اور میرے بابا عباس بن عبدالمطلب رسول خدا ﷺ کی خدمت میں بیٹهے هوئے تهے اتنے میں علی ابن ابیطالب تشریف لائے اور سلام کی، رسول خداﷺ نےبهی سلام کا جواب دیا اور مصافحه کیا اور گلے ملائے اور ان کے دونوں آنکهوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسه دیا اور اسے اپنے دائیں طرف بٹهادئے؛ عباس نے سوال کیا: اے الله کے رسول ﷺ! کیا آپ ان کو دوست رکهتے هیں؟ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: اے رسول خدا کے چچا جان! خدا کی قسم انهیں مجه سے بڑه کر خدا دوست رکهتا هے؛ بیشک خدا نے هر نبی کی اولاد کو ان کے اپنے صلب پاک میں رکها هے لیکن میری اولاد کو ان کے صلب میں رکها هے ۔
    امام موسی کاظم اور هارون کا مناظره
    امام کاظم فرماتے هیں که هارون نے مجه سے کها: آپ نے تمام لوگوں کو خواه عالم هو یا جاهل سب کو بتایا هوا هے که آپ کی نسبت رسول خدا ﷺ کی طرف دے دے تاکه سب کهه دے: اے رسول خدا کے بیٹے۔جبکه آپ لوگ علی ابن ابیطالب کے بیٹے هیں ۔ اور هر اولاد کو اپنے باپ کی طرف نسبت دی جاتی هے ۔اور پیامبر اسلام ﷺ آپ کے نانا هیں ۔
    میں نے هارون الرشید سے کها: اگر پیامبر گرامی دوباره زنده هوجائے اور تجه سے تیری بیٹی کا رشته مانگے تو کیا تو اپنی بیٹی کا عقد رسول اسلام ﷺ کے ساته کرو گے یا نهیں؟
    هارون: سبحان الله! کیوں نهیں ۔ بلکه اس بارے میں سارے عرب اور عجم پر فخر کروں گا ۔
    امام: میں نے هارون سے کها: لیکن پیامبر اسلام ﷺ کبهی میری بیٹی کا رشته نهیں مانگیں گے ۔
    هارون: کیوں؟
    امام: کیونکه انهوں نے مجهے جنا هے اور میں ان کی اولاد میں سے هوں۔
    هارون: احسنت یا موسیٰ ابن جعفر! لیکن اس کی دلیل آپ قرآن سے پیش کریں ۔
    امام نے آیه مباهله کی تلاوت فرمائی: فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَکمُ‏ْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَکُمْ وَ أَنفُسَنَا وَ أَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتهَِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلىَ الْکَذِبِینَ۔
    آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بهی اگر یه لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جهگڑا کریں تو آپ کهدیں: آؤ هم اپنے بیٹوں کو بلاتے هیں اورتم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، هم اپنی خواتین کو بلاتے هیں اور تم اپنی عورتوں کوبلاؤ، هم اپنے نفسوں کو بلاتے هیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پهر دونوں فریق الله سے دعا کریں که جو جهوٹا هو اس پر الله کی لعنت هو۔
    اس آیه شریفه میں صراحت کے ساته امام حسن اور امام حسین کو پیامبر ﷺ نے اپنا بیٹا کهه دیا هے ۔ اس آیه کا کوئی انکار نهیں کرسکتا۔ َ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَ یَعْقُوبَ کُلاًّ هَدَیْنَا وَ نُوحًا هَدَیْنَا مِن قَبْلُ وَ مِن ذُرِّیَّتِهِ دَاوُدَ وَ سُلَیْمَنَ وَ أَیُّوبَ وَ یُوسُفَ وَ مُوسىَ‏ وَ هَرُونَ وَ کَذَالِکَ نجَْزِى الْمُحْسِنِینَ وَ زَکَرِیَّا وَ یحَْیىَ‏ وَ عِیسىَ‏ وَ إِلْیَاسَ کلُ‏ٌّ مِّنَ الصَّالِحِینَ ۔
    اور هم نے ابراهیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کیے، سب کی رهنمائی بهی کی ۔ اور اس سے قبل هم نے نوح کی رهنمائی کی تهی ۔اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور هارون قرار دئے ۔ اور نیک لوگوں کو هم اسی طرح جزا دیتے هیں۔اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس، سب صالحین میں سے تهے ۔
    اے هارون! یه بتا که عیسی ٰ کا باپ کون تها؟
    هارون: ان کا کوئی باپ نهیں تها ۔
    امام: پس عیسی ماں کی طرف سے خدا کے نبیوں میں شمار هوتے هیں۔اسی طرح همارا شماربهی نبی کی بیٹی فاطمه زهرا کی طرف سے نبی کی اولاد شمار هوتے هیں ۔
    پدر گرامی
    سیدالوصیین امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب بن عبدالمطلب بن هاشم ابن عبد مناف هیں۔ جو ۱۳ رجب کو خانه کعبه میں پیدا هوئے اوربروز جمعه ۲۱ رمضان ۴۰ هجری کومسجد کوفه میں شهید کئے گئے ۔
    میسر نگردد به کس این سعادت به کعبه ولادت به مسجد سعادت
    والده گرامی
    ام الائمه سیده النساء العالمین فاطمه الزهراآپ کی ماں هیں ۔
    اور آپ کی ولادت بعثت کے دوسرے سال ۲۰ جمادی الثانی کو هوئی ۔
    حضرت زینب کی شخصیت اور عظمت
    ۱ ۔ آپ کا نام وحی کے ذریعے معین هوا۔
    ۲ ۔ آپ رسول الله ﷺکی اولاد میں سے هے ۔
    ۳ ۔ ان کی مصیبت میں رونا امام حسین پر رونے کے برابر هے ۔
    ۴ ۔ جب بهی امام حسین کی خدمت میں جاتی تو آپ ان کی تعظیم کیلئے کهڑے هوتے اور اپنی جگه پر بٹهاتے تهے۔
    علامه محمد کاظم قزوینی لکهتے هیں که زینب میں تمام شرافت و افتخار و عظمت کے اسباب پائے جاتے هیں۔اگر قانون وراثت کے اعتبار سے دیکها جائےتو آپ کی ماں کےسوا دنیا کی کوئی بهی خاتون کیلئے وه شرافت حاصل نهیں۔ نانا کو دیکهیں تو سید المرسلین، با با کو دیکهیں تو سید الوصیین، بهائیوں کو دیکهے تو سیدا شباب اهل الجنه، اور ماں کو دیکهیں تو سیده نساء العالمین۔
    شاعر نے یوں آپ کاحسب و نسب بیان کیا هے:
    هی زینب بنت النبی المؤتمن هی زینب ام المصائب والمحن
    هی بنت حیدر ه الوصی و فاطم وهی الشقیقه للحسین والحسن
    مشکلات اور سختیوں کے مقابلے میں صبر واستقامت اور خونخوار دشمنوں کےمقابلے میں شجاعت اور دلیری کا مظاهره کرنا آپ کی عظیم کرامتوں میں سے هے ۔ اخلاق اور کردار کے اعتبار سے عطوفت اور مهربانی کا پیکر، عصمت اور پاکدامنی کے اعتبار سے حیا و عفت کی مالکه هونا آپ کی شرافت اور عظمت کیلئے کافی هے!
    ذرا سوچیں که اگر یه ساری صفات کسی خاتون میں جمع هوجائیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فیصله کریں گے؟!
    چنانچه زینب کبری نهضت کربلا میں بهت بڑی مسئولیت اپنے ذمے لی هوئی تهی۔اپنی اس مسئولیت سے عهده برآ هونے کیلئے بچپن هی سے تلاش کر رهی تهی ۔ معصوم هی کے دامن میں پرورش اور تربیت حاصل کر رهی تهی ۔
    علم ومعرفت
    زینب کبری، رسول خدا ﷺکے شهر علم میں پیدا هوئیں اور دروازه علم کے دامن میں پرورش پائی اورحضرت زهرا کے پاک سینه سے تغذیه حاصل کیں۔ اور ایک لمبی عمر دوامام بهائیوں کے ساته گذاریں ۔ اور انهوں نے آپ کو خوب تعلیم دی ۔ اس طرح زینب کبری آل محمد ﷺ کے علوم اور فضائل سے مالامال هوئیں ۔ یهی وجه تهی سخت دشمنوں جیسے یزید بن معاویه کو بهی اعتراف کرنا پڑا ۔ اور سید سجاد نے آپ کی شان میں فرمایا: انت بحمد الله عالمه غیر معلمه و فهمه غیر مفهمه ۔
    زهد وعبادت
    عبادت کے لحاظ سے اس قدر خدا کے هاں عظمت والی تهیں که سانحه کربلا کے بعد اسیری کی حالت میں جسمانی اور روحی طور پرسخت ترین شرایط میں بهی نماز شب ترک نه هوئی۔ جبکه عام لوگوں کیلئے معمولی مصیبت یا حادثه دیکهنے پر زندگی کانظام درهم برهم هوجاتا هے ۔ اور آپ کی زهد کی انتها یه تهی که اپنا کهانا بهی یتیموں کو دیتی اور خود بهوکی رهتی؛ جس کی وجه سے بدن میں اتنا ضعف پیدا هوگیا که نماز شب اٹه کر پڑهنے سے عاجز آگئی ۔
    زهد کا معنی یهی هے که خدا کے خاطردنیا کی لذتوں کو ترک کرے ۔ بعض نے کها هے که لفظ ز، ه، د یعنی زینت، هواوهوس اور دنیا کا ترک کرنے کا نام زهد هے ۔زهد کا مقام قناعت سے بهی بالا تر هے ۔اور زهد کا بهت بڑا فائده هے ۔ چنانچه حدیث میں آیا هے: وَ مَنْ زَهِدَ فِی الدُّنْیَا أَثْبَتَ اللَّهُ الْحِکْمَه فِی قَلْبِهِ وَ أَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُ وَ بَصَّرَهُ عُیُوبَ الدُّنْیَا دَاءَهَا وَ دَوَاءَهَا وَ أَخْرَجَهُ مِنَ الدُّنْیَا سَالِماً إِلَى دَارِ السَّلَامِ ۔
    یعنی جو بهی اراده کرے که خدا اسے علم دے بغیر سیکهے؛ اور هدایت دے بغیر کسی هدایت کرنے والے کے؛ تو اسے چاهئے که وه دنیا میں زهد کو اپنا پیشه قرار دے ۔اور جو بهی دنیا میں زهد اختیار کرے گا؛ خدا تعالی اس کے دل میں حکمت ڈال دے گا ۔اور اس حکمت کے ذریعے اس کی زبان کهول دے گا، اور دنیا کی بیماریوں اور اس کی دواؤں کو دکهائے گا ۔ اور اس دنیا سے اسے صحیح و سالم وادی سلام کی طرف اٹهائے گا۔
    عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَیْراً زَهَّدَهُ فِی الدُّنْیَا وَ فَقَّهَهُ فِی الدِّینِ وَ بَصَّرَهُ عُیُوبَهَا وَ مَنْ أُوتِیَهُنَّ فَقَدْ أُوتِیَ خَیْرَ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَه ۔
    یعنی جب خدا تعالی کسی کو دنیا و آخر ت کی نیکی دینا چاهتا هے تو اسے دنیا میں زاهد اور دین میں فقیه بنا دیتا هے اور اپنے عیوب کو اسے دکها دیتا هے ۔ اور جس کو بهی یه نصیب هو جائے، اسے دنیا و آخرت کی خیر و خوبی عطا هوئی هے ۔
    حدیث قدسی میں مذکور هے: أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى یَقُولُ فِی بَعْضِ کُتُبِهِ یَا ابْنَ آدَمَ أَنَا حَیٌّ لَا أَمُوتُ أَطِعْنِی فِیمَا أَمَرْتُکَ حَتَّى أَجْعَلَکَ حَیّاً لَا تَمُوتُ یَا ابْنَ آدَمَ أَنَا أَقُولُ لِلشَّیْ‏ءِ کُنْ فَیَکُونُ أَطِعْنِی فِیمَا أَمَرْتُکَ أَجْعَلْکَ تَقُولُ لِلشَّیْ‏ءِ کُنْ فَیَکُونُ ۔
    اے فرزند آدم! میں زنده هوں جس کیلئے موت نهیں، جن چیزوں کا میں تجهے حکم دوں گا ان میں تو میری اطاعت کرو تاکه میں تجهے بهی اپنی طرح ایسی زندگی دوں که تو نه مرے، اے فرزند آدم جو کچه کهتا هوں هوجاؤ تو هوجاتا هے ۔ اگر تو چاهے که تو جو کچه کهے هوجائے؛ تو میں جوکچه تجهے حکم دونگا اس پر عمل کرو ۔
    زینب کبری بهی اپنی عبادت اور بنده گی، زهد وتقوی اور اطاعت خدا کی وجه سے ان تمام روایتوں کا مصدا ق اتم اور ولایت تکوینی کی مالکه تهیں۔ چنانچه روایت میں آئی هے که دربار شام میں خطبه دینے سے پهلے بهت شور وغل تها، انهیں خاموش کرنا هر کسی کی بس کی بات نه تهی ۔ لیکن جب آپ نے حکم دیا که خاموش هوجاؤ؛ تو لوگوں کے سینے میں سانسیں ره گئیں۔ اور بات کرنے کی جرات نه کرسکے۔
    معاشرے کی اصلاح کیلئےامام حسین نے ایک انوکها اور نیا باب کهولا وه یه تها که اپنے اس قیام اور نهضت کو دو مرحلے میں تقسیم کیا:
    حدیث عشق دوباب است کربلا تاشام یکی حسین رقم کرد و دیگری زینب
    پهلا مرحله خون، جهاد اور شهادت کا مرحله تها ۔
    دوسرا مرحله پیغام رسانی، بیدار گری، خاطرات اور یادوں کو زنده رکهنے کا مرحله ۔
    پهلے مرحلے کیلئے جان نثاراور با وفا اصحاب کو انتخاب کیا ۔ اس طرح یه ذمه داری مردوں کو سونپی گئی ۔ جنهوں نے جس انداز میں اپنی اپنی ذمه داری کو نبهایا؛ تاریخ انسانیت میں ان کی مثال نهیں ملتی۔ یهاں تک که سب به درجه شهادت فائز هوگئے۔
    اب رها، دوسرا مرحله، که جسے زینب کبری کی قیادت میں خواتین اور بچوں کے حوالے کئے۔ جسے خواتین نے جناب سیده زینب کی نگرانی میں اپنے انجام تک پهنچانا تها ۔ اس عهدے کو سنبهالنے میں حضرت زینب نے بهی کوئی کسر نهیں رکهی۔جناب محسن نقوی نے یوں اس کردار کی تصویر کشی کی هے:
    قدم قدم پر چراغ ایسے جلاگئی هے علی کی بیٹی یزیدیت کی هر ایک سازش په چها گئی هے علی کی بیٹی
    کهیں بهی ایوان ظلم تعمیر هوسکے گا نه اب جهاں میں ستم کی بنیاد اس طرح سے هلا گئی هے علی کی بیٹی
    نه کوئی لشکر نه سر په چادر مگر نه جانے هوا میں کیونکر غرورظلم وستم کے پرزے اڑا گئی هے علی کی بیٹی
    پهن کے خاک شفاکا احرام سر برهنه طواف کرکے حسین! تیری لحد کو کعبه بنا گئی هے علی کی بیٹی
    یقین نه آئے تو کوفه و شام کی فضاؤں سے پوچه لینا یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی هے علی کی بیٹی
    ابد تلک اب نه سر اٹهاکے چلے گا کوئی یزید زاده غرور شاهی کو خاک میں یوں ملا گئی هے علی کی بیٹی
    زینب کبری کو اس مسئولیت کیلیے تیار کرنا
    اگرچه زینب کبری روحی اعتبار سے تحمل اور برداشت کی قدرت رکهتی تهیں، لیکن پهر بهی یه حادثه اتنا دردناک اور مسئولیت اتنی سنگین تهی که آپ جیسی شیر دل خاتون کو بهی پهلے سے آماده گی کرنی پڑی ۔اسی لئے بچپن هی سے ایسے عظیم سانحے کیلئے معصوم کے آغوش میں ره کر اپنے آپ کو تیار کر رهی تهیں۔ چنانچه رسول الله کی رحلت کے ایام نزدیک تها، آپ اپنے جد بزرگوار کی خدمت میں گئیں اور عرض کیا: اے رسول خدا کل رات میں نے خواب دیکها که تند هوا چلی جس کی وجه سے پوری دنیا تاریک هوجاتی هے ۔ یه تند هوا مجهے ایک طرف سے دوسری طرف پهنچا دیتی هے، اچانک میری نظریں ایک تناور درخت پر پڑتی هے، تو میں اس درخت کے تلے پناه لیتی هوں ۔لیکن هوا اس قدر تیز چلتی هے که وه درخت بهی ریشه کن هوجاتا هے ۔ اور زمین پر گرتا هے تو میں ایک مضبوط شاخ سے لپٹ کر پناه لینے کی کوشش کرتی هوں۔ لیکن هوا اس شاخ کو بهی توڑ ڈالتی هے؛ میں دوسری شاخ پکڑ کر پناه لینے کی کوشش کرتی هوں؛ اسے بهی توڑڈالتی هے ۔سرانجام دو شاخیں ملی هوئی ملتی هے تو میں ان سے سهارا لیتی هوں، لیکن هوا ان دوشاخوں کو بهی توڑ ڈالتی هے، اسوقت میں نیند سے بیدار هوجاتی هوں۔!
