• حضرت زینب و کربلا
  • اس مقالے کا موضوع هے حضرت زینب (س) اور کربلا ۔
    اس مقالے میں، میں نے سب سے پهلے حضرت زینب (س) کے مختصر حالات زندگی بیان کیا هے اور اس کے بعد حضرت زینب (س) کو بزرگوں کی نظر میں بیان کرکے، پهچنوایا هے: که حضرت زینب (س) کون شخصیت تهیں اور ان کا رتبه کیا تها اور پهر اس مقالے میں حضرت زینب (س) کی کربلا سے متعلق ذمه داریوں کے بارے میں بحث هوئی هے، پهلی ذمه داری تهی قیدیوں کی روحی و جسمی حفاظت کرنا، بیمار امام کی تیمارداری کرنا اور دوسری ذمه داری یعنی اسلام کی حفاظت کرنا جس کی وجه سے بجا هے که حضرت زینب (س) کو نهضت حسینی کی پرستار تیماردار اور محافظ کها جائے ۔اس کے بعد میں حضرت زینب (س) کے اس اسلام کی، حفاظت کرنے کے کئی طریقے کو ذکر کیا پهلا طریقه حضرت زینب (س) کا مختلف جگهوں پر خطبه پڑهنا هے اور دیگر طرائق بهی مختصراً اس مقالے میں ذکر هوئے هیں ۔ آخر میں حرف آخر کے عنوان سے مختصر اور مفید نتیجه اخذ کیا هے ۔

  • مقدمه
    شأن خواهر و مادر موسیٰ، شبیه خدیجه الکبریٰ، وارث ایثار و وفائے ابو طالب، مجسمهٔ صبر و استقامت مصطفیٰ، وارث شجاعت و جرأت مرتضیٰ، ثانی زهراء حضرت زینب الکبریٰ سلام الله علیها نے، عصر عاشور اپنی فوج تشکیل دینی شروع کی اور پهر گیاره محرم کو حسینیت کی علم بردار اپنے لٹے هوئے قافلے کو لے کر کسی بهی ظاهری اسباب کے نه هوتے هوئے تمام ظاهری اسباب کو شکست دینے کے لیے چلیں ۔ امام حسین (ع) تو اپنے شهادت کے پهلے هی اپنی تمام ذمه داریاں حضرت زینب (س) کے سپرد کرچکے تهے اب ایک زینب تهیں اور ایک لٹے هوئے قافلے کی ذمه داری، ایک زینب (س) تهیں اور ایک بیمار امام کی حفاظت کی ذمه داری اور ان سب ذمه داریوں کے علاوه سب سے زیاده مهم ذمه داری تهی اسلام کی حفاظت کرنا ۔جو اسلام مٹنے والا تها جس اسلامی حکومت کے نام پر یزید، فرعون وقت بن کر بیٹها هوا تها اور اگر حسینی نهضت انجام تک نه پهنچتی تو اسلام کا کوئی نام و نشان باقی نه رهتا اور اس رسالت کو انجام تک پهنچانے والی تهیں جناب زینب (س) ۔
    حضرت زینب (س) پر جو دو اهم ذمه داریاں تهیں هم ان کی ادائیگی کا جدا جدا مختصراً تذکره کرتےهیں ۔
    حضرت زینب سلام الله علیها کے مختصر حالات زندگی
    حضرت زینب (س) کی تاریخ پیدایش میں مؤرخوں میں اختلاف هے جس میں دو قول مشهور هے آپ کی ولادت کی تاریخ کے لیے پهلا قول ۵ جمادی الاول سنه ۵ هجری (۱) اور دوسرا قول ۵ جمادی الاول سنه ۶ هجری هے ۔ (۲) حضرت زینب (س) کی ولادت مدینه النبی میں هوئی اور آپ نے تقریبا پانچ سال اپنی والده گرامی کے ساته زندگی گزاری ۔حضرت زینب (س) حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمه (س) کی بیٹی تهیں اور ان کے شوهر کا نام عبد الله بن جعفرتها جو حضرت کے چچا زاد بهائی تهے ۔
    حضرت کے مختلف القاب اور کنیه لکهے گئے هیں مثال کے طور پر: صدیقهٔ صغریٰ، عارفهٔ عالمه، فاضله، کامله، عابدهٔ آل علی (۳) ۔اور سب سے مشهور لقب هے عقیلهٔ بنی هاشم (۴) ۔جب تک حضرت علی (ع) مدینه میں رهتے تهے تو حضرت زینب (س) بهی اپنے شوهر کے ساته مدینه هی میں رهتی تهیں مگر جب حضرت علی (ع) نے اپنی حکومت کوفه میں منتقل کیا تو حضرت زینب (س) بهی اپنے بابا کے ساته کوفه تشریف لے آئیں ۔ (۵) حضرت زینب (س) کی وفات اتوار کی رات ۱۴ رجب سنه ۶۲ هجری کو هوئی۔ (۶) یعنی تقریبا واقعه کربلا کے ڈیڑه سال بعد (۷) ۔ اس وقت ان کی عمر ۵۵ سال تهی۔
    حضرت زینب (س) کی شخصیت بزرگوں کے کلام میں
    آیت الله خویی فرماتے هیں:"جناب زینب (س) اپنے بهایی کی شریک کارتهیں الله کی راه میں جهاد کرنے میں شریک تهیں اور اپنے جد حضرت سید المرسلین (ص) کے دین سے دفاع کرنے میں شریک تهیں، فصاحت و بلاغت میں اس قدر بلند مرتبه تهیں که جب خطبه دیا تو سب کو محسوس هوا که ان کے بابا علی علیه السلام بول رهے هیں، ثبات و پایداری میں اپنے بابا جیسی تهیں کبهی ظالم کے سامنے نهیں جهکیں اور الله کے علاوه کسی اور سے نهیں ڈریں، همیشه حق کهتیں اور سچ بولتیں" ۔
    شهید مطهری حضرت زینب (س) کے صبر کے بارے میں لکهتے هیں: "قیام حسینی میں جس نے سب سے زیاده تحمل و صبر کا درس سیکه اور جس کے روح پر سب سے زیاده حسینی روشنی اتری وه تهیں جناب زینب (س)" ۔ (۸)
    صاحب نواسخ التواریخ لکهتے هیں:"به تحقیق خلقت کے آغاز سے اب تک کوئی بهی خاتون چاهے وه نبی کی بیوی هو یا اولیاء میں سے، جو حلم و صبر حضرت زینب (س) میں تها اس حلم و صبر کے ساته پیدا نهیں هوئی " ۔ (۹)
    ابن اثیر نے لکها هے: "حضرت زینب (س) فصاحت و بلاغت، زهد و عبادت، فضیلت و شجاعت اور سخاوت میں اپنے بابا حضرت علی (ع) اور اپنی ماں حضرت فاطمه (س) سے سب سے زیاده مشابه تهیں" ۔ (۱۰)
    هاں حضرت زینب (س) نے بزرگوں کے کلام میں اپنی جگه بنالیا اور کیوں نه بناتیں کیونکه وه خاتون اس قدر عظیم خاتون تهیں، اس قدر بزرگ تهیں ان کی بزرگی بیان کرنے کے لیے یهی ایک نکته بیان کرنا کافی هے که عصر عاشور جس وقت جناب زینب (س) کے دونوں بیٹے شهید کردیے گئے تو خیمه سے باهر نهیں نکلی تهیں ۔ (۱۱) جب که باقی افراد شهادت کے بعد خیمه سے باهر نکلتی تهیں اور بهائی حسین (ع) کو دلداری دیتی تهیں مگر اس وقت اس لیے خیمه سے باهر نهیں نکلیں که کهیں بهائی حسین (ع) ان سے شرمنده نه هوجائیں ۔
    زینب (س) جو قره العین مرتضیٰ، جو علی مرتضیٰ کی آنکهوں کی ٹهنڈک هو، جو علی مرتضیٰ کی آنکهوں کا نور هو، وه زینب جو علی مرتضیٰ کی قربانیوں کو منزل تک پهنچانے والی هو، وه زینب جو" عیقله القریش ''هو، جو قریش کی عقیله و فاضله هو، وه زینب جو امین الله هو، الله کی امانتدار هو، گهر لٹ جائے سر سے چادر چهن جائے بے گهر هوجائے لیکن الله کی امانت، اسلام پر حرف نه آنے دے، انسانیت بچ جائے، خدا کی تسبیح و تهلیل کی امانتداری میں خیانت نه هو، وه زینب جو" آیه من آیات الله " الله کی نشانیوں میں سے ایک نشانی هے ۔وه زینب جو مظلومه وحیده هے جس کی وضاحت آپ کے مصائب میں هوگی، جو مظلوموں مین سے ایک مظلومه هے، جو ملیکه الدنیا وه زینب جو جهان کی ملکه هے جو هماری عبادتوں کی ضامن هے، جس زینب کا احترام انبیاء ما سبق نے کیا هے جس کو جبرئیل نے لوریاں سنائی هے، یه بی بی، زینب (س)، ثانی زهرا هے اور زهرا کا احترام وه کرتا تها
    جس کا احترام ایک لاکه چوبیس هزار انبیا کرتے حضرت زینب (س) ایک فرد نهیں بلکه اپنے مقدس وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے هوئے هیں ایک ایسی عظیم کائنات جس میں عقل و شعور کی شمعیں اپنی مقدس کرنوں سے کاشانه انسانیت کے درو بام کو روشن کیے هوئے هیں اور جس کے مینار عظمت پر کردار سازی کا پرچم لهراتا هوا نظر آتا هے زینب کے مقدس وجود میں دنیائے بشریت کی تمام عظمتیں اور پاکیزه رفعتیں سمٹ کر اپنے آثار نمایاں کرتی هوئی نظر آتی هیں ۔
    زینب بنت علی (س) تاریخ اسلام میں اپنی مخصوص انفرادیت کی حامل هے اور واقعه کربلا میں آپ کے صبر و شجاعانه جهاد نے امام حسین (ع) کے مقدس مشن کو پایهٔ تکمیل تک پهنچایا ۔آپ نے دین اسلام کی پاکیزه تعلیمات کا تحفظ و پاسداری میں اپنا کردار اس طرح ادا کیا که جیسے ابوطالب (ع) رسول الله (ص) کی پرورش میں اپنے بهتیجے کے تحفظ کی لیے اپنی اولاد کو نچهاور کرنا پسند کرتے تهے کیونکه ایک هی هدف تها که محمد بچ جائے دین بچ جائے چاهے کوئی بهی قربانی دینی پڑے اس لیے تاریخ میں زینب کی قربانی کی مثال نهیں ملتی یه اس شجاع کی بیٹی هے جس کی شجاعت کا لوها بڑے بڑوں نے مانا تها اور بے اختیار ستایش کی۔
    حضرت زینب ایک کامل انسان کا نمونه
    اسلام کی نظر میں انسان کامل کے مختلف ابعاد اور متضاد صفتات هیں یعنی اس کے باوجود که وه قاطع اور ارادے والا هوتا هے اس کے ساته ساته جذبات والا اور انعطاف والا بهی هوتا هے ظالموں کے ظلم کو برداشت نهیں کرتا اور اس کا دل مستضعفین اور مظلوموں کے لیے دهڑکتا هے اور عزیز و بلند مرتبه هونے کے باوجود مومنین کے مقابلے میں تواضع سے کام لیتا هے اور ان کے پاس اس طرح بیٹهتا هے که گویا انهی میں سے ایک هو۔ (۱۲)