    زینب کبری کی باتوں کو سن کر پیامبر گرامی اسلام ﷺکے آنسو جاری هوگئے۔ پهر فرمایا: اے نور نظر! وه درخت آپ کے جد گرامی هیں؛ بهت جلد تند اور تیز هوا اسے اجل کی طرف لے جائیگی۔اور پهلی شاخ آپ کے بابا اور دوسری شاخ آپ کی ماں زهرا اور دو شاخیں جو ساته ملی هوئی تهیں وه آپ کے بهائی حسن اور حسین تهے؛ جن کی سوگ میں دنیا تاریک هوجائے گی اور آپ کالے لباس زیب تن کریں گی.
    چه سال بهی پوری نهیں هوئی تهی که جد گرامی کی رحلت کے سوگ میں بیٹهنی پڑی، پهر تهوڑی هی مدت کے بعد مادر گرامی کی مصیبت، اس کے بعد امام حسن مجتبی اور امام حسین مظلوم کربلا کی مصیبت برداشت کرنی پڑی ۔
    جب مدینے سے مکه، مکه سے عراق، عراق سے شام کی مسافرت کی تفصیلات بیان کی تو بغیر کسی چون وچرا اور پیشنهاد کے اپنے بهائی کے ساته جانے کیلئے تیار هوجاتی هیں۔ اور اپنے بهائی کے ساته اس سفر پر نکلتی هیں۔ گویا ایسا لگتا هے که کئی سال پهلے اس سفر کیلئے پیشن گوئی کی گئی هے۔ یهی وجه تهی که آپ کی عقد نکاح میں بهی اپنے بهائی کے ساته سفر پر جانے کو مشروط قراردیا تها ۔
    اور جب قافله حسینی مدینے سے نکل رها تها، عبدالله بن جعفر الوداع کرنے آیا، تو زینب کبری نے کها: اے عموزاده عبدالله! آپ میرے آقا هو ۔اگر آپ اجازت نه دے تو میں نهیں جاؤں گی؛ لیکن یه یاد رکهنا که میں بهائی سے بچهڑ کر زنده نهیں ره سکونگی۔ تو جناب عبدالله نے بهی اجازت دے دی اور آپ بهائی کے ساته سفر پر نکلی ۔
    شب عاشور امام حسین کا آپ کو مشوره دینا
    قال الامام السجاد : أَبِی یَقُولُ:
    یَا دَهْرُ أُفٍّ لَکَ مِنْ خَلِیلٍ کَمْ لَکَ بِالْإِشْرَاقِ وَ الْأَصِیلِ‏
    مِنْ صَاحِبٍ وَ طَالِبٍ قَتِیلٍ وَ الدَّهْرُ لَا یَقْنَعُ بِالْبَدِیلِ‏
    وَ إِنَّمَا الْأَمْرُ إِلَى الْجَلِیلِ وَ کُلُّ حَیٍّ سَالِکٌ سَبِیلِی‏
    فَأَعَادَهَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثاً حَتَّى فَهِمْتُهَا وَ عَلِمْتُ مَا أَرَادَ فَخَنَقَتْنِیَ الْعَبْرَه فَرَدَدْتُهَا وَ لَزِمْتُ السُّکُوتَ وَ عَلِمْتُ أَنَّ الْبَلَاءَ قَدْ نَزَلَ وَ أَمَّا عَمَّتِی فَلَمَّا سَمِعَتْ مَا سَمِعْتُ وَ هِیَ امْرَأَه وَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ الرِّقَّه وَ الْجَزَعُ فَلَمْ تَمْلِکْ نَفْسَهَا أَنْ وَثَبَتْ تَجُرُّ ثَوْبَهَا وَ هِیَ حَاسِرَه حَتَّى انْتَهَتْ إِلَیْهِ وَ قَالَتْ وَا ثُکْلَاهْ لَیْتَ الْمَوْتَ أَعْدَمَنِیَ الْحَیَاه الْیَوْمَ مَاتَتْ أُمِّی فَاطِمَه وَ أَبِی عَلِیٌّ وَ أَخِیَ الْحَسَنُ یَا خَلِیفَه الْمَاضِی وَ ثِمَالَ الْبَاقِی فَنَظَرَ إِلَیْهَا الْحُسَیْنُ ع وَ قَالَ لَهَا یَا أُخْتَهْ لَا یَذْهَبَنَّ حِلْمَکِ الشَّیْطَانُ وَ تَرَقْرَقَتْ عَیْنَاهُ بِالدُّمُوعِ وَ قَالَ لَوْ تُرِکَ الْقَطَا لَیْلًا لَنَامَ فَقَالَتْ یَا وَیْلَتَاهْ أَ فَتَغْتَصِبُ نَفْسَکَ اغْتِصَاباً فَذَلِکَ أَقْرَحُ لِقَلْبِی وَ أَشَدُّ عَلَى نَفْسِی ثُمَّ لَطَمَتْ وَجْهَهَا وَ هَوَتْ إِلَى جَیْبِهَا وَ شَقَّتْهُ وَ خَرَّتْ مَغْشِیَّه عَلَیْهَا فَقَامَ إِلَیْهَا الْحُسَیْنُ ع فَصَبَّ عَلَى وَجْهِهَا الْمَاءَ وَ قَالَ لَهَا یَا أُخْتَاهْ اتَّقِی اللَّهَ وَ تَعَزَّیْ بِعَزَاءِ اللَّهِ وَ اعْلَمِی أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ یَمُوتُونَ وَ أَهْلَ السَّمَاءِ لَا یَبْقَوْنَ وَ أَنَ‏ کُلَّ شَیْ‏ءٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى الَّذِی خَلَقَ الْخَلْقَ بِقُدْرَتِهِ وَ یَبْعَثُ الْخَلْقَ وَ یَعُودُونَ وَ هُوَ فَرْدٌ وَحْدَهُ وَ أَبِی خَیْرٌ مِنِّی وَ أُمِّی خَیْرٌ مِنِّی وَ أَخِی خَیْرٌ مِنِّی وَ لِی وَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ بِرَسُولِ اللَّهِ أُسْوَه ۔
    امام سجاد فرماتے هیں که شب عاشور میری پهوپهی میری پرستاری کر رهی تهی میرے بابا اپنے خیمے میں یه اشعار پڑه رهے تهے: اے زمانه تم پر تف هو که تو کب تک اپنی آرزو اور تمنا رکهنے والوں کو خون میں آغشته کرتا رهے گا؟ و۔۔۔
    یه اشعار جب آپ نے سنی تو آپ آپے سے باهر هوگئی اور فریاد کرنے لگی۔ اور بابا کے پاس تشریف لے گئی اور فرمایا: اے کاش مجهے موت آتی، آج کادن اس دن کی طرح هے جس دن میری ماں، میرے بابا، اور بهائی حسن مجتبی اس دنیا سے رحلت فرماگئے، اب تو آپ هی ان بزرگوں کے وارث اور لواحقین کے پناه گاه هو۔
    امام حسین نے زینب کبریکی طرف دیکه کر فرمایا: میری بهن! ایسا نه هو که شیطان تیری حلم اور بردباری تجه سے چهین لے۔
    زینب کبری نے کها: بهیا! آپ کی اس بات نے میرے دل کو مزید جلادیا که آپ مجبور هیں اور ناچار هوکر شهید کئے جارهے هیں!! اس وقت گریبان چاک کرکے اپنا سر پیٹنا شروع کیا ۔ اور بیهوش هوگئیں ۔میرے بابا نے چهرے پر پانی چهڑکایا؛ جب هوش آیا تو فرمایا: میری بهن! خدا کا خوف کرو، صبر اور حوصلے سے کام لو اور جان لو که سب اهل زمین و آسمان فنا هونے والے هیں سوائے خداتعالی کے۔ میرے بابا مجه سے بهتر تهے اور ماں مجه سے بهتر تهیں اور میرے بهائی اور میرے جد امجد مجه سے افضل تهے، جب وه لوگ نه رهیں تو میں کیسے ره سکوں گا؟!
    امام مظلوم نے یوں اپنی بهن کو نصیحت کی که ایسا نه هو تفکر اور اندیشه آپ کی احساسات کے تحت شعاع چلی جائے۔اور جناب زینب نے بهی کیا خوب اس نصیحت پر عمل کیا ۔ جهاں تدبر اور تعقل سے کام لینا تها وهاں برد وباری اور شکیبائی سے کام لیا اور جهاں احساسات کا مظاهره کرنا تها وهاں بخوبی احساسات و عواطف کا مظاهره کیا ۔
    اس طرح امام مختلف مقامات پر اپنی بهن کو صبر واستقامت کی تلقین کرتے رهے ۔ اسی کا نتیجه تها که زنیب کبری نے اپنی پیغام رسانی میں کوئی کمی آنے نه دیا ۔ جسے شاعر نے یوں بیان کیا هے:
    مهکا گئی جو اپنے چمن کی کلی کلی جس نے حسینیت کو بچایا گلی گلی
    کانٹوں بهرے سفر میں جهاں تک چلی چلی لیکن سکهاگئی هے جهاں کو علی علی
    اسلا م بچ گیا یه اسی کا کمال تها ورنه خدا کے دین کا تعارف محال تها
    زینب کبری اپنے بهائی کے دوش به دوش
    سفر کے دوران تمام حادثات اور واقعات میں اپنے بهائی کے شانے به شانے رهیں۔اور امام نے بهی بهت سارے اسرارسے آگاه کیا ۔اس مطلب کو پیام اعظمی نے یوں بیان کیا هے:
    شریک کار رسالت تهے حیدر و زهرا شریک کار امامت هیں زینب و عباس
    دیا هے دونوں نے پهرا بتول کے گهر کا حصار خانه عصمت هیں زینب و عباس
    اپنے بیٹے کی شهادت
    آپ کے دو بیٹے کربلا میں شهید هوگئے لیکن آپ نے بے صبری سے کام لیتے هوئے آه وزاری نهیں کی، تاکه اپنے بهائی کے دکه اور غم واندوه میں اضافه نه هو۔ لیکن علی اکبر کے سرانے جاکر خوب رولیتی هیں تاکه اپنے بهائی کے غم واندوه میں کمی آجائے ۔
    آخری تلاش
    امام حسین زندگی کے آخری لمحات میں دشمنوں کے تیر وتلوار کے ضربات کی وجه سے لهو لهاں هوچکے تهے اور مزید دشمنوں کے ساته جنگ کرنے کی طاقت نهیں تهی۔کربلا کی زمین پر جب آئے تو لشکر ملعون عمر سعد چاروں طرف سے مختلف قسم کے ابزار اور اسلحے سے حمله کرنے لگے اور زینب کبری یه منظر دیکه رهی تهیں اور اپنے بهائی کا دفاع کرنا چاهتی تهیں ۔لیکن هزاروں کے لشکر کے سامنے اکیلی خاتون کیا دفاع کرسکتی تهیں؟ بهرصورت اپنی اس ذمه داری کو بهی آپ نے انجام دیتے هوئے عمر سعد ملعون سے کها: اے عمر سعد! اباعبدالله کو اشقیاء شهید کررهے هیں اور تو دیکه رها هے؟!! یه سن کر وه ملعون رویا اور اپنا منهوس چهره زینب کی طرف سے موڑ لیا۔
    زینب کبریٰنے اپنے بهائی کے بدن سے جدا هوتے هوئے جو عهد کیا؛ اسے شاعر اهل بیت محسن نقوی مرحوم نے یوں بیان کیا هے:
    حسین کی لاش بے کفن سے یه کهه کے زینب جدا هوئی هے
    جوتیرے مقتل میں بچ گیا هے وه کام میری ردا کرے گی
    جب بهائی کی لاش پر پهنچی
    لهوف اور ارشاد شیخ مفید میں لکها هے که جب امام حسین گهوڑے سے کربلا کی زمین پر آئے تو زینب کبریٰ بیهوش هوگئی اور جب هوش میں آئی توفریاد کرتی هوئی خیمے سے نکلی اور جب اپنے بهائی کا زخموں سے چور چور اور خاک و خون میں غلطان بدن که جس سے فوارے کی طرح خون بهه رها تها؛ دیکها تو اپنے آپ کو اس زخمی بدن پر گرایا اور اسے سینے سے لگا کر فریاد کرنے لگی: ونادت وا اخا ه! وا سیداه! لیت السماء اطبقت علی الارض و لیت الجبال اندکت علی السهل ۔ فنادت عمر ابن سعد: ویحک یا عمر! یقتل ابوعبد الله وانت تنظر الیه؟ فلم یجبها عمر بشیء فنادت: ویحکم اما فیکم مسلم؟ فلم یجبها احد ۔
    های میرے بهیا های میرے سردار!! اے کاش یه آسمان زمین پر گر چکا هوتا اور اے کاش پهاڑ ریزه ریزه هو کر خاکستر هوجاتی!! پهر عمر سعد کو آواز دی: اے عمر سعد افسوس هو تجه پر! اباعبد الله الحسین کو زبح کئے جارهے هیں اور تو تماشائی بن کر دیکه رهے هو؟! اس ملعون نے کوئی جواب نهیں دیا، پهر فریاد کی: کیا تم میں کوئی مسلمان نهیں؟!! پهر بهی کسی نے جواب نهیں دیا۔ پهر ندا دی: ءانت الحسین اخی؟! ءانت ابن امی؟! ءانت نور بصری ومهجه قلبی؟! ءانت رجائنا؟! ءانت کهفنا؟! ءانت عمادنا؟! ءانت ابن محمد المصطفی؟! ءانت ابن علی المرتضیٰ؟! ءانت ابن فاطمه الزهرا؟! اس قدر بدن مبارک زخموں سے چور چور هوگیا تها که مظلومه بهن کو پهچاننے میں مشکل هورها تها۔ فرمایا: کیا تو میرا بهائی حسین هے؟ کیا تو میرا ماں جایا حسین هے؟ کیا تو میری آنکهوں کا نور هے؟ اور دل کی ٹهنڈک هے؟ کیا تو هماری امید گاه هے؟ کیا تو همارا ملجاو ماوا هو؟ اور کیا تو همارا تکیه گاه هے؟ کیا تو محمد مصطفی ﷺ کا بیٹا هے؟ کیا تو علی مرتضیٰ اور فاطمه زهرا کا بیٹا هے؟!!