    حضرت علی (ع) کی نیک بیٹی بهی اس طرح تهیں اس کے باوجود که سنه ۶۱ هجری کی گیارهویں محرم کے دن شهیدان کربلا کے ٹکڑے ٹکڑے لاشوں کے پاس، ته دل سے روتی رهیں اور آنسو بهائے، اپنے بهائی حسین (ع) کے خون میں لپٹے هوئے لاشے پر کهتی هوئی نظر آتی هیں که:"الهم تقبل منا هذا القلیل القربان "اے خدا! اس قلیل قربانی کو هم سے قبول فرما ۔یه کلام دشمن کے سامنے اگر دیکها جائے تو بهت دل و جرأت والا هے لیکن اگر خدا کے سامنے دیکها جائے تو نهایت انکساری سے کها گیا هے اس لیے که اگر چه حسین (ع) بهت عظیم تهے اور ان کی
    قربانی راه خدا میں عظمت کے لحاظ سے پوری تاریخ میں بے نظیر تهی لیکن
    خدا کے بے نهایت عظمت کے سامنے چهوٹی تهی اور جناب زینب (س) کی معرفت کا تقاضا یه تها که خدا کے حضور میں اس طرح خشوع و انکساری کے الفاظ زبان پر لائیں ۔
    جناب زینب (س) کے خطبے کوفه و شام میں ابن زیاد کے سامنے اور طاغوت شام، یزید کے شاهانه دربار میں بهی جناب زینب (س) کی شجاعت اور صبر کی داد دیتے هیں، جناب زینب اپنی ماں جناب فاطمه زهرا (س) کی طرح حجاب و حیا کے باوجود ایک آتشفشاں کی طرح طاغوتیوں کی هستی کو جڑ سے اکها ڑ ڈالا هے ۔
    جناب زینب (س) اپنے ماں باپ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمه (س) کی طرح جامع صفات اضداد تهیں یعنی متضاد صفات کو اپنے وجود کے اندر رکهتی تهیں اور جیسا که صدر المتألهین فرماتے هیں:"لولا التضاد ما صح دوام الفیض عن المبدءالجواد "(۱۳) اگر تضاد نه هو تا تو عطا کرنے والے خدا کی طرف سے، فیض کا دوام صحیح نه هوتا ۔
    اس بنا پر شجاع و دلیر انسان اور میدان جنگ کے سورما بهی اپنے اندر محبت و عطوفت کا ایک چراغ روشن کرسکتے هیں جیسا که حضرت زینب (س) تهیں۔
    حضرت زینب (س) نے هر موڑ پر اپنے بهائی کا ساته دیا هے
    جناب زینب (س) خاص طور پر امام حسین (ع) سے بهت زیاده قریب تهیں اور یه محبت و قربت بچپن سے هی دونوں میں پرورش پا رهی تهی چنانچه روایت میں هے که جب آپ بهت چهوٹی تهیں ایک دن معصومهٔ عالم نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا که: بابا! مجهے زینب اور حسین کی محبت دیکهکر کبهی کبهی حیرت هوتی هے یه لڑکی اگر حسین کو ایک لمحه کے لیے نهیں دیکهتی تو بے چین هوجاتی هے، اس وقت رسول اسلام (ص) نے فرمایاتها:"بیٹی! وه مستقبل میں اپنے بهائی حسین کے مصیبتوں اور سختیوں میں شریک هوگی۔"
    اسی لیے جناب زینب (س) نے عظیم مقاصد کے تحت آرام و آسایش کی زندگی ترک کردی اور جب امام حسین (ع) نواسه رسول خدا (ص) نے اسلام کی حفاظت اور ملت اسلامیه کی اصلاح کے لیے کربلا کا سفر اختیار کیا تو جناب زینب (س) بهی بهائی کے ساته هوگئیں ۔
    علی و فاطمه کی بیٹی اپنے بهائی کے ساته اسلامی اصولوں کی برتری کے لیے هر قربانی دینے کو تیار هوگئی ظاهر هے جناب زینب (س) بهائی کی محبت سے قطع نظر، اسلامی اقدار کی حفاظت اور اموی انحراف سے اسلام کی نجات کے لیے امام حسین (ع) کے ساته هوئی تهیں کیونکه آپ کا سارا وجود عشق الهی سے سرشار تها ۔
    کربلا سے متعلق حضرت زینب (س) کی دو اهم ذمه داریاں
    حضرت زینب (س) کو پرستار کربلا کها جاتا هے کیونکه آپ نے اپنے زمانے کے امام، امام زین العابدین علیه السلام کی تیمارداری کی اور اس کے علاوه معرکه میں موجود دیگر مصیبت زدوں کی تیماردای اور حفاظت کی هے ۔
    حضرت زینب (س) نے هر طرح کی مشکل و مصیبت کو تحمل کیا تا که اپنے رهبر اپنے امام پر دین کو ادا کرسکیں الله کے بهیجے هوئے پاک رسول کا درود و سلام اس عظیم خاتون پر۔
    اس مقدمے کے بعد حضرت زینب (س) کی ان دو اهم ذمه داریوں کا ذکر کرونگی جو واقعه کربلا کی ابتدا سے حضرت کی آخر عمر تک ان کے سپرد کی گئی هے ۔
    امام حسین (ع) نے اپنی شهادت سے پهلے هی ان ذمه داریوں کو اپنی بهن کے سپرد کردیا تها اور اس پر صبر و شکیبائی کی دعوت دی اور قلب مطمئن کے ساته راهی میدان جنگ هوئے ۔
    پهلی ذمه داری
    روز عاشورا اور عصر عاشورا کے بعد قافلے کے بقیه لوگوں کی هر طرح حفاظت کرنا اور ان سب کی تیمارداری کرنا ۔
    دوسری ذمه داری
    بهائی حسین (ع) کے مشن کو منزل کمال تک پهنچانا ۔
    مگر پهلی ذمه داری کی وضاحت کرنے سے پهلے چاهونگی که اس عظیم ذمه داری (تیمارداری) کی اسلام میں اهمیت بیان کروں تا که بی بی کے اس کام کی عظمت زیاده سے زیاده ذهنوں میں بیٹه جائے ۔
    رسول خدا (ص) فرماتے هیں:"من قام علیٰ مریض یوما و لیله بعث الله مع ابراهیم خلیل الرحمٰن، فجاز علیٰ الصراط کالبرق الامع!"(۱۴) جو کوئی ایک دن رات بیمار کے سرهانے بیٹه
    کر اسکی تیمارداری کرے تو الله قیامت کے دن، اسے حضرت ابراهیم خلیل الرحمٰن کے ساته مشهور کرے گا اور وه شخص پل صراط پر سے روشنی کی تیزی کی طرح گذر جائے گا ۔
    اس حدیث سے واضح هوگیا که اس فریضے کی اسلام میں کتنی اهمیت هے، جو شخص بیمار کے ساته شفقت و مهربانی اور ترحم کے ساته پیش آتا هے تو الله بهی اس کے ساته شفقت و مهربانی اور ترحم کے ساته پیش آتا هے ایک بیمار کی تیمار داری کی لیے صبر و تحمل دو اهم چیز هوتی هیں اور اسلام میں ان دو صفت رکهنے والے کے لیے بهی بهت اجرو ثواب بیان کیے گئے هیں لهذا فریضه تیمارداری اسلام میں نهایت ارزش و اهمیت رکهتی هے ۔
    صدر اسلام میں تیمار دار عورتیں کے کچه نمونے
    "ام سنان"اس خاتون کا نام هے جو صدر اسلام میں چاهتی تهیں که جنگ کےموقع پر همیشه رسول اور سپاهیوں کے ساته رهیں خیبر کی جنگ میں رسول خدا (ص) کے حضور میں آتی هیں اور فرماتی هیں:
    " میں جنگ آئی هوں تا که آپ لوگوں کے ساته ساته رهوں تا که زخمیوں کی مدد کروں اور انهیں پانی پلاؤں ۔رسول خدا (ص) نے اس خاتون کو اجازت دی اور فرمایا: جائو اور میری بیوی ام سمله کے ساته رهو "۔ (۱۵)
    "ام عماره"بهی ایک دوسری خاتون کا نام هے جو زخمیوں کی مدد کے لیے میدان جنگ گئ هوئی تهیں ۔
    امام محمد باقر (ع) فرماتے هیں جنگ احد میں حضرت علی (ع) کے بدن پر ساٹه زخم آئے اور رسول اکرم (ص) نے دو خاتون جن کا نام ام سلیمه اور ام عطیه تهے، کو مقرر کیا تا که حضرت علی (ع) کے زخموں کا مداوا کریں وه دونوں جب زخم پر پٹی باندهنے لگیں تو دیکها ایک زخم بند کرنے سے دوسر ے زخموں سے خون جاری هوتے هیں اور زخم بهت زیاده تهے، تو اس بات کو رسول خدا (ص) سے عرض کیا (۱۶) دوسری جگه آیا هے که حضرت نے فرمایا: سارے زخم کو اکٹها بند کردیں اور اسی طرح کیا اور سارے زخم بند هوگئے ۔
    حضرت زینب (س)، تاریخ میں تیمارداروں کا نمونه عمل
    حضرت زینب (س) انسانی کمالات میں سخت کوش، قاطع اور محکم عورت تهیں آپ محبت و عطوفت کا مرکز تهیں اور هر نرس کو ان صفات و کمالات سے بهره مند هونا چاهیے، لکن اس کے با وجود غصه اور سختی اور قاطعیت کا مرکز بهی تهیں جو که هر مبارز و مجاهد شخص کو چاهیئے که ان صفات کا حامل هو ۔
    جناب زینب (س) نے اپنی مقدس حیات کے دوران جو که ۶۰ سال کی تهی مختلف جگهوں پر تیمارداری کے مقدس کو انجام دیا هے کبهی اپنی ماں، کبهی اپنے باباعلی (ع)، کبهی اپنے بهائی امام حسن (ع) اور کبهی اپنے بهائی حسن (ع) کے چهوٹے بچوں کی تیمارداری کے فرائض انجام دیے۔
    جناب زینب (س) کی تیمارداری صرف مادی لحاظ سے نهیں تهی بلکه ایک باتجربه استاد اور ایک با خبر معلم کی حیثیت سے بے سرپرست بچوں کی تربیت اور ان کی روح کی پرورش میں بهی مصروف رهتی تهیں اور اس لحاظ سے ایک بے نظیر نمونهٔ عمل تهیں اس لیے که یه کام انبیاء علیهم السلام اور اؤلیاء خدا کا اصلی مقصد هے ۔