    ان کلمات کو حزین آواز میں بیان کرنے کے بعد کوئی جواب نهیں آیا کیونکه امام حسین شدید زخموں کی وجه سے غش کی حالت میں تهے، جس کی وجه سے جواب نهیں دے پارهے تهے؛ تو زینب کبری نے پهر گریه و زاری کرنا شروع کیا، فریاد کرتے کرتے آپ پر بهی غشی طاری هوگئی ۔ اور جب هوش آیا تو فرمایا: اخی بحق جدی رسول الله الا ماکلمتنی وبحق ابی امیر المؤمنین الا ما خاطبنی یا حشاش مهجتی بحق امی فاطمه الزهرا الا ما جاوبتنی یا ضیاء عینی کلمنی یا شقیق روحی جاوبنی ۔اے میرے بهیا حسین! میرے جد گرامی رسول خدا ﷺ کا واسطه مجهے جواب دو میرے بابا امیر المؤمنین کا واسطه میرے ساته کلام کرو! اے میرے جگر کے ٹکڑے! میری ماں فاطمه زهراکاواسطه مجهے جواب دو، اے میرے نور نظر! میرے ساته بات کرو، اے میری جان مجهے جواب دو۔
    جب یه کلمات ادا هوئیں تو امام کو هوش آیا اور فرمایا: اے میری پیاری بهن! آج جدائی اور فراق کا دن هے ۔ یه وهی دن هے جس کا میرے نانا رسول خدا ﷺ نے وعده کیا تها که آج ان کے ساته ملاقات کرنے کا دن هے ۔که آپ ﷺ میرے منتظر هیں ۔ ان کلمات کے ساته آپ پر غشی طاری هوگئی تو حضرت زینب نے آپ کو اپنے آغوش میں لیا اور سینے سے لگا یا ۔ اما م کچه دیر بعد پهر هوش میں آیااور فرمایا: بهن زینب! آپ نے میرا دل غموں سے بهر دیا، خدا کے خاطر آپ خاموش هوجائیں ۔
    حضرت زینب نے ایک چیخ ماری اور فرمایا: واویلاه! اخی یا بن امی! کیف اسکن و اسکت و انت بهذه الحاله تعالج سکرات الموت تقبض یمینا و تمد شمالا، تقاسی منونا ً و تلاقی احوالا ً روحی لروحک الفدا و نفسی لنفسک الوقاء۔ افسوس هو مجه پر اے میرے بهائی! اے میرے ماں جایا حسین! کیسے آرام کروں اور کیسے چپ رهوں؟! جب که آپ اس سکرات الموت کی عالم میں هو؛ اور اپنے خون میں لت پت هو؛ میری جان اور نفس آپ پر قربان هوجائیں ۔ اتنے میں شمر ملعون آکر کهنے لگا که اپنے بهائی سے جدا هوجاؤ ورنه تازیانه کے ذریعے جدا کروں گا ۔یه سننا تها زینب کبری نے اپنے بهائی کے گلے میں هاته ڈال کر کهنے لگی: یا عدو الله لا اتنحی عنه ان ذبحته فاذبحنی معه ۔ اے دشمن خدا! میں اپنے بهائی سے جدا نهیں هوجاؤں گی ۔ اگر تو انهیں ذبح کرنا چاهتے هو تو مجهے بهی ان کے ساته ذبح کرو ۔ اس وقت شمر لعین نے تازیانے کے ذریعے بهن کو بهائی سے جدا کیا ۔اور دهمکی دیتے هوئے کها: اگر قریب آجائے تو تلوار اٹهاؤں گا ۔اب یه ملعون امام عالی مقام کے نزدیک جاتا هے اور سینه اقدس پر سوار هوجاتا هے ۔ یه دیکهنا تها جناب زینب نے فرمایا:
    یا عدو الله ارفق به لقد کسرت صدره و اثقلت ظهره اما علمت ان هذا الصدر تربی علی صدر رسول الله و علی و فاطمه، ویحک هذا الذی ناغاه جبرائیل و هز مهده میکائیل بالله علیک الاّ امهلته ساعه ً لِاَتزوّد ویحک دعنی اُقبّله دعنی اغمضه دعنی انادی بناته یتزوّدون منه دعنی آتیه بابنته سکینه فانه یحبّه اے دشمن خدا! میرے بهائی پر رحم کریں تو نے ان کی پسلیوں کو توڑا هے اور ان پر اپنا بوجه ڈالا هے! کیا تو جانتا هے که یه کس کا سینه هے؟ یه وه سینه هے جو رسول الله ﷺ، علی اور فاطمه کے سینے پر آرام کیا کرتے تهے ۔ افسوس هو تجه پر یه وه ذات هے که جبرئیل جس کا همدم هے اور میکائیل ان کا جهولا جهلانے والا هے! خدا کیلئے تهوڑی سی ان کو مهلت دے تاکه میں ان سے خدا حافظی کرلوں اور ان سےزاد راه لے لوں ۔ افسوس هو تجه پر اے لعین! مجهے موقع دو تاکه میں ان کا بوسه لوں اور ان کے چهرے کی زیارت کروں ۔ اور مهلت دو تاکه میں ان کی بیٹیوں کوبهی بلاؤں۔ ان کی چهوٹی بیٹی سکینه انهیں بهت چاهتی هیں۔ اور امام کو اس سے بهت پیار هے؛ ان کو بلاؤں ۔
    مقتل سے گذرتے وقت نانا کو خطاب
    یا محمداه صلى علیک ملائکه السماء هذا الحسین مرمل بالدماء مقطع الأعضاء و بناتک سبایا إلى الله المشتکى و إلى محمد المصطفى و إلى علی المرتضى و إلى فاطمه الزهراء و إلى حمزه سید الشهداء یا محمداه هذا حسین بالعراء تسفى علیه الصبا قتیل أولاد البغایا وا حزناه وا کرباه الیوم مات جدی رسول الله ص یا أصحاب محمداه هؤلاء ذریه المصطفى یساقون سوق السبایا ۔
    اے محمد! خالق آسمان اور زمین آپ پر سلام ودرود بهیجتا هے اور یه حسین هے جو خون میں غلطان هے اور ان کا بدن ٹکڑے ٹکڑے هوچکا هے اور تیری بیٹیان اسیر هوئی هیں ۔خدا کے پاس شکایت کروں گی اور محمد مصطفی وعلی مرتضی اور سید الشهدا حضرت حمزه سے شکایت کروں گی ۔ اے محمد! یه حسین هے جو میدان میں پڑے هوئےهیں ۔ هوااس کے بدن مبارک پر چل رهی هے جسے زنازادوں نے قتل کیا هے!!
    های افسوس کتنی بڑی مصیبت هے! آج میرے نانا محمد مصطفی ﷺ اس دنیا سے چلے گئے، اے محمد کے چاهنے والو! یه مصطفی کی اولاد هیں جن کو اسیروں کی طرح گهسیٹے جارهے هیں ۔
    اپنے بهائی کے کٹے هوئے سر سے خطاب
    یَا هِلَالًا لَمَّا اسْتَتَمَّ کَمَالًا غَالَهُ خَسْفُهُ فَأَبْدَا غُرُوبَا
    مَا تَوَهَّمْتُ یَا شَقِیقَ فُؤَادِی کَانَ هَذَا مُقَدَّراً مَکْتُوبَا
    یَا أَخِی فَاطِمَ الصَّغِیرَه کَلِّمْهَا فَقَدْ کَادَ قَلَبُهَا أَنْ یَذُوبَا
    یَا أَخِی قَلْبُکَ الشَّفِیقُ عَلَیْنَا َا لَهُ قَدْ قَسَى وَ صَارَ صَلِیبَا
    یَا أَخِی لَوْ تَرَى عَلِیّاً لَدَى الْأَسْرِ مَعَ الْیُتْمِ لَا یُطِیقُ وُجُوبَا
    کُلَّمَا أَوْجَعُوهُ بِالضَّرْبِ نَادَاکَ بِذُلٍّ یَغِیضُ دَمْعاً سَکُوبَا
    یَا أَخِی ضُمَّهُ إِلَیْکَ وَ قَرِّبْهُ وَ سَکِّنْ فُؤَادَهُ الْمَرْعُوبَا
    مَا أَذَلَّ الْیَتِیمَ حِینَ یُنَادِی ِأَبِیهِ وَ لَا یَرَاهُ مُجِیبَا۔
    اے میری چاند جو کامل هوتے هی اچانک گرهن لگی اور اسے غروب کردیا ۔ اے میرے دل کے ٹکڑے! میں نےکبهی یه گمان بهی نهیں کی تهی که ایسا بهی هوگا ۔ بهیا! اپنی چهوٹی بیٹی فاطمه سے بات کرو جس کا دل ذوب هونے والا هے ۔ بهیا! تیرے مهربان دل اس قدر سخت کیوں هوا جو هماری باتوں کا جواب نهیں دیتے؟ بهیا! اے کاش اپنے بیٹے زین العابدین کو اسیری اور یتیمی کے عالم میں دیکهتے که کس قدر اپنی جگه پر خشک پڑا هے؟ جب بهی اسے تازیانه مار کر ظالم اذیت دیتے تو وه تمهیں پکارتے۔ اے بهیا! اس کی مدد کرو اور اسے تسلی دو ۔ های افسوس یتیمی کی مصیبت کس قدر سخت هے که وه اپنے بابا کوپکارے اور بابا جواب نه دے ۔
    شهادت امام حسین کے بعد زینب کبریکی تین ذمه داریاں
    مظلوم کربلا اباعبدالله شهادت کے بعد زینب کبریٰ کی اصل ذمه داری شروع هوتی هے ۔اگرچه عصر عاشور سے پهلے بهی ذمه داریاں انجام دے رهی تهیں۔ جن لوگوں کی سرپرستی آپ نے قبول کی تهی وه ایسے افراد تهے که جن کا وجود اور زندگی خطرے میں تهے ۔ جن کا نه کوئی گهر تها جس میں وه آرام کرسکے، نه کوئی کهانا ان کے ساته تها؛ جس سے اپنی بهوک ختم کرسکے اور نه کوئی پانی تها؛ که جو هر جاندار کی ابتدائی اور حیاتی ترین مایه حیات بشری هوا کرتا هے؛ اور یه سب ایسے لوگ تهے جن کے عزیز و اقارب ان کے نظروں کے سامنے خاک و خون میں نهلائے جا چکے تهے۔ ایسے افراد کی سرپرستی قبول کرنا بهت هی مشکل کام تها، اسی طرح خود ثانی زهرا بهی اپنے بیٹوں اور بهائیوں کی جدائی سے دل داغدار تهی؛ کیسے برداشت کرسکتی تهیں؟! یهی وجه تهی که سید الشهد انے آپ کے مبارک سینے پر دست امامت پهیرا کر دعا کی تهی که خداان تمام مصیبتوں کو برداشت کرنے کی انهیں طاقت دے ۔ اور یهی دعا کا ا ثر تها که کربلا کی شیردل خاتون نے ان تمام مصیبتوں کے دیکهنے کے باوجود عصر عاشور کے بعد بهیا عباس کی جگه پهره دار ی کی اور طاغوتی حکومت اور طاقت کی بنیادیں هلاکر رکه دیں۔اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر رکه دیں: شهید محسن نقوی لکهتے هیں:
    پردے میں ره کے ظلم کے پردے الٹ گئی پهنی رسن تو ظلم کی زنجیر کٹ گئی
    نظریں اٹهیں تو جبر کی بدلی بهی چهٹ گئی لب سی لئے تو ضبط میں دنیا سمٹ گئی
    ۱ ۔ امام سجادکی عیادت اور حفاظت
    همارا اعتقاد هے که سلسله امامت کی چوتهی کڑی سید السجاد هیں، چنانچه عبیدالله ابن زیاد نے عمر بن سعد کو دستور دیا تها که اولاد امام حسین میں سے تمام مردوں کو شهید کئے جائیں، دوسری طرف مشیت الهی یه تهی که مسلمانوں کیلئے ولایت اور رهبری کایه سلسله جاری رکها جائے، اس لئے امام سجاد بیمار رهے اور آپ کا بیمار رهنا دوطرح سے آپ کا زنده رهنے کیلئے مدد گار ثابت هوئی۔
    ۱ ۔ امام وقت کا دفاع کرنا واجب تها جو بیماری کی وجه سے آپ سے ساقط هوا ۔
    ۲ ۔ دشمنوں کے حملے اور تعرضات سے بچنے کا زمینه فراهم کرنا تها جو بیماری کی وجه سے ممکن هوا۔ پهر سوفیصد جانی حفاظت کا ضامن تو نه تها کیونکه خدا تعالی نهیں چاهتا که هر کام معجزانه طور پر انجام پائے بلکه جتنا ممکن هو سکے طبیعی اور علل واسباب مادی اور ظاهری طور پر واقع هو۔
    صرف دو صورتوں میں ضروری هے که خدا تعالی ائمه طاهرین کی غیبی امداد کے ذریعے حفاظت اور مدد کرے:
    ۱ ۔ معجزے کے بغیر اسلام کی بقا عادی طور پر ممکن نه هو ۔
    ۲ ۔ دین کی حفاظت مسلمانوں کی قدرت میں نه هو۔
    ایسا نهیں که کسی فداکاری اور قربانی اور مشکلات اور سختی کو تحمل کئے بغیر مسلمان اپنے دشمنوں کو نابود کرسکے۔
    چنانچه جب مشرکان قریش پیامبر اسلام کی قتل کے درپے هوئے تو خدا تعالی نے وحی کے ذریعے قریش والوں کے مکروه ارادے سے آگاه کیا اور غار ثور کے دروازے پر مکڑی کا جال بنا کر ان کی اذهان کو منحرف کیا، کیونکه اولاً تو دین اسلام کی بقا اور دوام، پیامبر اسلام کی زندگی اور حیات طیبه پر منحصر تها۔ ثانیا ً پیامبر کو دشمن کی پلانینگ سے آگاه اور مشرکوں کے اذهان کو منحرف کرنا تها؛ جو بغیر معجزے کے ممکن نه تها ۔ لیکن باقی امور کو رنج ومصیبتوں اور سختیوں کوتحمل کرکے نتیجے تک پهنچانا تها ۔جیسا که حضرت علی پیامبر کی جان بچانے کیلئے آپ بستر پر سوگئے تاکه آپ کو غار میں چهپنے کی مهلت مل جائے ۔ اور پیامبر اکرم بهی مدینے کی طرف جانے کے بجائے دوسری طرف تشریف لے گئے، تاکه کفار کے ذهنوں کو منحرف کیا جائے۔ اگر سنت الهی اعجاز دکهانا هوتی تو یه ساری زحمتیں ان بزرگواروں کو اٹهانی نه پڑتیں ۔
    امام سجاد کی حفاظت اور دیکه بال کرنا بهی اسی طرح تها؛ که زینب کبری اس سختیوں کو اپنے ذمه لے لے ۔اور پورے سفر کے دوران آپ کی حفاظت اور مراقبت کی ذمه داری آپ آپ هی قبول کرلے ۔
    کهاں کهاں زینب نے امام سجاد کی حفاظت کی؟
    جلتے هوئے خیموں سے امام سجاد کی حفاظت
    تاریخ کا ایک وحشیانه ترین واقعه عمر سعد کا اهل بیت امام حسین کے خیموں کی طرف حمله کر کے مال واسباب کا لوٹنا اور خیموں کو آگ لگانا تها ۔ اس وقت اپنے وقت کے امام سید الساجدین سے حکم شرعی پوچهتی هیں: اے کے وارث اور بازماندگان کے پناه گاه! همارے خیموں کو آگ لگائی گئی هے، همارے لئے شرعی حکم کیا هے؟ کیا انهی خیموں میں ره کر جلنا هے یا بیابان کی طرف نکلنا هے؟!
    امام سجاد نے فرمایا: آپ لوگ خیموں سے نکل جائیں۔ لیکن زینب کبری اس صحنه کو چهوڑ کر نهیں جاسکتی تهیں، بلکه آپکا امام سجاد کی نجات کیلئے رکنا ضروری تها۔
    راوی کهتا هے که میں دیکه رها تها خیموں سے آگ کے شعلے بلند هورهے تهے اور ایک خاتون بیچینی کےعالم میں خیمے کے در پر کهڑی چاروں طرف دیکه رهی تهیں، اس آس میں که کوئی آپ کی مدد کو آئے ۔ پهر آپ ایک خیمه کے اندر چلی گئی ۔ اور جب باهر آئی تو میں نے پوچها: اے خاتون! اس جلتے هوئے خیمے میں آپ کی کونسی قیمتی چیز رکهی هوئی هے؟ کیا آپ نهیں دیکه رهی هے که آگ کا شعله بلند هورها هے؟!