    تاریخ کربلا اور تحریک زینب (س) میں ایک نیا باب کهلتا هے ۔حضرت زینب (س) اس قافلے کی قافله سالار اور بزرگ هیں که جس کے قافله سالار امام حسین (ع) تهے، جس کے حامی عباس (ع)، علی اکبر (ع)، بنی هاشم اور امام حسین (ع) کے با وفا اصحاب تهے وه غیور مرد جن پر اهل بیت (ع)، حرم اور بچوں کو ناز تها جن کے وجود سے اهل بیت (ع) کو سکون تها ۔ایسی حمایت و نگهبانی تهی که سید الشهداء (ع) کی حیات کے آخری لمحات تک دشمن خیموں کے نزدیک نه هوسکے ۔ جنگ کے دوران ابو عبد الله الحسین (ع) کی، لاحول و لا قوه الا بالله کی آواز سے ان کی ڈهارس بندهی هوئی تهی، حسین (ع) اس طرح انهیں تسلی دے رهے تهے ۔
    حضرت زینب (س) کو بهترین عزیزوں کی شهادت اور خیموں کی تاراجی کے بعد دشمن کی آزار و اذیت کو برداشت کرنا هے، شهیدوں کے خون میں ڈوبے هوئے پامال لاشوں کا نظاره کرنا هے، ان داغ دیده لوگوں کا قافله رهتی دنیا تک چلتا رهے گا اور اس کی فریاد ابدیت کی بلندی تک پهنچے گی، یه اس الهی انقلاب کے پیغام رساں هیں که جس کی قیمت بهترین خلائق کے خون، ثارالله سے ادا کی گئی هے۔
    امام زین العابدین (ع) کے بعد اس قافلے کی بزرگ، خاندان پیغمبر (ص) سے ایک خاتون هے که جس کے عزم و استقلال کے سامنے پهاڑ پشیمان اور جس کے صبر پر ملائکه محو حیرت هیں، علی کی بیٹی هے، فاطمه کی لخت جگر هے، بی امیه کے ظلم کے قصروں کی بنیاد هلانے والی هے اور ان کو پشیمان و سرنگوں کرنے والی هے ۔یه زینب (س) هے جو اپنے امام (ع) کے حکم سے اولاد فاطمه (س) کے قافله کی سرپرستی کرتی هےاور بڑی مصیبتیں اٹهانے کے بعد امام حسین (ع) اور ان کے فداکار اصحاب کے خونین پیغام کو لوگوں تک پهنچاتی هیں ۔
    واقعه کربلا اور اسیری کے دوران حضرت زینب (س) کے تیمارداری کے چند نمونے
    ۱ ۔روز عاشورا حضرت زینب (س) زخمیوں کی مدد کرتی تهیں ان کے کربلا پر موجود گهر والوں کو تسلی دیتی تهیں، ماؤں کو صبر پر ترغیب کرتی تهیں اور اپنے بهائی کے پر درد کے لیے تسکین دل تهیں خاص طور پر اس وقت جب علی اکبر (ع) کی شهادت کی خبر خیمه تک پهنچی منقول هے که امام حسین (ع) سے پهلے هی پهوپهی زینب علی اکبر کے سرهانے پهنچ کر اپنے کو لاش پر گرادیا اور بلند آواز سے فریاد کیا:" یا اخیاه و یا ابن اخیاه، و وامهجه قلباه "(۱۷) بعض کا کهنا هے که حضرت زینب (س) نے اس لیے بلند آواز سے فریاد کیا تها که بهائی حسین (ع) کو اپنی طرف متوجه کریں اور بهائی کے شدت غم و اندوه میں کمی هوجائے جو اپنے لخت جگر، قطعه قطعه، خون آلود لاش علی اکبر کو دیکهکر پیش آئی تهی ۔
    ۲ ۔ جب امام حسین (ع) علی اصغر کے شهادت کے بعدان کو خیمه کی طرف لائیں تو بهن نے آگے بڑهکر علی اصغر کی لاش کو هاتوں پر لے لیا اور اس طرح اپنے بهائی کے غم و اندوه میں شریک هوگئیں اور یه وهی بے مثال مدد هے جسے زینب
    نے اپنے بهائی کے حق میں پیش کیا ۔
    ۳ ۔ جناب زینب (س) نے امام حسین (ع) کی شهادت کے بعد اور اس سے پهلےبهی امام سجاد (ع) کی، جو که بیمار کربلا تهے، تیمارداری میں مشغول رهیں اور ان کی یه تیمارداری اور حفاظت اس حد تک پهنچ گئی تهی که اس وقت جب دشمن نے خاندان رسالت کے تمام خیموں میں آگ لگادی تهی اور اهل حرم سارے خیموں کو چهوڑکر صحرا کی طرف بهاگ رهے تهے لکن اس وقت میں بهی جناب زینب (س) امام سجاد (ع) کے خیمه میں رک گئیں اور اپنی انتهک کوششوں سے اس خیمه کی آگ کو بجهایا اور حجت خدا کی نگهبانی اور حفاظت کی چنانچه راوی کهتا هے میں نے دیکها که ایک بلند قد خاتون آگ کے شعله ور خیمه میں جاتی هیں میں نے سوچا آخر کیا قیمتی چیز اس خیمه میں رکهی هوئی هے جس کی وجه سے یه خاتون اپنی جان کی بازی لگاکر اس میں داخل هوتی هیں که ایک مرتبه میں نے دیکها وه خاتون ایک بیمار جو ان کو کاندهوں پر لیے هوئے اس خیمه سے باهر نکلتی هیں ۔ اسی دوران دشمن کا ایک سپاهی هراساں حضرت زینب (س) کے پاس آیا اور جذبات میں کهنے لگا:"آپ کیوں بهاگ نهیں رهی هیں؟ کیا آپ اس آگ کے شعلوں کو نهیں دیکه رهی هیں؟" جناب زینب (س) نے اس سے فرمایا:"اس خیمه میں همارا ایک بیمار شخص هے جوکه بستر سے اٹهنے کے قابل نهیں هے کس طرح اسےتنها چهوڑ سکتی هوں اس کے باوجود که آگ کے شعلے هر طرف سے بهڑک رهے هیں (۱۸) "۔
    حضرت زینب (س) نے یهاں پر اپنے امتحان کو کامیابی کی ساته منزل تک پهنچایا اور زمانے کے امام کی حفاظت کی ۔
    ۴ ۔اور ایک وقت ایسا ابهی آیا که جب غم زده بچوں اور عورتوں کا قافله، جس کے عزیز مارے جا چکے جس کی قافله سالار زینب هیں سفر کے لیے تیار هورها هے ۔پست فطرت دشمن اهل حرم کے پاس آتے هیں اور چاهتے هیں که اهل بیت رسول خدا کو اونٹوں پر سوار کریں لیکن شیر زن کربلا نے اجازت نهیں دی نامحرموں کا هاته اهل حرم تک پهنچے اور اپنے هاتهوں سے ایک ایک بی بی کو سوار کیا ۔ هم نےدیکها که کس قدر حضرت زینب (س) کو پرده نشینوں کے پردے اور حفاظت کا خیال هے ۔
    ۵ ۔کوفه کی راه طے کرنے کے بعد جب حضرت زینب (س) نے اپنے بهائی کا کٹا هوا سر دیکها تو یتیموں کے حال پر یه اشعار پڑهے:
    " یا اخی لو تری علیا لدی الاسر مع الیتیم لایطق جوابا "
    اے میرے بهایی! کاش تم علی (امام سجاد "علیه السلام") کو یتیم بچوں کی ساته اسارت کے وقت میں دیکهتے که بولنے اور جواب دینے کی طاقت ان میں نهیں تهی ِ
    اور دوسرے شعر میں فرماتیں هیں:
    " ما اذل الیتیم حین ینادی بابیه و لا یراه مجیبا " (۱۹)
    کتنا پریشان اور بے آسرا هے وه یتیم جو که اپنے بابا کو پکارے لکن بابا سے کوئی جواب نه ملے ِ
    این اشعار میں هم دیکتهے هیں که جناب زینب (س) همیشه اور هر جگه بچوں کی سرپرستی اور تیمارداری کی فکر میں رهتی هیں که کبهی انهیں کوئی نقصان نه پهنچنے پائے ۔
    ۶ ۔ ابن زیاد نے کوفه میں حکم دیا که جناب زینب (س) اور ان کے قافلے والوں کو مسجد کوفه کے پاس ایک جگه پر جو زندان کی طرح تها، قید کردیا جائے، جناب زینب (س) نے دیکها که وه زندان اس طرح کا هے که لوگوں کا آنا جانا وهاں پر آزاد هے اور هر کوئی وهاں آجا سکتا هے اور اس طرح شهداء کے وارثوں کی توهین اور تحقیر هوتی هے اور ان کی روح و جان کے لیے ایک سخت اذیت هے، یه دیکهکرجناب زینب (س) فکرمند هوگئیں، اس لیے که آپ صرف مادی لحاظ سے ان کی تیمارداری نهیں کرتی تهیں بلکه کوشش کرتی تهیں که ان کی بلند روح کو بهی نقصان نه پپهنچنے پائے، آپ آگے بڑهیں اور صراحت کے ساته اعلان کیا "لا یدخلن عربیه الا ام ولد او مملوکه فانهن سبین کما سبینا "(۲۰) کسی بهی عورت کو جو که عرب خاندان کی هو هماری ملاقات کا حق نهیں هے سوائے ام ولد اور کنیزوں کے جو که هماری طرح اسیری کا مزه چکه چکی هے ۔
    جناب زینب (س) نے اپنے بلند نظری اور درایت کی وجه سے اپنے ماتحت لوگوں کی ذات اور حیثیت کو کوئی نقصان نهیں پهنچنے دیا اور علم نفسیات کے لحاظ سے یه کام اپنے ماتحت لوگوں کی روحی حالات کی حفاظت میں بهت اهم کردار رکهتا هے ۔ چنانچه حضرت زینب (س) همیشه اس فکر میں رهتی تهیں که قافله میں موجود هر فرد کی روحی حالات کو برقرار رکهیں اور ان لوگوں میں زندگی کی امید زیاده کریں اور اس کام کو به نحو احسن انجام دیا ۔
    اس طرح سے هم نے دیکها که حضرت زینب (س) نے یتیموں، بیوه عورتوں اور امام زین العابدین (ع) کی ظاهری اور باطنی طور سے تیمارداری کی هے ۔کربلا کے آغاز سے هی حضرت زینب (س) اس ذمه داری کو اپنے کاندهوں پر اٹهایا اور جب تک که یه قافله اپنی منزل تک پهنچ جائے کوئی کوتاهی نهیں کی مگر یه ناانصافی هے که هم حضرت زینب (س) کو صرف بیمار کی تیمار دار اور خواتین کی سرپرست کے نام سے پهچانے ۔
    هاں یه ذمه داری کو نبهانا تها مگر یه ذمه داری وه حضرت کی ذمه داریوں میں سے ایک چهوٹاسا حصه تها هر چند که ایک بیمار کی تیمارداری نهایت اهم اور سخت ذمه داری هے اور ایک تیماردار کو چاهیئے که وه صبر و تحمل سے هر مشکل کو تحمل کرے اور اپنے بیمار کی خدمت کرے اور اس طرح کا کام بهی هر کوئی نهیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود حضرت زینب (س) کا مقام و رتبه اس قدر بالا هے که وه حضرت کو تحریک حسینی کی تیماردار و محافظ سمجها جائے کیونکه یه فریضه ایک بیمار کی تیمارداری اور قافلے کی حفاظت سے کهیں زیاده مهم اور حساس فریضه تها ۔