    زینب کبری یه سن کر فریاد کرنے لگیں: اس خیمے میں میرا ایک بیماربیٹا هے جو نه اٹه سکتا هے اور نه اپنے کو آگ سے بچا سکتا هے؛ جبکه آگ کے شعلوں نے اسے گهیر رکها هے ۔آکر کار زینب کبری نے امام سجاد کو خیمے سے نکال کر اپنے وقت کے امام کی جان بچائی ۔
    شمر کے سامنے امام سجادکی حفاظت
    امام حسین کی شهادت کے بعد لشکر عمر سعد خیمه گاه حسینی کی طرف غارت کے لئے بڑهے ۔ایک گروه امام سجاد کی طرف گئے، جب که آپ شدید بیمار هونے کی وجه سے اپنی جگه سے اٹه نهیں سکتے تهے ۔ ایک نے اعلان کیا که ان کے چهوٹوں اور بڑوں میں سے کسی پربهی رحم نه کرنا ۔دوسرے نے کها اس بارے میں امیر عمر سعد سے مشوره کرے ۔ شمر ملعون نے امام کو شهید کرنے کیلئے تلوار اٹهائی ۔ حمید بن مسلم کهتا هے: سبحان الله! کیا بچوں اوربیماروں کو بهی شهید کروگے؟! شمر نے کها: عبید الله نے حکم دیا هے ۔ حضرت زینب نے جب یه منظر دیکها تو امام سجاد کے قریب آئیں اور فریاد کی: ظالمو! اسے قتل نه کرو۔ اگرقتل کرنا هی هے تو مجهے پهلے قتل کرو ۔
    آپ کا یه کهنا باعث بنا که امام کے قتل کرنے سے عمر سعد منصرف هوگیا۔
    امام سجاد کو تسلی دینا
    جب اسیران اهل حرم کوکوفه کی طرف روانه کئے گئے، تو مقتل سے گذارے گئے، امام نے اپنے عزیزوں کو بے گور وکفن اور عمر سعد کے لشکر کے ناپاک جسموں کو مدفون پایا تو آپ پر اس قدر شاق گزری که جان نکلنے کے قریب تها ۔ اس وقت زینب کبری نے آپ کی دلداری کیلئے ام ایمن ؓ سے ایک حدیث نقل کی، جس میں یه خوش خبری تهی که آپ کے بابا کی قبر مطهر آینده عاشقان اور محبین اهلبیتکیلئےامن اورامید گاه بنے گی۔
    لِمَا أَرَى مِنْهُمْ قَلَقِی فَکَادَتْ نَفْسِی تَخْرُجُ وَ تَبَیَّنَتْ ذَلِکَ مِنِّی عَمَّتِی زَیْنَبُ بِنْتُ عَلِیٍّ الْکُبْرَى فَقَالَتْ مَا لِی أَرَاکَ تَجُودُ بِنَفْسِکَ یَا بَقِیَّه جَدِّی وَ أَبِی وَ إِخْوَتِی فَقُلْتُ وَ کَیْفَ لَا أَجْزَعُ وَ أَهْلَعُ وَ قَدْ أَرَى سَیِّدِی وَ إِخْوَتِی وَ عُمُومَتِی وَ وُلْدَ عَمِّی وَ أَهْلِی مُضَرَّجِینَ بِدِمَائِهِمْ مُرَمَّلِینَ بِالْعَرَاءِ مُسَلَّبِینَ لَا یُکَفَّنُونَ وَ لَا یُوَارَوْنَ وَ لَا یُعَرِّجُ عَلَیْهِمْ أَحَدٌ وَ لَا یَقْرَبُهُمْ بَشَرٌ کَأَنَّهُمْ أَهْلُ بَیْتٍ مِنَ الدَّیْلَمِ وَ الْخَزَرِ فَقَالَتْ لَا یَجْزَعَنَّکَ مَا تَرَى فَوَ اللَّهِ إِنَّ ذَلِکَ لَعَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى جَدِّکَ وَ أَبِیکَ وَ عَمِّکَ وَ لَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ‏ مِیثَاقَ أُنَاسٍ مِنْ هَذِه الْأُمَّه لَا تَعْرِفُهُمْ فَرَاعِنَه هَذِهِ الْأَرْضِ وَ هُمْ مَعْرُوفُونَ فِی أَهْلِ السَّمَاوَاتِ أَنَّهُمْ یَجْمَعُونَ هَذِهِ الْأَعْضَاءَ الْمُتَفَرِّقَه فَیُوَارُونَهَا وَ هَذِهِ الْجُسُومَ الْمُضَرَّجَه وَ یَنْصِبُونَ لِهَذَا الطَّفِّ عَلَماً لِقَبْرِ أَبِیکَ سَیِّدِ الشُّهَدَاءِ لَا یَدْرُسُ أَثَرُهُ وَ لَا یَعْفُو رَسْمُهُ عَلَى کُرُورِ اللَّیَالِی وَ الْأَیَّامِ وَ لَیَجْتَهِدَنَّ أَئِمَّه الْکُفْرِ وَ أَشْیَاعُ الضَّلَالَه فِی مَحْوِهِ وَ تَطْمِیسِهِ فَلَا یَزْدَادُ أَثَرُهُ إِلَّا ظُهُوراً وَ أَمْرُهُ إِلَّا عُلُوّا ۔
    خود امام سجاد فرماتے هیں: که جب میں نے مقدس شهیدوں کے مبارک جسموں کو بے گور وکفن دیکها تو مجه سے رها نه گیا ۔یهاں تک که میری جان نکلنے والی تهی، میری پهوپهی زینبنے جب میری یه حالت دیکهی تو فرمایا: اے میرے نانا، بابا اور بهائیوں کی نشانی! تجهے کیا هوگیا هے؟ که میں دیکه رهی هوں که تیری جان نکلنے والی هے ۔تو میں نے جواب دیا که پهوپهی اماں! میں کس طرح آه وزاری نه کروں؟ جب که میں دیکه رها هوں که میرے بابا اور عمو اور بهائیوں اور دیگر عزیزو اقرباء کو خون میں لت پت اور عریان زمین پر پڑے دیکه رها هوں۔اور کوئی ان کو دفن کرنے والے نهیں هیں۔ گویا یه لوگ دیلم اور خزر کے خاندان والے هیں ۔
    زینب نے فرمایا: آپ یه حالت دیکه کر آه وزاری نه کرنا ۔خدا کی قسم، یه خدا کے ساته کیا هوا وعده تها جسے آپ کے بابا، چچا، بهائی اور دیگر عزیزوں نے پورا کیا ۔خدا تعالی اس امت میں سے ایک گروه پیدا کریگا جنهیں زمانے کےکوئی بهی فرعون نهیں پهچان سکے گا ۔ لیکن آسمان والوں کے درمیان مشهور اور معروف هونگے۔ان سے عهد لیا هوا هے که ان جدا شده اعضاء اور خون میں لت پت ٹکڑوں کو جمع کریں گے اور انهیں دفن کریں گے۔وه لوگ اس سرزمین پر آپ کے بابا کی قبر کے نشانات بنائیں گےجسے رهتی دنیا تک کوئی نهیں مٹا سکے گا۔سرداران کفر والحاد اس نشانے کو مٹانے کی کوشش کریں گے، لیکن روز به روز ان آثار کی شان ومنزلت میں مزید اضافه هوتا رهے گا ۔شاعر نے یوں کها:
    وقار مریم وحوا! سلام هو تجه پر سلام ثانی زهرا! سلام هو تجه پر
    گواه هے تیری جرئت په کربلا کی زمین امام وقت کو کی تونے صبر کی تلقین
    لٹاکے اپنی کمائی بچاکے دولت دین بجها کے شمع تمنا جلا کے شمع یقین ۔
    دربار ابن زیاد میں امام سجاد کی حفاظت
    قَالَ الْمُفِیدُ فَأُدْخِلَ عِیَالُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِمَا عَلَى ابْنِ زِیَادٍ فَدَخَلَتْ زَیْنَبُ أُخْتُ الْحُسَیْنِ ع فِی جُمْلَتِهِمْ مُتَنَکِّرَه وَ عَلَیْهَا أَرْذَلُ ثِیَابِهَا وَ مَضَتْ حَتَّى جَلَسَتْ نَاحِیَه وَ حَفَّتْ بِهَا إِمَاؤُهَا فَقَالَ ابْنُ زِیَادٍ مَنْ هَذِهِ الَّتِی انْحَازَتْ فَجَلَسَتْ نَاحِیَه وَ مَعَهَا نِسَاؤُهَا فَلَمْ تُجِبْهُ زَیْنَبُ فَأَعَادَ الْقَوْلَ ثَانِیَه وَ ثَالِثَه یَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَهُ بَعْضُ إِمَائِهَا هَذِهِ زَیْنَبُ بِنْتُ فَاطِمَه بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ص فَأَقْبَلَ عَلَیْهَا ابْنُ زِیَادٍ وَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی فَضَحَکُمْ وَ قَتَلَکُمْ وَ أَکْذَبَ أُحْدُوثَتَکُمْ فَقَالَتْ زَیْنَبُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی أَکْرَمَنَا بِنَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ ص وَ طَهَّرَنَا مِنَ الرِّجْسِ تَطْهِیراً إِنَّمَا یَفْتَضِحُ الْفَاسِقُ ۔۔۔ ثُمَّ الْتَفَتَ ابْنُ زِیَادٍ إِلَى عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقِیلَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ فَقَالَ أَ لَیْسَ قَدْ قَتَلَ اللَّهُ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ فَقَالَ عَلِیٌّ قَدْ کَانَ لِی أَخٌ یُسَمَّى عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ قَتَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ فَقَالَ عَلِیٌّ اللَّهُ یَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِینَ مَوْتِها وَ الَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنامِها فَقَالَ ابْنُ زِیَادٍ وَ لَکَ جُرْأَه عَلَى جَوَابِی اذْهَبُوا بِهِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ فَسَمِعَتْ عَمَّتُهُ زَیْنَبُ فَقَالَتْ یَا ابْنَ زِیَادٍ إِنَّکَ لَمْ تُبْقِ مِنَّا أَحَداً فَإِنْ عَزَمْتَ عَلَى قَتْلِهِ فَاقْتُلْنِی مَعَهُ فَنَظَرَ ابْنُ زِیَادٍ إِلَیْهَا وَ إِلَیْهِ سَاعَه ثُمَّ قَالَ عَجَباً لِلرَّحِمِ وَ اللَّهِ إِنِّی لَأَظُنُّهَا وَدَّتْ أَنِّی قَتَلْتُهَا مَعَهُ‏ دَعُوهُ فَإِنِّی أَرَاهُ لِمَا بِهِ فَقَالَ عَلِیٌّ لِعَمَّتِهِ اسْکُتِی یَا عَمَّه حَتَّى أُکَلِّمَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ ع فَقَالَ أَ بِالْقَتْلِ تُهَدِّدُنِی یَا ابْنَ زِیَادٍ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَتْلَ لَنَا عَادَه وَ کَرَامَتَنَا الشَّهَادَه ۔
    جب خاندان نبوت ابن زیاد کی مجلس میں داخل هوئی؛ زینب کبری دوسری خواتین کے درمیان میں بیٹه گئیں؛ تو ابن زیاد نے سوال کیا: کون هے یه عورت، جو دوسری خواتین کے درمیان چهپی هوئی هے؟ زینب کبری نے جواب نهیں دیا ۔ تین بار یه سوال دهرایاتو کنیزوں نے جواب دیا: اے ابن زیاد! یه رسول خدا ﷺ کی اکلوتی بیٹی فاطمه زهرا کی بیٹی زینب کبری هے ۔ ابن زیاد آپ کی طرف متوجه هو کر کها: اس خدا کا شکر هے جس نے تمهیں ذلیل و خوار کیا اور تمهارے مردوں کو قتل کیا اور جن چیزوں کا تم دعوی کرتے تهے؛ جٹهلایا ۔
    ابن زیاد کی اس ناپاک عزائم کو زینب کبری نے خاک میں ملاتےهوئے فرمایا: اس خدا کا شکر هے جس نے اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے همیں عزت بخشی ۔ اورهرقسم کے رجس اور ناپاکی سے پاک کیا۔ بیشک فاسق هی رسوا هوجائے گا ۔
    جب ابن زیاد نے علی ابن الحسین کو دیکها تو کها یه کون هے؟ کسی نے کها: یه علی ابن الحسین هے ۔تو اس نے کها؛ کیا اسے خدا نے قتل نهیں کیا؟ یه کهه کر وه بنی امیه کا عقیده جبر کا پرچار کرکے حاضرین کے ذهنوں کو منحرف کرنا چاهتے تهے اور اپنے جرم کو خدا کے ذمه لگا کر خود کو بے گناه ظاهر کرنا چاهتا تها ۔
    امام سجاد جن کے بابا او ر پوراخاندان احیاء دین کیلئے مبارزه کرتے هوئے بدرجه شهادت فائز هوئے تهے اور خود امام نے ان شهداء کے پیغامات کو آنے والے نسلوں تک پهنچانے کی ذمه داری قبول کی تهی، اس سے مخاطب هوئے: میرا بهائی علی ابن الحسین تها جسے تم لوگوں نے شهید کیا ۔
    ابن زیاد نے کها: اسے خدا نے قتل کیا هے ۔
    امام سجاد نے جب اس کی لجاجت اور دشمنی کو دیکها تو فرمایا: اللَّهُ یَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِینَ مَوْتِهَا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِهَا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ الله هی هے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا هے اور جو نهیں مرتے هیں ان کی روحوں کو بهی نیند کے وقت طلب کرلیتا هے ۔ اور پهر جس کی موت کا فیصله کرلیتا هے، اس کی روح کو روک لیتا هے ۔ اور دوسری روحوں کو ایک مقرره مدّت کے لئے آزاد کردیتا هے - اس بات میں صاحبان فکر و نظر کے لئے بهت سی نشانیاں پائی جاتی هیں ۔
    ابن زیاد اس محکم اور منطقی جوا ب اور استدلال سن کر لا جواب هوا تو دوسرے ظالموں اور جابروں کی طرح تهدید پر اتر آیا اور کهنے لگا: تو نے کس طرح جرات کی میری باتوں کا جواب دے؟! جلاد کو حکم دیا ان کا سر قلم کرو ۔ تو اس وقت زینب کبری نے سید سجاد کو اپنے آغوش میں لیا اور فرمایا: اے زیاد کے بیٹے! جتنے همارے عزیزوں کو جو تم نے شهید کیا هے کیا کافی نهیں؟! خدا کی قسم میں ان سے جدا نهیں هونگی ۔ اگر تو ان کو شهید کرنا هی هے تو پهلے مجهے قتل کرو۔
    یهاں ابن زیاد دوراهے پر ره گیا که اس کے سمجه میں نهیں آرها تها که کیا کروں؟ ایک طرف سے کسی ایک خاتون اوربیمار جوان کو قتل کرنا ۔ دوسرا یه که زینب کبری کو جواب نه دے پانا۔ یه دونوں غیرت عرب کا منافی تها ۔
    اس وقت عمرو بن حریث نے کها: اے امیر! عورت کی بات پر انهیں سزانهیں دی جاتی، بلکه ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنا هوتا هے ۔ اس وقت ابن زیاد نے زینب کبری سے کها: خدا نے تمهارے نافرمان اور باغی خاندان کو قتل کرکے میرے دل کو چین اور سکون فراهم کیا ۔اس معلون کی اس طعنے نے زینب کبری کا سخت دل دکها یااورلادیا ۔ اس وقت فرمایا: میری جان کی قسم! تو نے میرے بزرگوں کو شهید کیا، اور میری نسل کشی کی، اگر یهی کام تیرے دل کا چین اور سکون کا باعث بنا هے تو کیا تیرے لئے شفا ملی هے؟! ابن زیاد نے کها: یه ایک ایسی عورت هے جو قیافه کوئی اور شاعری کرتی هے ۔ یعنی اپنی باتوں کو شعر کی شکل میں ایک هی وزن اور آهنگ میں بیان کرتی هے ۔ جس طرح ان کا باپ بهی اپنی شاعری دکهایا کرتا تها ۔
    زینب کبری نے کها: عورت کو شاعری سے کیا سروکار؟! لیکن میرے سینے سے جو بات نکل رهی هے وه هم قیافه اور هم وزن هے ۔
    آخر میں مجبور هوا که موضوع گفتگو تبدیل کرے اور کها: بهت عجیب رشته داری هے که خدا قسم! میرا گمان هے که زینب چاهتی هے که میں اسے ان کے برادر زادے کے ساته قتل کروں؛ انهیں لے جاؤ؛ کیونکه میں ان کی بیماری کو ان کے قتل کیلئے کافی جانتاهوں۔
    اس وقت امام سجاد نے فرمایا: اے زیاد کے بیٹے! کیا تو مجهے موت سے ڈراتے هو؟ کیا تو نهیں جانتا، راه خدا میں شهید هونا همارا ورثه اور هماری کرامت هے ۔
    قدم قدم په مقاصد کی عظمتوں کا خیال نفس نفس میں بهتیجے کی زندگی کا سوال
    ردا چهنی تو بڑها اور عصمتوں کا جلال کهلے جو بال تو نکهرا حسینیت کا جمال
    نقیب فتح شه مشرقین بن کے اٹهی نه تهے حسین تو زینب حسین بن کے اٹهی
    ۲ ۔ یتیموں کی رکهوالی اور حفاظت
    یتیموں کی رکهوالی آپ کی دوسری اهم ذمه داری تهی که جب خیمے جل کر راکه هوگئے اور آگ خاموش هوئی تو زینب کبری بیابان میں بچوں اور بیبیوں کو جمع کرنے لگیں۔جب دیکها تو امام حسین کی دو بیٹیوں کو بچوں کے درمیان میں نهیں پایا ۔ تلاش میں نکلیں تو دیکها که دونوں بغل گیر هوکر آرام کررهی تهیں؛ جب نزدیک پهنچیں تو دیکها که دونوں بهوک وپیاس اور خوف وهراس کی وجه سے رحلت کر چکی تهیں۔
    بچوں کی بهوک اور پیاس کا خیال
    اسیری کے دوران عمر سعد کی طرف سے آنے والا کهانا بالکل ناکافی تها جس کی وجه سے بچوں کو کم پڑتا تها ۔ تو آپ اپنا حصه بهی بچوں میں تقسیم کرتی تهیں اور خود بهوکی رهتی تهیں۔ جس کی وجه سے آپ جسمانی طور پر سخت کمزور هوگئی تهیں جس کے نتیجے میں آپ کهڑی هوکر نماز شب نهیں پڑ سکتی تهیں۔
    فاطمه صغریٰ کی حفاظت
    دربار یزید میں ایک مرد شامی نے جسارت کے ساته کها: حسین کی بیٹی فاطمه کو ان کی کنیزی میں دے دے ۔ فاطمه نے جب یه بات سنی تو اپنی پهوپهی سے لپٹ کر کها: پهوپهی اماں! میں یتیم هوچکی کیا اسیر بهی هونا هے؟!!
    فَقَالَتْ عَمَّتِی لِلشَّامِیِّ کَذَبْتَ وَ اللَّهِ وَ لَوْ مِتُّ وَ اللَّهِ مَا ذَلِکَ لَکَ وَ لَا لَهُ فَغَضِبَ یَزِیدُ وَ قَالَ کَذَبْتِ وَ اللَّهِ إِنَّ ذَلِکَ لِی وَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ قَالَتْ کَلَّا وَ اللَّهِ مَا جَعَلَ اللَّهُ لَکَ ذَلِکَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ مِنْ مِلَّتِنَا وَ تَدِینَ بِغَیْرِهَا فَاسْتَطَارَ یَزِیدُ غَضَباً وَ قَالَ إِیَّایَ تَسْتَقْبِلِینَ بِهَذَا إِنَّمَا خَرَجَ مِنَ الدِّینِ أَبُوکِ وَ أَخُوکِ قَالَتْ زَیْنَبُ بِدِینِ اللَّهِ وَ دِیْنِ أ بِی وَ دِیْنِ أَخِی اهْتَدَیْتَ أَنْتَ وَ أَبُوکَ وَ جَدُّکَ إِنْ کُنْتَ مُسْلِماً قَالَ کَذَبْتِ یَا عَدُوَّه اللَّهِ قَالَتْ لَهُ أَنْتَ أَمِیرٌ تَشْتِمُ ظَالِماً وَ تَقْهَرُ لِسُلْطَانِکَ فَکَأَنَّهُ اسْتَحْیَا وَ سَکَتَ وَ عَادَ الشَّامِیُّ فَقَالَ هَبْ لِی هَذِهِ الْجَارِیَه فَقَالَ لَهُ یَزِیدُ اعْزُبْ وَهَبَ اللَّهُ لَکَ حَتْفاً قَاضِیاً فَقَالَ الشَّامِیُّ مَنْ هَذِهِ الْجَارِیَه فَقَالَ یَزِیدُ هَذِهِ فَاطِمَه بِنْتُ الْحُسَیْنِ وَ تِلْکَ زَیْنَبُ بِنْتُ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ الشَّامِیُّ الْحُسَیْنُ ابْنُ فَاطِمَه وَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الشَّامِیُّ لَعَنَکَ اللَّهُ یَایَزِیدُ تَقْتُلُ عِتْرَه نَبِیِّکَ وَ تَسْبِی ذُرِّیَّتَهُ وَ اللَّهِ مَا تَوَهَّمْتُ إِلَّا أَنَّهُمْ سَبْیُ الرُّومِ فَقَالَ یَزِیدُ وَ اللَّهِ لَأُلْحِقَنَّکَ بِهِمْ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ ۔
    زینب کبری نے شهامت اور جرئت کے ساته مرد شامی سے مخاطب هوکر کها: خدا کی قسم تو غلط کهه رها هے، تمهاری کیا جرئت که تو میری بیٹی کو کنیز بنا سکے؟!!
    یزید نے جب یه بات سنی تو غضبناک هوا اور کها: خدا کی قسم یه غلط کهه رهی هے ۔ میں اگر چاهوں تو اس بچی کو کنیز ی میں دے سکتا هوں۔
    زینب کبری نے کها: خدا کی قسم تمهیں یه حق نهیں هے؛ مگر یه که همارے دین سے خارج هو جائے۔
    یه بات سن کر یزید نے غصے میں آکر کها: میرے ساته اس طرح بات کرتی هو جبکه تیرے بهائی اور باپ دین سے خارج هوچکے هیں ۔
    زینب کبری نے کها: اگرتو مسلمان هو اور میرے جد اور بابا کے دین پر باقی هو تو تواورتیرے باپ داداکو میرے باپ دادا کے ذریعے هدایت ملی تهی۔
    یزید نے کها: تو جهوٹ بولتی هو اے دشمن خدا ۔
    زینب کبری نے فرمایا: تو ایک ظالم انسان هو اور اپنی ظاهری قدرت اور طاقت کی وجه سے اپنی بات منوانا چاهتے هو۔
    اس بات سے یزید سخت شرمنده هوا اور چپ هوگیا۔
    اس وقت مرد شامی نے یزید سے دوباره کها: اس بچی کو مجهے دو ۔
    یزید نے اس سے کها: خاموش هوجا! خدا تجهے نابود کر ے ۔
    اس شامی نے کها: آخر یه بچی کس کی هے؟!
    یزید نے کها: یه حسین کی بیٹی هے ۔ اور وه عورت زینب بنت علی ابن ابیطالب هے ۔
    اس مرد شامی نے کها: حسین!! فاطمه اور علی کا بیٹا؟! جب هاں میں جواب ملا تو کها: اے یزید! خدا تجه پر لعنت کرے! پیامبرﷺ کی اولادوں کو قتل کرکے ان کی عترت کو اسیر کرکے لے آئے هو! خدا کی قسم میں ان کو ملک روم سے لائے هوئے اسیر سمجه رها تها ۔
    یزید نے کها: خدا کی قسم! تجهے بهی ان سے ملحق کروں گا ۔ اس وقت اس کا سر تن سے جدا کرنے کا حکم دیا ۔
    ۳ ۔ انقلاب حسینی کی پیغام رسانی
    جیسا که پهلے بیان هوا که انقلاب حسینی کے دو باب هیں: ایک جنگ وجهاد اور شهادت ۔ دوسرا ان شهادتوں کا پیغام لوگوں تک پهنچانا۔ اب قیام امام حسین کے پیغامات طبیعی طورپر مختلف ملکوں تک پهچانے کیلئے کئی سا ل لگ جاتا؛ جس کی دلیل یه هے که مدینه والوں کو اهلبیت کے وارد هونے سے پهلے واقعه کربلا کا پته تک نه تها ۔ اس طرح بنی امیه که تمام وسائل و ذرایع اپنی اختیار میں تهیں ۔سارے ممالک اور سارے عوام کو اپنے غلط پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی حقانیت اور امام حسین کو باغی ثابت کرسکتا تها۔اگرچه انهوں نے اپنی پوری طاقت استعمال کی که اپنی جنایت اور ظلم وبربریت کو چهپائے اور اپنے مخالفین کو بے دین، دنیا پرست، قدرت طلب، فسادی کے طور پر پهچنوایا جائے۔ چنانچه زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف جهوٹےگواه تیار کرکے ان پر کفر کا فتوی جاری کیا ۔ اسی طرح ابن زیاد اور یزید نے امام حسین اور انکے ساتهیوں کے خلاف سوء تبلیغات شروع کرکے امام کو دین اسلام سے خارج، حکومت اسلا می سے بغاوت اور معاشرے میں فساد پیدا کرنے والے معرفی کرنا چاها اور قیام حسینی کو بے رنگ اور کم اهمیت بنانا چاها ۔ لیکن اهلبیت کی اسیری اور زینب کبری کے ایک خطبے نے ان کے سارے مکروه عزائم کو خاک میں ملا دیا؛ اور پوری دنیا پرواضح کردیا؛ که یزید اور اس کے حمایت کرنے والے راه ضلالت اور گمراهی پر هیں ۔ اور جو کچه ادعی کر رهے هیں وه سب جهوٹ پر مبنی هے ۔ اور بالکل مختصر دنوں میں ان کے سالها سال کی کوششوں کو نابود کردیا ۔ اور مام حسین کی مظلومیت، عدالت خواهی، حق طلبی، دین اسلام کی پاسداری اور ظلم ستیزی کو چند هی دنوں میں بهت سارے شهروں اور ملکوں پر واضح کردیا۔ یزید اس عمل کے ذریعے لوگوں کو خوف اور وحشت میں ڈالنا چاهتا تها تاکه حکومت کے خلاف کوئی سر اٹهانے کی جرات نه کر سکے۔ لیکن تهوڑی هی مدت کے بعد انقلاب حسینی نے مسلمانوں میں ظالم حکومتوں کے خلاف قیام کرنے کی جرات پیدا کی ۔ چنانچه اسیران اهلبیت شام سے واپسی سے پهلے هی شامیوں نے یزید اور آل یزید پر لعن طعن کرنا شروع کیا ۔ اور خود یزید بهی مجبور هوا که ان کیلئے اپنے شهیدوں پر ماتم اور گریه کرنے کیلئے گهر خالی کرنا پڑا۔یهاں سے معلوم هوتا هے فاتح کون تها اور مغلوب کون؟ کیونکه جیتے اور هارنے کا فیصله جنگ وجدال کے بعد نتیجه اور هدف کو دیکهنا هوتا هے ۔ظاهرهے که امام حسین کا هدف اسلام کو بچانا تها اور بچ گیا ۔ اور فاتح وه هے جس کی بات منوائی جائے وه غالب اور جس پر بات کو تحمیل کیا جائے اور اپنے کئے هوئے اعمال کو کسی دوسرے کے اوپر ڈالے جیسا که یزید نے کها که امام حسین کو میں نےنهیں بلکه عبید الله ابن زیاد نے شهید کیا هے، وه مغلوب هے ۔
    عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع: قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ وَ قَدْ قُتِلَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِمْ اسْتَقْبَلَهُ إِبْرَاهِیمُ بْنُ طَلْحَه بْنِ عُبَیْدِ اللَّهِ وَ قَالَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ مَنْ غَلَبَ وَ هُوَ یُغَطِّی رَأْسَهُ وَ هُوَ فِی الْمَحْمِلِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ مَنْ غَلَبَ وَ دَخَلَ وَقْتُ الصَّلَاه فَأَذِّنْ ثُمَّ أَقِمْ ۔
    امام صادق روایت کرتے هیں که امام زین العابدین نے فرمایا: جب شام سے مدینه کی طرف روانه هورهے تهے تو ابراهیم بن طلحه بن عبید الله میرے نزدیک آیا اور مذاق کرتے هوئے کها: کون جیت گیا؟
    امام سجاد نے فرمایا: اگر جاننا چاهتے هو که کون جیتے هیں؛ تو نماز کا وقت آنے دو اور اذان و اقامت کهنے دو، معلوم هوجائے گا که کون جیتا اور کون هارا؟
    یزید کا هدف اسلام کو مٹانا تها ۔اور امام حسین کا هدف اسلام کا بچانا تها ۔ اور آج هم دیکه رهے هیں که دنیا کے تمام ادیان اور مذاهب پر دین مبین اسلام غالب اور معزز اور هر دل عزیز نظر آرها هے ۔ خصوصا انقلاب اسلامی کے بعد اسلام حقیقی سے لوگ آشنا اوراس کی طرف مائل هورهے هیں ۔اور یه سب زینب کبری کی مرهون منت هے:
    شبیر کا پیغام نه بڑهتا کبهی آگے کی هوتی نه عابد نے اگر راه نمائی
    زینب کے کهلے بالوں نے سایه کیا حق پر عابد کے بندهے هاتهوں نے کی عقد گشائی
    مجلس ابن زیاد میں
    اگرچه ایسی شرائط میں کوئی بهی انسان تقریر کرنے پر قادر نهیں هوتا لیکن یه زینب بنت علی تهیں جو بدترین شرائط اور موقعیت میں بهترین اورنافذ ترین خطبه دیا۔درحقیقت قلم اور بیان اس کی توصیف اور تعریف کرنے سے قاصر هیں۔اپنے عزیز ترین افراد کے سوگ میں بیٹهی هیں ۔کئی رات اور دن گزرگئے تهے که استراحت اور آرام نه کرپائی تهیں، کئی دنوں سے بهوکی وپیاسی تهیں، ان کے علاوه اهلبیت رسول کی نگهبانی اور حفاظت جیسی سنگین مسئولیت بهی آپ هی کے کاندں پر تهی ۔پهر بهی اتنے مصائب و آلام کے پهاڑ ٹوٹ پڑنے کے باوجود معمولی سی جسمی یا روحی طور پر تبدیلی کے بغیر اس قدر فصیح وبلیغ خطبه دیا که کوفه والوں کو علی ابن ابی طالبکا خطبه یاد آنےلگا ۔
    ازنظر مخاطبین بهت سارے لوگ بنی امیه کے غلط پروپیگنڈے کی وجه سے اهلبیت کو ایک باغی، فسادی اور نا امنیت پهیلانے والاگروه تصور کرتے تهے اور کوئی بهی ایک اسیر خاتون کی تقریر اور بیان کو سننے کیلئے آماده نه تهے۔اور محیط بهی کسی بهی صورت میں خطاب کیلئے مناسب نهیں تها۔ ایک طرف سے شور وغل اور هلهله اور خوشی اور ڈول باجے کی آوازبلند هو رهی تهی تو دوسری طرف سے آه وزاری اور گریه اور اونٹوں کی گردنوں میں لٹکائی هوئی گنٹیوں کی آواز بلند هورهی تهی۔اور ادهر سے سپاهیوں کی آوازیں بلند هورهی تهی۔ ایسی صورت میں ان سب کو خاموش کرکے اپنی بات منوانامعجزے سے کم نهیں تها۔ اور یه معجزه ثانی زهرا نے کر کے دکهایا ۔ قَالَ بَشِیرُ بْنُ خُزَیْمٍ الْأَسَدِیُّ نَظَرْتُ إِلَى زَیْنَبَ بِنْتِ عَلِیٍّ ع یَوْمَئِذٍ وَ لَمْ أَرَ وَ اللَّهِ خَفِرَه قَطُّ أَنْطَقَ مِنْهَا کَأَنَّمَا تُفَرِّعُ عَنْ لِسَانِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ع وَ قَدْ أَوْمَأَتْ إِلَى النَّاسِ أَنِ اسْکُتُوا فَارْتَدَّتِ الْأَنْفَاسُ وَ سَکَنَتِ اْلْأَجْرَاسُ ۔راوی کهتا هے که میں نے زینب بنت علی کو امیر المؤمنینکی زبان میں ایسا فصیح و بلیغ خطبه دیتے هوئےکبهی نهیں سنا تها، آپ نےهاته کے ایک اشارے سے سب کو خاموش کیا هر ایک کی سانسیں سینوں میں ره گئیں، اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی هوئی گهنٹیاں بهی خاموش هوگئی۔پهر خدا کی حمد وثناء اور اس کے پیامبر ﷺ پر سلام و درود پڑهنے کے بعد فرمایا:
    یَا أَهْلَ الْکُوفَه یَا أَهْلَ الْخَتْلِ وَ الْغَدْرِ أَ تَبْکُونَ فَلَا رَقَأَتِ الدَّمْعَه وَ لَا هَدَأَتِ الرَّنَّه إِنَّمَا مَثَلُکُمْ کَمَثَلِ الَّتِی نَقَضَتْ غَزْلَها مِنْ بَعْدِ قُوَّه أَنْکاثاً تَتَّخِذُونَ أَیْمانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ أَلَا وَ هَلْ فِیکُمْ إِلَّا الصَّلِفُ وَ النَّطِفُ وَ مَلْقُ الْإِمَاءِ وَ غَمْزُ الْأَعْدَاءِ أَوْ کَمَرْعًى عَلَى دِمْنَه أَوْ کَفِضَّه عَلَى مَلْحُودَه أَلَا سَاءَ مَا قَدَّمَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَیْکُمْ وَ فِی الْعَذَابِ أَنْتُمْ خَالِدُونَ أَ تَبْکُونَ وَ تَنْتَحِبُونَ إِی وَ اللَّهِ فَابْکُوا کَثِیراً وَ اضْحَکُوا قَلِیلًا فَلَقَدْ ذَهَبْتُمْ بِعَارِهَا وَ شَنَآنِهَا وَ لَنْ تَرْحَضُوهَا بِغَسْلٍ بَعْدَهَا أَبَداً وَ أَنَّى تَرْحَضُونَ قَتْلَ سَلِیلِ خَاتَمِ الْأَنْبِیَاءِ وَ سَیِّدِ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّه وَ مَلَاذِ خِیَرَتِکُمْ وَ مَفْزَعِ نَازِلَتِکُمْ وَ مَنَارِ حُجَّتِکُمْ وَ مَدَرَه سُنَّتِکُمْ أَلَا سَاءَ مَا تَزِرُونَ وَ بُعْداً لَکُمْ وَ سُحْقاً فَلَقَدْ خَابَ السَّعْیُ وَ تَبَّتِ الْأَیْدِی وَ خَسِرَتِ الصَّفْقَه وَ بُؤْتُمْ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْکُمُ الذِّلَّه وَ الْمَسْکَنَه وَیْلَکُمْ یَا أَهْلَ الْکُوفَه أَیَّ کَبِدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ فَرَیْتُمْ وَ أَیَّ کَرِیمَه لَهُ أَبْرَزْتُمْ وَ أَیَّ دَمٍ لَهُ سَفَکْتُمْ وَ أَیَّ حُرْمَه لَهُ انْتَهَکْتُمْ لَقَدْ جِئْتُمْ بِهِمْ صَلْعَاءَ عَنْقَاءَ سَوَّاءَ فَقْمَاءَ وَ فِی بَعْضِهَا خَرْقَاءَ شَوْهَاءَ کَطِلَاعِ الْأَرْضِ وَ مُلَاءِ السَّمَاءِ أَ فَعَجِبْتُمْ أَنْ قَطَرَتِ السَّمَاءُ دَماً وَ لَعَذَابُ الْآخِرَه أَخْزَى وَ أَنْتُمْ لَا تُنْصَرُونَ فَلَا یَسْتَخِفَّنَّکُمُ الْمَهَلُ فَإِنَّهُ لَا تَحْفِزُهُ الْبِدَارُ وَ لَا یُخَافُ فَوْتُ الثَّأْرِ وَ إِنَّ رَبَّکُمْ لَبِالْمِرْصَادِ
    اے کوفه والو! اے دغل بازو، اے مکار اور خیانت کار لوگو! کیا تم روتے هو؟ کبهی تمهاری آنکهیں خشک نه هوں اور غم و اندوه تم سے دور نه هوں حقیقت میں تمهاری مثال اس عورت کی مثال هے جو اون یا کاٹن سے دهاگه کاتنے کے بعد پهر اس دهاگے کو کهول دیتی هے۔ تم بهی اسی طرح عهد و پیمان باندهنے کے بعد پهر عهد شکنی کرتے هو۔
    تمهارے پاس سوائے فریب دینے، جهوٹ بولنے اور دشمنی کرنے، کنیزوں کی طرح چاپلوسی کرنے اور دشمنوں کے لئے سخن چینی کرنے کے سوا هے هی کیا؟!