    حضرت زینب (س) کی سب سے بڑی اور اهم ذمه داری هے پیغام پهنچانا اور اس کا بار آپ پر زیاده تها لیکن حضرت زینب (س) کے حوصله میں حد سے زیاده استقامت اور مقاومت هے کے وه بڑی مشکلوں اور مصائب کے وحشتناک طوفان سے هرگز نه گهبرائیں اور مقاصد امام حسین (ع) کو زنده جاوید بنانے میں حضرت زینب (س) تاریخ کا بے مثال نمونه پیش کیا هے اور بنی امیه کے خاندان کے مظالم کو آشکار کردیا اور قصر یزید بن معاویه کو همیشه همیشه کے لیے مسمار کرکے رکهدیا۔
    کس دین کو بچانا تها
    امام حسین (ع) کے قیام کے وقت حاکم دمشق نے اسلام کا لباده اوڑه رکها تها تعلیمات اسلامیه کا کهلٌم کهلٌا مذاق اڑایا جاتا تها اسلامی شعائر کا احترام نهیں کیا جاتا تها ان حالات میں روح اسلام کو از سر نو بیدار کرنے کی ضرورت تهی اسلامی آداب و اطوار کو حیات نو دینے کی ضرورت تهی زنگ آلود ذهنوں کو صیقل کرکے ان کو اسلامی رنگ دینا وقت کا تقاضا تها ۔ان مقاصد کو لے کر امام حسین (ع) اٹهے اور راه خدا میں جهاد کرتے هوئے اپنی جان بهی قربان کردی۔
    تعلیمات اسلامیه کا احیا هی آپ کا مقصد تها اسوه ٔحسینی میں یهی راز مضمر تهاآپ کی شهادت کے بعد ضروری تها که ان مقاصد کی تبلیغ کی جائے اور ان کو واضح الفاظ میں بیان کیا جائے تا که شهادت کا مقصد روز روشن کی طرح ظاهر هوجائے، مخالف سیاسی پروپیگنڈه کی وجه سے اهل شام اهل بیت (ع) کی عظمت اور ان کے مقام سے نا آشنا هوگئے تهے ۔کئی سال تک مخالفانه مهم کو چلایا گیا تها ۔
    اگر اس دوران کے حالات کا پته لگایا جائے گا تو پته چلے گا که حضرت زینب (س) اور امام حسین (ع) نے کیا عظیم کام کیا ۔اس دوران جو اموی سیاستیں عوام کے دلوں کو فساد و گناه کی رغبت دیتی تهی اور اسلام ناب محمدی لوگوں کے اذهان سے مٹنے هی والا تها ۔فسق و فجور هر طرف سے حکومت اور معاشرے سے نمایاں تها ۔ایک مرتبه پهر لوگ جاهلیت کے زمانے پر پلٹ رهے تهے اس جیسی حالات میں امام حسین (ع) نے قیام کیا ۔
    ڈاکٹر علی شریعتی ان شخصیت کا نام هے جنهوں نے جناب زینب (س) کی مهم رسالت کے بارے میں تحقیق کی هے انهوں نے امام حسین (ع) کے قیام کو انقلاب کے نام سے یاد کیا هے ۔ امام حسین (ع) نے کامل آگاهی کے ساته یه انقلاب برپا کیا تها ۔اگر هم اس واقعه کو ایک معمولی سا واقعه سمجهیں حضرت زینب (س) کی رسالت کو نهیں سمجه سکتے بلکه اگر اس واقعه کو انقلاب کا نام دیا جائے تبهی حضرت زینب (س) کی رسالت کو سمجه سکتے هیں اس لیے چاهتی هوں حضرت زینب (س) کی رسالت کے پهلے امام حسین (ع) کے قیام کی کچه وضاحت پیش کروں ۔
    امام حسین (ع) کا اصلاح طلبانه قیام
    جو مسلم بات هے وه یه که امام حسین (ع) نے اپنی نهضت اور قیام کے دوران ایک لمحه کے لیے بهی اپنے مقصد و هدف امر به معروف و نهی عن المنکر کے علاوه کوئی دوسرا هدف اختیار نهیں کیا جیسا که امام فرماتے هیں:"اهل دنیا جان لیں میں ایک جنگ طلب، جاه و مقام کا لالچی، گناهکار، مفسد فی الارض یا ظالم و ستمگر شخص نهیں هوں میں ایسے مقاصد لے کر نهیں اٹها هوں میرا انقلاب اصلاح طلبی کا انقلاب هے میں اپنے جد کی امت کی اصلاح چاهتا هوں میرا مقصد امر به معروف و نهی عن المنکر هے" ۔
    لیکن کبهی کبهی یه اصلاح محقق نهیں هوتا مگر خون کے اثر کے ذریعے ۔امام حسین (ع) نے نه تنها اس راه میں اپنا خون دیا بلکه اپنے یاران باوفا کے بهی خون دیے هیں راه اسلام میں اپنے اهل بیت کی جانے بهی فدا کردی ۔
    ترکت الخلق طرا فی هواکا وایتمت العیال لکی اراکا
    ولو قطعتنی فی الحب اربا لماحسن الفؤاد الی سواکا