    بالآخر زینب کبری کوفه والوں سے سخت لهجے میں مخاطب هوئیں، کیونکه یهاں بات اب سمجهانے کی نهیں تهی ۔ یه سب جانتے تهے که حسین اور اصحاب حسین ناحق مارے گئے هیں ۔ اهلبیت کی عظمت کو بهی جانتے تهے، زینب کبری کی عظمت کو بهی جانتے تهے ۔ کیونکه چار سال تک کوفے کی خواتین کو درس تفسیر دیتی رهی تهی۔ لهذا تند لهجے میں فرمایا: تم لوگوں نے اپنے لئے بدترین زاد راه تیار کئے هیں؛ خدا کا غضب اور همیشه رهنے والا عذاب اپنے لئے تیار کئے هیں ۔کی تم لوگ میرے بهائی کیلئے روتے هو؟ واقعاً تم لوگ رونے کے قابل هیں؛ خوب رو لیں اور کم هنسا کریں ۔ننگ و عار هو تم پر، جسے تم کبهی دهو نهیں سکتے؛ که تم نے خاتم الانبیا ﷺ، معدن رسالت کے بیٹے اور جوانان بهشت کے سردار کو شهید کئے هیں ۔ جو میدان جنگ میں تمهارے ساته تهے اور صلح کے موقع پر تمهارے لئے باعث آرام و سکون، تمهارے زخموں کیلئے مرهم، اور سختیوں کے موقع پر ملجاء و ماوا اور مرجع تهے، جو تم نے اپنے لئے آگے بهیجے هیں وه آخرت کیلئے بهت برا توشه هے ۔ نابود هو تم، سرنگون هو تم! جس چیز کیلئےتم نے تلاش کی تهی وه تمهارے هاته نهیں آئے گی، تمهارے هاته کٹ گئے اور معاملے میں نقصان اٹهائے اور غضب الهی کو اپنے لئے خرید لئے، اور ذلت و خواری تمهاری تقدیر میں حتمی هوگئی۔
    کیا تم جانتےهو که رسول خدا ﷺ کے کس جگر گوشے کو شکافته کیا؟ اور کس پردے کو چاک کیا؟ اور کس کی بے حرمتی کی؟! اور کس کا خون بهائے هو؟! تم نے ایسا کام کئے هیں که قریب تها آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین شکافته هوجائے اور پهاڑیں ریزه ریزه هوجائیں؟! مصیبت اتنی شدید هے که جس سے نکلنے کا کوئی راسته نهیں اور زمین اور آسمان ومافیها سے بهی بڑه کر هے ۔خدا کا عذاب جهنم کیلئے آماده هو جاؤ، کوئی تمهیں اس عذاب سے چهڑانے والا موجود نهیں ۔ ۔۔اس کے بعد یه اشعار پڑهیں:
    کیا جواب دو گے جب پیامبر اکرم ﷺ تم سے قیامت کے دن سوال کرے که یا تم نے کیا کئے هیں؟! تم تو میری آخری امت تهی! میری اولادوں میں سے بعض اسیر هیں اور بعض خون میں لت پت! کیا تمهارے لئے میری دلسوزی کا یهی صله تها که جو تم نے میرے بعد میری اولادوں کے ساته روا رکهے؟ میں ڈرتا هوں اس عذاب سے جو تم پر نازل هونے والا هے، جس طرح قوم ارم پر نازل هوا؟ اس کے بعد ان سے منه موڑ لیں ۔
    حزیم کهتا هے: قَالَ فَوَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَیْتُ النَّاسَ یَوْمَئِذٍ حَیَارَى یَبْکُونَ وَ قَدْ وَضَعُوا أَیْدِیَهُمْ فِی‏ أَفْوَاهِهِمْ که زینب کبری کے خطبے نے سب کوفه والوں کو رلایا ۔ وه لوگ ندامت اور پشیمانی کے عالم میں انگشت به دندان هوگئے تهے، وَ رَأَیْتُ شَیْخاً وَاقِفاً إِلَى جَنْبِی یَبْکِی حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْیَتُهُ وَ هُوَ یَقُولُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَ أُمِّی کُهُولُکُمْ خَیْرُ الْکُهُولِ وَ شَبَابُکُمْ خَیْرُ الشَّبَابِ وَ نِسَاؤُکُمْ خَیْرُ النِّسَاءِ وَ نَسْلُکُمْ خَیْرُ نَسْلٍ لَا یُخْزَى وَ لَا یُبْزَى۔
    اس وقت میرے قریب ایک بوڑها شخص بیٹها تها، شدیدگریه کرتےهوئے آهسته آهسته کهه رها تها: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کے بزرگان افضل ترین هستیاں هیں، آپ کے جوانان بهترین جوانان عالم اور آپ کی خواتین بهترین خواتین عالم هیں، آپ کی اولاد بهترین اولاد هیں، آپ لوگ کبهی رسوا اور خوار اور مغلوب نهیں هونگے۔
    اس کے بعد امام زین العابدین نے فرمایا: پهوپهی جان! اب آپ خاموش هوجائیں، جوزنده هیں وه گذشتگان سے عبرت حاصل کریں گے ۔ اور آپ بحمد الله عالمه غیر معلمه اور عاقله بنی هاشم هیں؛ رونے سے شهداء واپس نهیں آئیں گے، اس کے بعد آپ خاموش هوگئیں پهر سواری سے نیچے اتر آئیں اور خیمے میں تشریف لے گئیں ۔
    هر سانس سے شبیر کا پیغام هے جاری هرگام په اسلام کی هے جلوه نمائی
    خون شه مظلوم کی هر وقت حفاظت بازاروں سے جاتے هوئے وه خطبه سرائی
    مجلس یزید میں
    جب اهلبیت دربار یزید میں وارد هوئے تو یزید اپنے کو فاتح اور مظلوم کربلا کو مغلوب تصور کر رها تها ۔ اس کی نظر میں امام حسین کو شکست هوگئی تهی۔اسی لئے اپنی حکومت کے کارندوں اورغیر ملکی سفیروں کے سامنے جشن منانے کیلئے حکم دیا که اهلبیت کو دربار میں بلایا جائے ۔ اهلبیت میں سے جو بهی امام حسین اور ان کے اصحاب باوفا کے سراقدس کو دیکهتے تهے تو آه وفریاد کرتے تهے اور جب زینب کبری نے اپنے بهائی کا سر دیکها تو حزین اور غم انگیز آواز میں اپنے بهائی سے یوں مخاطب هوا: اے حسین! اے محبوب رسول خدا! اے فرزند مکه و منی! اے فرزند فاطمه زهراسید ه النساء العالمین! اے بنت رسول کے پیارے! فَأَبْکَتْ کُلَّ مَنْ سَمِعَهَا ثُمَّ دَعَا یَزِیدُ عَلَیْهِ اللَّعْنَه بِقَضِیبِ خَیْزُرَانٍ فَجَعَلَ یَنْکُتُ بِهِ ثَنَایَا الْحُسَیْنِ ع
    زینب کبری کی نوحه سرائی نے پورے اهل مجلس کو رلایا ۔ یزید اب تک خاموش تها ۔ اور جب احساس حقارت اور بد نامی کی تو لوگوں کی توجه هٹانے کیلئے چوب خیزران سے سید الشهداء کے لب اور دندان مبارک کی بےحرمتی کرنا اور یه اشعار پڑهنا شروع کیا:
    لَیْتَ أَشْیَاخِی بِبَدْرٍ شَهِدُوا جَزِعَ الْخَزْرَجُ مِنْ وَقْعِ الْأَسَلِ‏
    لَأَهَلُّوا وَ اسْتَهَلُّوا فَرَحاً ثُمَّ قَالُوا یَا یَزِیدُ لَا تُشَلَ‏
    قَدْ قَتَلْنَا الْقَوْمَ مِنْ سَادَاتِهِمْ وَ عَدَلْنَاهُ بِبَدْرٍ فَاعْتَدَلَ‏
    لَعِبَتْ هَاشِمٌ بِالْمُلْکِ فَلَا خَبَرٌ جَاءَ وَ لَا وَحْیٌ نَزَلَ‏
    لَسْتُ مِنْ خِنْدِفَ إِنْ لَمْ أَنْتَقِمْ مِنْ بَنِی أَحْمَدَ مَا کَانَ فَعَلَ
    لعبت بنوهاشم بالملک فلا خبر جاء ولا وحی ّ نزل
    اے کاش! جنگ بدر میں مارے جانے والے میرے آباء واجداد، زنده هوتے اور خزرج کے ناله و فریا د اور نیزے کے درد کےگواه هوتے پس اٹهو اور رقص کرنے لگو اورکهو: اے یزید تیرے هاته شل نه هو ۔ ان کے سرداروں اور ارباب کو هم نے شهید کئے هیں اور بدر والوں کا انتقام لے لئے هیں ۔بنی هاشم نے حکومت کرنے کیلئے ایک کهیل کهیلا هے ورنه نه کوئی خبر آئی هے نه کوئی وحی آئی هے اور نه کوئی رسول آیا هے اور نه کوئی قرآن نازل هوا هے ۔میں خندف کا بیٹا نه هونگا اگر اولاد احمد سے انتقام نه لوں ۔
    فَأَقْبَلَ عَلَیْهِ أَبُو بَرْزَه الْأَسْلَمِیُّ وَ قَالَ وَیْحَکَ یَا یَزِیدُ أَ تَنْکُتُ بِقَضِیبِکَ ثَغْرَ الْحُسَیْنِ ع ابْنِ فَاطِمَه ص أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ص یَرْشُفُ ثَنَایَاهُ وَ ثَنَایَا أَخِیهِ الْحَسَنِ ع وَ یَقُولُ أَنْتُمَا سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّه فَقَتَلَ اللَّهُ قَاتِلَکُمَا وَ لَعَنَهُ وَ أَعَدَّ لَهُ جَهَنَّمَ وَ ساءَتْ مَصِیراً ۔
    یزید کی اس بے ادبی کو دیکه کر ابوبرزه الاسلمی اس کی طرف متوجه هوا اور کها: افسوس هو تجه پر اے یزید! کیا تو فرزند زهرا حسین کے لبوں اور دندان مبارک کی بے حرمتی کرتے هو؟ میں گواهی دیتا هوں که میں نے خود اپنی آنکهوں سے دیکها هے اپنے پیارے رسول ﷺ کو جوحسن اور حسین کے لبوں اور دانتوں کا بوسه دیتے هوئے فرمارهے تهے: تم دونوں جوانان بهشت کے سردار هو۔ خدا تمهارے قاتلوں کو هلاک کرے اور خدا کی لعنت هو اور ان کیلئے عذاب جهنم تیار کیا هوا هے اور وه کتنا برا ٹهکانا هے ۔
    یزید جب یه بکواس کرچکا تو اس نے شمر سے کها که ان قیدیون کا تعارف کراؤ ۔ شمر نے کها یه جوان علی ابن الحسین هے ۔ چونکه کربلا میں بیمار تها، اس لئے یه قتل هونے سے بچ گیا، یه بی بی جو کنیزوں کے حلقه میں هے، رسول خدا ﷺکی نواسی اور علی و فاطمه کی بڑی بیٹی زینب هے ۔ اس کے ساته اس کی بهن ام کلثوم هے، اس طرح تمام بیبیوں کا تعارف کرایا گیا ۔ یزید نے امام زین العابدین کی طرف متوجه هوکر کها: تمهارےباپ نے مجه سے بغاوت کی، میری اطاعت سے منه موڑا ۔ دیکها خدا نے تم لوگوں کو کیسا ذلیل و خوار کیا؟ اس کے بعد اس نے یه آیت پڑهی: قُلِ اللَّهُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتىِ الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَ تَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ وَ تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِیَدِکَ الْخَیرُْ إِنَّکَ عَلىَ‏ کلُ‏ِّ شىَ‏ْءٍ قَدِیرٌ ۔ پیغمبر آپ کهئے که خدایا تو صاحب اقتدار هے جس کو چاهتا هے اقتدار دیتا هے اور جس سے چاهتا هے سلب کرلیتا هے- جس کو چاهتا هے عزّت دیتا هے اور جس کو چاهتا هے ذلیل کرتا هے- سارا خیر تیرے هاته میں هے اور تو هی هر شے پر قادر هے ۔
    یعنی اسی کو دیتا هے جس کو اس کا اهل سمجهتا هے ۔ تم کو اهل نه سمجها، لهذا اس لئے تمهاری چند روزه حکومت کو ختم کردیا ۔ خدا کا شکر هے که اس نے تم لوگوں کو اس بغاوت کی سزادی ۔ امام نے فرمایا: اے یزید! آگاه هوکه خدا کے خاص بندے کبهی ذلیل نهیں هوتے ۔ اپنی اس چند روزه حکومت پر مغرور نه هو، بهت جلد وقت آنے والاهے که تیرا معامله خدا کے سامنے پیش هوگا ۔ تجهے شرم نهیں آتی که جس نبی کا تو کلمه پڑهتا هے، اسی کی اولاد کو قتل کرواتا اور اسی کی ناموس کو بازاروں میں تشهیر کرواتا اور درباروں میں ذلت کے ساته بلاتا هے؟ میرے مظلوم بابا نے جو کچه کیا، حق بجانب تها ۔ وه یقینا ً حق پر تهے اور تو یقینا ً باطل پر هے ۔ تجه جیسا فاسق و فاجر هرگز اس قابل نهیں هوسکتا که خدا تجهے ملک و دولت کا وارث بنائے، توغاصب حقوق آل محمد ﷺ هے ۔بهرے دربار میں جب امام زین العابدین نے اس طرح تقریر کی تو یزید کو غصه آیا اور حکم دیا که اس کو قتل کردو ۔ جب تلوار لے کر جلاد آگے بڑها تو جناب زینب روتی هوئی بهتیجے سے لپٹ گئیں اور فرمانے لگیں: او ظالم! کیا تجهے همارا تمام گهر برباد کرکے، همارے جوانوں، بوڑهوں اور بچوں تک کو قتل کروا کے بهی چین نهیں آیا؟ اب اس بیمار کے سوا هما را والی اور وارث نهیں۔ تو اب اس کو بهی قتل کروادے گا۔ یزید نے حکم دیا که اس بی بی کو بهی قتل کردو ۔ یه سنتے هی دربار میں هلچل مچ گئی اور هر طرف سے آواز آئی: اگر عورت کو قتل کیا گیا تو دربار میں خون کی ندیاں بهه جائیں گی ۔ عورت کا قتل کرنا کسی مذهب میں بهی جائز نهیں ۔ یزید یه حال دیکه کر خائف هوا اور اپنے حکم کو واپس لے لیا۔
    اب اس نے کها: میں زینب بنت علی سے کچه کهنا چاهتا هوں ۔ ان سب کنیزوں کو ان کے سامنے سے هٹا دو ۔ شمر تازیانه لیکر بڑها اور ایک ایک کو هٹا نے لگا ۔ باقی سب تو هٹ گئیں مگر جناب فضه اپنی جگه سے نه هٹیں ۔ شمر نے تازیانه اٹهایا که اس سےجناب فضه کو مارے ۔ یزید کی پشت پر جو حبشی غلام برهنه تلواریں لئے کهڑے تهے، جناب فضه ان سے مخاطب هوکر فرمانے لگیں: اے میری قوم کے جوانو! تمهاری غیرت کهاں گئی، قومی حمیت کو کیا هوا که شمر تمهاری قوم کی ایک بیکس عورت کو مارنا چاهتا هے؟ یه بات سنتے هی وه سب حبشی پس پشت سے هٹ کر یزید کے سامنے آگئے اور کهنے لگے: شمر سے کهه دے که اس ضعیفه کو هاته نه لگائے، یه هماری قوم کی عورت هے ورنه ابهی دربار میں خون کی ندیاں بهنے لگیں گی ۔ یزید نے شمر کو روکا ۔ اس وقت جناب زینب سےبرداشت نه هوسکا ۔ کربلا کی طرف رخ کرکے فرمایا: اے میرے بهیا! فضه کو بچانے کیلئے کتنے جوان تلواریں لے کر یزید کے سامنے آگئے، مگر آه! تمهاری دکهیا بهن کی حمایت کرنے والا کوئی اس دربار میں نهیں هے ۔ جناب زینب کی اس فریاد سے اهل دربار کے دل دکهنے لگے ۔ بهت سے تو منه پر رومال رکه کر رونے لگے۔
    حاضرین مجلس معاویه کی ۲۳ ساله سوء تبلیغ کی وجه سے حقایق سے بالکل بے خبر تهے ۔ ان اسراکو باغی اور فسادی تصور کرتے تهے۔ ان کو اس خواب غفلت سے بیدار کرنا ضروری تها۔اوریه شریکه الحسین کی ذمه داری تهی۔کیونکه بیدارگری کی ذمه داری امام حسین نے آپ کے کندوں پر ڈالا تها ۔کیونکه اگر حضرت سجاد یزید سے اس طرح مخاطب هوتے تو ممکن تها که وه نشے میں آکر امام چهارم کو شهید کرتا۔ اور زینب کی یه گفتگو باعث بنی جس مقصد کیلئے اس مجلس کو یزید نے تشکیل دی تهی بالکل اس کے برعکس اختتام پذیر هوا۔ یزید اور یزیدی سب رسوا اور ذلیل هوگئے ۔
    مجلس یزید میں زینب کبرى کا خطبه
    قَالَ الرَّاوِی: فَقَامَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ع فَقَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَ آلِهِ أَجْمَعِینَ صَدَقَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ کَذَلِکَ یَقُولُ ثُمَّ کانَ عاقِبَه الَّذِینَ أَساؤُا السُّواى‏ أَنْ کَذَّبُوا بِآیاتِ اللَّهِ وَ کانُوا بِها یَسْتَهْزِؤُنَ أَ ظَنَنْتَ یَا یَزِیدُ حَیْثُ أَخَذْتَ عَلَیْنَا أَقْطَارَ الْأَرْضِ وَ آفَاقَ السَّمَاءِ فَأَصْبَحْنَا نُسَاقُ کَمَا تُسَاقُ الْأُسَرَاءُ أَنَّ بِنَا هَوَاناً عَلَیْهِ وَ بِکَ عَلَیْهِ کَرَامَه وَ أَنَّ ذَلِکَ‏لِعِظَمِ خَطَرِکَ عِنْدَهُ فَشَمَخْتَ بِأَنْفِکَ وَ نَظَرْتَ فِی عِطْفِکَ جَذْلَانَ مَسْرُوراً حَیْثُ رَأَیْتَ الدُّنْیَا لَکَ مُسْتَوْثِقَه وَ الْأُمُورَ مُتَّسِقَه وَ حِینَ صَفَا لَکَ مُلْکُنَا وَ سُلْطَانُنَا فَمَهْلًا مَهْلًا أَ نَسِیتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى وَ لا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّما نُمْلِی لَهُمْ خَیْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّما نُمْلِی لَهُمْ لِیَزْدادُوا إِثْماً وَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِینٌ أَ مِنَ الْعَدْلِ یَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ تَخْدِیرُکَ حَرَائِرَکَ وَ إِمَاءَکَ وَ سَوْقُکَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ص سَبَایَا قَدْ هَتَکْتَ سُتُورَهُنَّ وَ أَبْدَیْتَ وُجُوهَهُنَّ تَحْدُو بِهِنَّ الْأَعْدَاءُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ وَ یَسْتَشْرِفُهُنَّ أَهْلُ الْمَنَاهِلِ وَ الْمَنَاقِلِ وَ یَتَصَفَّحُ وُجُوهَهُنَّ الْقَرِیبُ وَ الْبَعِیدُ وَ الدَّنِیُّ وَ الشَّرِیفُ لَیْسَ مَعَهُنَّ مِنْ رِجَالِهِنَّ وَلِیٌّ وَ لَا مِنْ حُمَاتِهِنَّ حَمِیٌّ وَ کَیْفَ یُرْتَجَى مُرَاقَبَه مَنْ لَفَظَ فُوهُ أَکْبَادَ الْأَزْکِیَاءِ وَ نَبَتَ لَحْمُهُ مِن دِمَاءِ الشُّهَدَاءِ وَ کَیْفَ یَسْتَبْطِئُ فِی بُغْضِنَا أَهْلَ الْبَیْتِ مَنْ نَظَرَ إِلَیْنَا بِالشَّنَفِ وَ الشَّنَئَانِ وَ الْإِحَنِ وَ الْأَضْغَانِ ثُمَّ تَقُولُ غَیْرَ مُتَأَثِّمٍ وَ لَا مُسْتَعْظِمٍ-
    لَأَهَلُّوا وَ اسْتَهَلُّوا فَرَحاً ثُمَّ قَالُوا یَا یَزِیدُ لَا تُشَلَ‏
    مُنْتَحِیاً عَلَى ثَنَایَا أَبِی عَبْدِ اللَّهِ سَیِّدِ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّه تَنْکُتُهَا بِمِخْصَرَتِکَ وَ کَیْفَ لَا تَقُولُ ذَلِکَ وَ قَدْ نَکَأْتَ الْقَرْحَه وَ اسْتَأْصَلْتَ الشَّافَه بِإِرَاقَتِکَ دِمَاءَ ذُرِّیَّه مُحَمَّدٍ ص وَ نُجُومِ الْأَرْضِ مِنْ آلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَ تَهْتِفُ بِأَشْیَاخِکَ زَعَمْتَ أَنَّکَ تُنَادِیهِمْ فَلَتَرِدَنَّ وَشِیکاً مَوْرِدَهُمْ وَ لَتَوَدَّنَّ أَنَّکَ شَلَلْتَ وَ بَکِمْتَ وَ لَمْ تَکُنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ وَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ اللَّهُمَّ خُذْ لَنَا بِحَقِّنَا وَ انْتَقِمْ مِنْ ظَالِمِنَا وَ أَحْلِلْ غَضَبَکَ بِمَنْ سَفَکَ دِمَاءَنَا وَ قَتَلَ حُمَاتَنَا فَوَ اللَّهِ مَا فَرَیْتَ إِلَّا جِلْدَکَ وَ لَا حَزَزْتَ إِلَّا لَحْمَکَ وَ لَتَرِدَنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص بِمَا تَحَمَّلْتَ مِنْ سَفْکِ دِمَاءِ ذُرِّیَّتِهِ وَ انْتَهَکْتَ مِنْ حُرْمَتِهِ فِی عِتْرَتِهِ وَ لُحْمَتِهِ حَیْثُ یَجْمَعُ اللَّهُ شَمْلَهُمْ وَ یَلُمُّ شَعَثَهُمْ وَ یَأْخُذُ بِحَقِّهِمْ وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْیاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ وَ حَسْبُکَ بِاللَّهِ حَاکِماً وَ بِمُحَمَّدٍ ص خَصِیماً وَ بِجَبْرَئِیلَ ظَهِیراً وَ سَیَعْلَمُ مَنْ سَوَّلَ لَکَ وَ مَکَّنَکَ مِنْ رِقَابِ الْمُسْلِمِینَ بِئْسَ لِلظَّالِمِینَ بَدَلًا وَ أَیُّکُمْ شَرٌّ مَکاناً وَ أَضْعَفُ جُنْداً وَ لَئِنْ جَرَّتْ عَلَیَّ الدَّوَاهِی مُخَاطَبَتَکَ إِنِّی لَأَسْتَصْغِرُ قَدْرَکَ وَ أَسْتَعْظِمُ تَقْرِیعَکَ وَ أَسْتَکْثِرُ تَوْبِیخَکَ لَکِنَّ الْعُیُونَ عَبْرَى وَ الصُّدُورَ حَرَّى أَلَا فَالْعَجَبُ کُلُّ الْعَجَبِ لِقَتْلِ حِزْبِ اللَّهِ النُّجَبَاءِ بِحِزْبِ الشَّیْطَانِ الطُّلَقَاءِ فَهَذِهِ الْأَیْدِی تَنْطِفُ مِنْ دِمَائِنَا وَ الْأَفْوَاهُ تَتَحَلَّبُ مِنْ لُحُومِنَا- وَ تِلْکَ الْجُثَثُ الطَّوَاهِرُ الزَّوَاکِی تَنْتَابُهَا الْعَوَاسِلُ وَ تُعَفِّرُهَا أُمَّهَاتُ الْفَرَاعِلِ وَ لَئِنِ اتَّخَذْتَنَا مَغْنَماً لَتَجِدَنَّا وَشِیکاً مَغْرَماً حِینَ لَا تَجِدُ إِلَّا مَا قَدَّمَتْ یَدَاکَ وَ ما رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ فَإِلَى اللَّهِ الْمُشْتَکَى وَ عَلَیْهِ الْمُعَوَّلُ فَکِدْ کَیْدَکَ وَ اسْعَ سَعْیَکَ وَ نَاصِبْ جُهْدَکَ فَوَ اللَّهِ لَا تَمْحُو ذِکْرَنَا وَ لَا تُمِیتُ وَحْیَنَا وَ لَا تُدْرِکُ أَمَدَنَا وَ لَا تَرْحَضُ عَنْکَ عَارَهَا وَ هَلْ رَأْیُکَ إِلَّا فَنَدٌ وَ أَیَّامُکَ إِلَّا عَدَدٌ وَ جَمْعُکَ إِلَّا بَدَدٌ یَوْمَ یُنَادِی الْمُنَادِی أَلا لَعْنَه اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِینَ فَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِینَ-
    راوی کهتا هے که علی کی بیٹی اپنی جگه سے اٹهیں اور یوں خطبه شروع کیا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِینَ، و صلّى اللَّه على محمّد و آله أجمعین، صدق اللَّه کذلک یقول: ثُمَّ کانَ عاقِبَه الَّذِینَ أَساؤُا السُّواى‏ أَنْ کَذَّبُوا بِآیاتِ اللَّهِ وَ کانُوا بِها یَسْتَهْزِؤُنَ۔
    خدا کی حمد وثناء اور محمد اور اس کے آل پر سلام و درود بهیجنے کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی: اس کے بعد برائی کرنے والوں کا انجام برا هوا که انهوں نے خدا کی نشانیوں کو جهٹلادیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رهے ۔
    اے یزید کیا تم یه گمان کرتےهو که زمین اور آسمان میں هم پر راسته بند اور تنگ کیا؟ اور همیں کنیزوں کی طرح نکال دینا هماری ذلت وخواری اور تمهاری کرامت اور عزت اور سربلندی کا باعث هے؟! یه تمهاری بهول هے ۔ اور دنیا کو اپنے لئے مرتب اور امور کو منظم دیکهتے هو، اور هماری حکومت اور سلطنت کو اپنے لئے باعث آرام و سکون تصور کرتےهو؟ کیا تو نے خدا کے کلام کو بلادیا؟ جس میں فرمایا: وَ لا یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّما نُمْلِی لَهُمْ خَیْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّما نُمْلِی لَهُمْ لِیَزْدادُوا إِثْماً وَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِینٌ ۔ اور خبردار! یه کفاّر یه نه سمجهیں که هم جس قدر راحت و آرام دے رهے هیں وه ان کے حق میں کوئی بهلائی هے- هم تو صرف اس لئے دے رهے هیں که جتنا گناه کرسکیں کرلیں ورنه ان کے لئے رسوا کن عذاب هے ۔
    اے آزاد شده عورت کے بیٹے! کیا یه انصاف هے که تیری عورتیں اور کنیزیں پرده نشین هوں اور رسول خدا ﷺ کی بیٹیاں اسیر؟!! که جن کی چادروں کو سروں سے چهین لئے اور چهروں کو عیاں کردئے اور ان کو دشمنوں کی طرح شهر شهر پهرائے گئے ۔ اور ناموس رسول ﷺ کے چهروں کو شریف اور ذلیل لوگوں کو دکهائے گئے، جبکه ان کے مردوں میں سے کوئی ان کا حامی اور سرپرست نه موجود نه رهے؟!
    اور کیسے اس جگر خوار عورت کے بیٹوں سے یه توقع رکه سکتے هیں جس نے نیک اور صالح افراد کے جگر چبائی هو اور شهدا ء کے خون سے اس کا گوشت و پوست پرورش پایا هو؟!
    اور جو اهل بیت کی دشمنی پر تلے هوئے هو اور همیں دشمنی اور حسد اور کینه کی نگاهوں سے دیکهتے هو؟ پهر بهی ذره برابر احساس گناه کئے بغیر کهتے هو: اے کاش میرے اجداد زنده هوتے اور خوشیاں مناتے اور مجه سے کهتے: اے یزید تیرا شکریه؛ جبکه تو ابی عبدالله کے دندان مبارک کی بے حرمتی کررها هے؟! ایسا کیوں کهتےهو، جبکه تو نے محمد ﷺ کے ذریه پاک جو عبد المطلب کے آل اور روی زمین کے ستارے تهے؛ کا خون بها کر همارے زخم دل کو تازه کیا هے ۔ اور تم اپنے اجداد کو آواز دے رهے هو اور یه گمان کرتے هو که تیری آواز ان تک پهنچ رهی هے، لیکن بهت جلد تو ان سے ملحق هوگا، اس وقت تم یه تمنا کریگا اے کاش تیرا هاته شل هوتا اورزبان لال ۔ اور ایسی بات اورایسا کام نه کرتا!
    خدا یا تو هی همارا حق دلادے اور ان لوگوں سے جنهوں نے هم پر ظلم کئے هیں ان سے انتقام لے لے ۔ اور جنهوں نے همارے عزیزوں کا خون بهائے هیں اور انهیں شهید کئے هیں، ان پر اپنا غضب نازل کر ۔
    اے یزید! خدا کی قسم تو نے خاندان رسول خدا ﷺ کا خون بها کر اور عترت رسول ﷺ کی هتک حرمت کرکے خود اپنا کهال اتارا هے اور اپنا هی گوشت کاٹا هے ۔اس حالت میں جب قیامت کے دن سب لوگوں کو اکهٹے کئے جائیں گے، اور ان کا حق خدا وند واپس لے گا ۔ جیسا که خدا وند ارشاد فرما رها هے: وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْیاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ۔
    تمهارے لئے یهی کافی هے که خدا وند فیصله اور عدالت کرنے والا اور محمد مصطفے ﷺ مدعی اور جبرئیل امین ان کا نگهبان هے، اور بهت جلد جن لوگوں نے تمهیں فریب دیا هے اور تجهے لوگوں پر سوار کیا هے؛ یعنی معاویه، سمجه لیں گے که ظالم اور ستمکاروں کا صله بهت برا هے اور یه بهی معلوم هوجائے گا که تم میں سے کس کا ٹهکانا بدترین اور کس کا لشکر ضعیف ترین لشکر هے ۔
    اگرچه زندگی کے نا خوشگوار حالات نے مجهے تجه جیسوں کے ساته گفتگو کرنے پر مجبور کر دیا هے، جبکه میرے نزدیک تیری کوئی حیثیت اور ارزش نهیں اور تیری ملامت اور مذمت بهت زیاده هے ۔لیکن کیا کروں؛ آنکهیں پر نم هیں اور دل جل رها هے که حزب الله کے نجیب اور باشرافت انسانوں کا حزب شیطان که جو آزاد شده غلام تهے؛ کے هاتهوں شهید هوئے، اور همارا خون تمهارے پنجوں سے ٹپکنے لگے، اور همارے گوشت تمهارے منه سے گرنے لگے، اور یه پاکیزه اور مبارک اجساد تمهارے درنده صفت بهیڑئیوں کا خوراک بنے، اور نادان بچوں کے هاتهوں خاک آلود هوگئے؟!! اگر آج همیں اپنے لئے غنیمت جانتے هوتو بهت جلد دیکه لوگے که کس قدر مایه ننگ و عار اور باعث ضرر تها ۔میں خدا کے سامنے یه شکایت لے کر جاؤں گی اور اسی پر توکل کروں گی ۔
    جو بهی مکر وفریب دینا هے تو دے اور جو بهی اقدام اٹها سکتے هو اور جو بهی تلاش اور کوشش کرسکتے هو تو کرلے؛ خدا کی قسم نه تم همارا نام مٹا سکو گے اور نه هماری وحی کے چراغ کو بجها سکو گے، کبهی تمهاری یه آرزو پوری نهیں هوگی۔ اور هم پر کئے جانے والے ظلم و ستم کے دبّے کو اپنے سے پاک نهیں کرسکو گے ۔ تمهاری فکر پست اور تیری حکومت کے ایام بهت کم ره گئے هو، تمهاری یه جمعیت جلد هی پراکنده هوجائے گی ۔اس دن منادی ندا کریگا: اے لوگو! آگاه رهو خدا کی لعنت ظالموں پر هو
    اس خدا کا شکر ادا کرتی هوں که جس نے هماری ابتدا سعادت اور مغفرت سے کی اور هماری انتها کو شهادت اور رحمت قرار دیا ۔خدا سے یهی میری دعا هے که ان شهیدوں پر خدا کی رحمتیں کامل هواور همیں ان کے نیک پسماندگان میں شمار فرما ۔ همارے لئے مهربان اور محبوب خدا کافی هے جو نیک سرپرست اور وکیل هے ۔
    یزید نے زینب کبری ٰ کے اس خطبے کے جواب میں یه شعر پڑهنا شروع کیا:
    یا صیحه تحمد من صوائح ما اهون الموت على النّوائح‏
    یعنی یه نوحه کنان عورت کے لئے شائسته هے اور کس قدر موت ان دلسوخته اور نوحه گر عورتوں کے لئے آسان هے؟ اس کے بعد یزید نے شامیوں سے اسرای آل محمد ﷺ کے بارے میں مشوره کیا، کی ان کےساته کیا کیا جائے؟ تو انهوں نے ان کو قتل کرنے کا مشوره دیا ۔لیکن نعمان بن بشیر جو وهاں موجود تها، کهنے لگا: رسول خدا ﷺ نےجس طرح ان سے رفتار کیا هے ویسے رفتار تم بهی ان کے ساته کیا کرو ۔
    خطبه کا نتیجه
    یه خطبه اتنا جامع تها که دوست دشمن سب پر حقیقت کو واضح کردیا ۔ اور مجلس جشن اور سرور، یزید کیلئےمجلس ننگ وعار اور غم میں بدل گیا ۔
    سب سے پهلے زینب کبریٰ نے خدا کی حمد وثنا اور اپنے نانا محمد مصطفی ﷺ پر سلام ودرود پڑه کر اپنا حسب ونسب بیان کیا که میں کون هوں ۔
    سوره روم کی آیت ۱۰ کی تلاوت کرکے یزید کے کافر هونے اور آیات الهی کے منکر هونے کو ثابت کیا ۔ اور اس شعر کی طرف اشاره فرمایا جس میں یزید ارسال رسل وانزال کتب کا منکر هوگیا تها ۔
    بعض نادان لوگ یه گمان کر رهے تهے که جنگ میں فتح حاصل هونا حقانیت اور قرب الهی کی دلیل هے، آپ نے اس خام خیال کو رد کرتے هوئے یزیدسے مخاطب هوا: اے یزید! کیا تمهارا گمان هے که تو ۔۔۔
    امن العدل یابن الطلقاء؟ کهه کر یزید کا حسب و نسب اور اس کی خاندانی حیثیت بیان فرمایا که تو همارے اجداد کےفتح مکه کے موقع پر آزاد کرده لوگوں کی اولاد هو ۔
    ابن من لفظ فوه اکباد الشهداء کهه کر یزید کی بدکارماں هند کی حیثیت کو واضح کیا ۔
    نصب الحرب لسید الانبیاء کهه کر ابوسفیان کی رسول الله ﷺ کے ساته سخت دشمنی کو واضح کیا ۔
    الا انها نتیجه خلا ل الکفر کهه کر یزید کی آخرت کے دن ندامت اور پشیمانی کو بیان فرمایا۔
    سوره آلعمران کی آیت نمبر ۱۶۹، ۱۷۰ سے استدلال کیا که شهدائے کربلا زنده اور خدا کے هاں رزق پارهے هیں
    وسیعلم من بوّاک و مکّنک کهه کر گذشته خلفاء کی خلافت کے غاصب هونے کو ثابت کیا، که جس کا نتیجه هی تها که یزید جیسے فاسق و فاجر رسول الله ﷺ کے مسند خلافت پر بیٹهنے لگا ۔
    فاتح شام کی واپسی
    حضرت زینب اور امام سجاد کی تقریروں نے شام کے اوضاع و احوال کو برعلیه یزید متحول کیا ۔ جس کے بعد یزید نے اپنا روش تبدیل کر کے اپنی بے گناهی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ یزید کو معلوم هوا که اب اهلبیت کو مزید شام میں ٹههرانا اس کی مفاد میں نهیں، لهذااس نے اهلبیت اطهارکو مدینه واپس بهیجنے کا انتظام کیا ۔
    فارسی شاعر نے اس فاتحانه واپسی کو یوں اپنے اشعار میں بیان کیا هے:
    زینب آمد شام را یکبار ویران کرد و رفت اهل عالم را زکار خویش، ویران کرد ورفت
    از زمین کربلا تا کوفه و شام بلا هر کجا بنهاد پا فتح نمایان کرد و رفت
    بالسان مرتضی از ماجرای نینوا خطبه جان سوز اندر کوفه عنوان کرد و رفت
    فاش می گویم که آن بانوی عظمای دلیر از بیان خویش دشمن را هراسان کرد وفرت
    خطبه غرّا فرمود در کاخ یزید کاخ استبداد را از ریشه ویران کرد ورفت
    شام غرق عیش وعشرت بود، در وقت ورود وقت رفتن شام را شام غریبان کرد وفت
    اس شعر کا م مفهوم یه هے: که زینب کبری نے شام اور شام والوں یزیدیوں) کوتباه کرکے نکلیں ۔زمین کربلا سے لےکر کوفه اور شام تک جهاں جهاں آپ نے قدم رکها؛ فتح کرکے نکلیں۔علی کے لب ولهجے اور دردناک فریاد میں کربلا کا الم ناک واقعه کوفه والوں کے سامنے تفصیل سے بیان فرما کرچلیں ۔صاف الفاظ میں کهه دوں که اس دلیر اور عظیم خاتون نے اپنے بیان اور خطاب کے ذریعے اپنے دشمن کو بوکهلا کر رکه دیں ۔ شعله بیان خطبے کے ذریعے یزید اور ان جیسے ظالموں کے ایوانوں کی بنیاد یں قلع قمع کرکے نکلیں ۔ جب آپ کو اسیر بناکر شام لائی گئی تو اس وقت شام والے شراب نوشی میں مصروف اور جشن منارهے تهے؛ لیکن جب آپ شام سے نکلنے لگیں تو اس وقت شام کو، شام غریبان میں بدل کرنکلیں ۔
    بحار الانوار میں بیان هوا هے که جب هنده یزید کی بیوی نے اپنا خواب اسے سنایا تو وه بهت زیاده مغموم هوا ۔ اور صبح کو اهل بیت اطهار کو دربار میں بلایا اور کها: میں پشیمان هوں ۔ ابهی آپ لوگوں کو اختیار هے که اگر شام میں رهنا چاهیں تو رهائش کا بندوبست کروں گا اور اگر مدینه جانا چاهیں تو سفر کے لئے زاد راه اور سواری کا انتظام کروں گا ۔
    اس وقت زینب کبری ٰ نے یزید سے مطالبه کیا که ان کو اپنے شهیدوں پر رونے کا موقع نهیں ملا هے، ان پر رونے کیلئے کسی مکان کا بندوبست کیا جائے، اس طرح تین دن شام میں مجلس عزا برپا هوئی اور اهل شام کے تمام خواتین اس مجلس میں شریک هوگئیں، یها ں تک که ابوسفیان کے خاندان میں سے ایک عورت بهی باقی نهیں تهی جو امام حسین پر رونے اور اهلبیتکی استقبال کیلئے نه آئی هو۔
    جب فاتح شام کی روانگی کا وقت آیا تو زرین محمل کا انتظام کیا گیا تو شریکه الحسین نے بشیر بن نعمان سےکها: اجعلوها سوداء حتی یعلم الناس انا فی مصیبه و عزاء لقتل اولادالزهرا ۔ ان محملوں کو سیاه پوش بنائیں تاکه لوگوں کو پته چلے که هم اولاد زهرا کے سوگ اور مصیبت میں هیں ۔
    جب اهلبیت عراق پهنچے اور زمین کربلا میں وارد هوئے تو دیکها که جابر بن عبدالله انصاری اور بنی هاشم کے کچه افراد سید الشهدا کے قبر مبارک پر زیارت کرتے هوئے رورهے هیں ۔ لهوف کے مطابق ۲۰ صفر کو شهدا کے سروں کو ان کے مبارک جسموں سے ملائے گئے۔
    زینب کبری اپنے بهائی کی قبر سے لپٹ کر فریاد کرنے لگی: های میرا بهیا های میرا بهیا! اے میری ماں کا نور نظر! میری آنکهوں کا نور! میں کس زبان سے وه مصائب اور آلام تجهے بیان کروں جو کوفه اور شام میں هم پر گذری؟ اور پست فطرت قوم نے کس قدر آزار پهنچائی؟ ناسزا باتیں سنائی؟
    بهائی کی قبر سے وداع
    نوحه سرائی کے بعد اپنے بهائی کی قبر سے وداع کرتے هوئے جب بهت مضطرب هوگئیں تو جناب زین العابدین نے فرمایا: انت عارفه کامله و الصراخ من عاده الجاهلین اصبری واستقری؛ پهوپهی جان! آپ تو عارفه کامله هیں آه وزاری کرنا دور جاهلیت کی عادات میں سے هے، آپ صبر سے کام لیں ۔ اس وقت زینب کبری نے فرمایا: یا علی و یا قره عینی! دعنی اقیم عند اخی حتی جاء یوم وعدی لانی کیف الق اهل المدینه و اری الدور الخالیه؟!
    اے علی! اے میرے نور نظر! مجهے یهیں رهنے دیجئے میرے بهائی کے پاس، یهاں تک که موت آجائے ۔کس طرح میں مدینه کو جاؤں اور اهل مدینه سے ملاقات کروں اور کس طرح خالی مکانوں کا نظاره کروں؟! پهر فریاد کرنے لگیں: وا اخاه! واحسیناه!
    امام نے فرمایا: اے پهوپهی جان! آپ سچ فرمارهی هیں، که بغیر بابا کے، بهائی اور چچا عباس کے اور بهائی قاسم کے گهروں کا دیکهنا سخت هے، لیکن رضای الهی اور همارے نانا رسول خدا ﷺ کا حکم بهی تو همیں بجا لانا هے ۔
    آج اگر کوئی اسلام بچا هے تو حسین کی قربانی اور زینب کی لٹی هوئی چادر اور سید سجاد کی اسیری کی مرهون منت هے ۔ ورنه تو یزید، رسول خدا ﷺ کا خلیفه بن کر دین اور آئین رسول خداﷺکا انکار کرچکا تها ۔لیکن اهل بیت کی قربانی نے دین اسلام کی تا قیامت حفاظت کا انتظام کیا ۔
    دنیا سے تو نے آخر یه رسم هی مٹادی اب مانگتا نهیں هے بیعت کوئی کسی سے
    بی بی تیرا کرم هے هر ماں په هر بهن پر اب چهینتا نهیں هے چادر کوئی کسی سے

    تمت بالخیر

    کتاب نامه
    1. قرآن کریم
    2. ترجمه: شیخ محسن علی نجفی اور علامه ذیشان حیدر جوادی ۔
    3. شیخ مفید، الإرشاد، انتشارات کنگره جهانى شیخ مفید قم، 1413 هجرى قمرى ۔
    4. عباس اسماعیلی؛ یزدی؛ سحاب رحمت، انتشارات مسجد مقدس جمکران، چ ۱، قم، ۱۳۷۷ ش۔
    5. حکومت اسلامی؛ ویژه اندیشه فقه سیاسی اسلام، سال ۷، ش چهارم، ۸۱ ۔
    6. محمد مهدی، حائری؛ معالی السبطین، فی احوال الحسن والحسین، مکتبه القرشی، تبریز ۔
    7. ابن بطریق یحیى بن حسن حلى؛ العمده، انتشارات جامعه مدرسین قم، 1407 هجرى
    8. علی عباس خان، سپهر؛ ناسخ التواریخ حضرت زینب کبریٰ، کتاب فروشی اسلامیه، تهران، ۱۳۹۸ ش ۔
    9. سید ابن طاوس 664 ق؛ ‏اللهوف على قتلى الطفوف ناشر: صلاه، ۱۳۸۶ ۔
    10. محمد بن جریر طبری؛ تاریخ طبری، مطبعه الحسینیه المصریه۔
    11. سید هاشم رسولى محلاتى؛ ارشاد-ترجمه ‏، ناشر: اسلامیه، معاصر۔
    12. عابد عسکری؛ روایات عزا، المعراج کمپنی، لاهور پاکستان، مارچ ۲۰۰۴ م ۔
    13. مرحوم فیض الاسلام؛ خاتون دوسرا
    14. عباس جیانی دشتی؛ نائبه الزهرا، مؤسسه انتشاراتی موعود اسلام، چ ۱، قم، ۱۳۸۴ ۔
    15. پیام اعظمی؛ والقلم، امامیه دارالاشاعت انباری، اعظم گڑه هندوستان، ۲۰۰۵ م ۔
    16. علامه مجلسى، بحار الأنوار، 110 جلد، مؤسسه الوفاء بیروت - لبنان، 1404 ه
    17. محمد محمدى اشتهاردى‏؛ غم نامه کربلا، تعداد جلد ۱، نشر مطهر، تهران‏،1377 ش‏
    18. سید مصطفی موسوی خرم آبادی؛ سیره واندیشه حضرت زینب، انتشارات دانشگاه قم، ۱۳۸۶ ۔
    19. مهدی پیشوائی، شام سرزمین خاطره ها، دفتر آموزش وتبلیغات، تهران، ۱۳۶۹ ۔
    20. محمد باقر کمره‏اى 1374 ش‏؛ امالى شیخ صدوق- ترجمه کمره‏اى‏تاری اسلامیه،
    21. ابی مخنف؛ مقتل الحسین، دارالکتاب، قم، ۱۴۰۸ ۔
    22. محسن نقوی؛ موج ادراک،، ماورا پبلیشرز، بهاول پور روڈ، لاهور۔
    23. زبیح الله محلاتی؛ ریاحین الشریعه، دارالکتب الاسلامیه، تهران ۱۳۶۹ ۔
    24. اندیشه سیاسی عاشورا، ش ۴، سال ۱۳۸۱ ۔
    25. ابومنصور احمد بن علی، طبرسی؛ الاحتجاج، ترجمه جعفری، مکتبه الحیدریه، قم، ۱۴۲۴ ۔
    26. محدث اربلى 693 ق؛ ‏ کشف الغمه فی معرفه الأئمه، تاریخ و فضائل معصومین، ناشر بنى هاشمى۔
    27. فرسان الهیجاء،
    28. سید نور الدین الجزائری؛ خصائص زینبیه، کتابفروشی حضرت مهدی، ۱۴۰۴ ه

     

    • فایل مقاله : دانلود فايل
    • <#f:7352/> : <#f:7353/>
    • <#f:9774/> : <#f:9775/>
    • <#f:9776/> : <#f:9777/>