    حسین (ع) نے اپے خون اور اپنے یاران باوفا کے خون کے آثار کو مؤثر سے مؤثر تر بنانے کے لیے بچوں اور عورتوں کو بهی اپنے ساته لیا یهاں تک که اپنی پرده نشینوں اور بچوں کی اسیری کے مرحلے تک چلے گئے ۔حضرت زینب (س) نے بهی اپنے بهائی کا راسته اختیار کیا وهی صبر و شکیبائی وهی رنج و محن کا تحمل کرنا اور اسی سخت ارادے کے ساته اپنے بهائی کے مقصد کو کامل کیا اور تمام دوران نه تنها صابر تهیں بلکه شاکر بهی تهیں اور کیونکه هر چیز کو راه خدا میں دیکهتی تهیں، زیبائی اور خوبصورتی کے علاوه کچه بهی نهیں دیکهتی تهیں:"ما رأیت الا جمیلا "(۲۱) ۔
    حضرت زینب (س) کو اپنے بهائی کے دیے هوئے خون کی پاسبانی کرنی تهی اور اگر حضرت زینب (س) اس ذمه داری کو اپنے لیے مخصوص نه کرتیں تو قطعا امام حسین (ع) کا خون پایمال هوجاتا۔
    حضرت زینب (س) نے قوم ظالم کو رسوا کرنے کے لیے اسارت دیکهی لکن اگر یه اسارت نه هوتی، اگر زینب اسیران کربلا کی قافله سالار نه بنتیں تو یزید اور اس کے افراد اپنے اهداف تک پهنچ جاتے اور رسول الله (ص) کے نام کو نه تنها مساجد پر سے بلکه تاریخ کے صفحوں سے بهی محو کردیتے اور یهی ان کی نیت اور مقصد تها ۔
    اب سؤال یه پیدا هو تا هے که اس عظیم ذمه داری کے لیے حضرت زینب (س)
    کو کیوں انتخاب کیا گیا؟
    حضرت زینب (س) امیر المؤمنین علی ِعلیه السلام کے گهر میں پلی هوئی هیں جو حضرت بحیثیت حاکم اسلام اور خلیفه المسلمین کے کم و بیش چار سال حاکم رهے ۔ حضرت زینب (س) قریب سے دیکه رهیں تهیں که کس طرح ان کے والد گرامی، اسلام کو بچانے کے لیے کس کس طرح سختی جهیلی هے دیکه رهی تهیں که بابا علی کی حالت اس شخص جیسی ههے جس کی آنکهوں میں خار هو اور گلے میں هڈی پهنسی هو اور وه کس درد و الم میں مبتلا هو اور یه سب مصیبتیں تحمل هو رهی هیں، دیکه رهی تهیں که اسلامی حکومت کی حفاظت کے لیے کس قدر ان کے بابا کوشش کر رهے تهے، خطرے کے موقع پر خلفاء کی مدد کرتے هیں، اس دوران جناب زینب (س) دیکه رهی تهیں که ابوسفیان کے خاندان کے جهل و مکر سے ان کے بابا کس طرح نالاں هیں، حضرت زینب (س) نے بهائی امام حسن کے دوران بهی بڑهتے هوئے ظلم و ستم کو دیکها جو امام حسن (ع) کی امامت کے وقت اپنے آخری حد تک پهنچ چکا تها اور اب وه وقت آیا تها که انقلاب کیا جائے اور نانا کے دین کو بچایا جائے ۔امام حسین (ع) نے قیام کیا لیکن اگر جناب زینب (س) شریک نه هوتیں تو یه قیام ناتمام رهتا، اب وه وقت آگیا تها که خاندان امیه کے چهروں سے اسلام کی نقاب هٹائی جائے ۔
    هر انقلاب کے دو چهرے هوتے هیں: ایک خون کا چهره اور دوسرا پیغام کا چهره (۲۲) ۔
    پهلے چهرے کو تو بهائی حسین (ع) نے اعلیٰ طور سے زمین کربلا پر سب کو دیکها دیا اب دوسرے چهرے کو نمایاں هونا تها، دنیا والوں کو پیغام سنانا تها، وهی پیغام جس کا بوجه حسین (ع) اپنے کاندهوں پر لیے هوئے زمین کربلا پر تشریف لائے تهے اب یه رسالت کا بوجه ایک خاتون کے کاندهوں پر آیا هے مگر اس خاتون نے تو اس ذمه داری اس طرح نبهایا اس طرح انجام تک پهنچایا که هر مرد اپنے مرد هونے سے شرمنده هوگیا (۲۳) ۔
    حضرت زینب (س)، حضرت علی (ع) کے رعب و جلال اور ان کے فصاحت و بلاغت کی وارث هیں ۔جس بیٹی نے اپنے خطبوں کے ذریعےاموی سیاستوں کا قلع قمع کردیا۔
    جناب زینب (س) کے دو اصلی خطبے تهے ایک کوفے میں اور دوسرا شام میں حضرت زینب (س) اپنے خطبات کو اس صراحت و شیوائی کے ساته نهایت فصاحت وبلاغت سے بیان کرتی تهی که هر موجود شخص سننے پر مجبور هوجاتا تها اور ان کے خطبات نے اس قدر اثر رکها که اموی خاندان کو خطره محسوس هونے لگا ۔
    کوفه میں حضرت زینب (س) کا خطبه پڑهنا
    یه وه خطبه هے جو عقیلهٔ بنی هاشم شریکه الحسین ام المصائب نے بازار کوفه میں پڑها جب اسیراں آل محمد (ص) گرفتار هوکر کوفه میں لائے گئے ۱۲ محرم کا واقعه هے، تماشائیوں کا هجوم تها بازار کی بهیڑ تهی، بهتر کی ماتمدار مستورات هاشمیه پیشی بهگتنے کے لیے ابن زیاد کے دربار میں اس طرح لائی جارهی تهیں که ترک و دیلم کی قیدی عورتیں جس طرح فروخت کرنے کے لیے لائی جاتی هیں ۔
    حضرت زینب (س) نے جب خطبه شروع کیا تو لوگوں کی سانس ان کے سینه میں رک رک کر چل رهی تهی، آنکهیں تهیں که کهلی کی کهلی ره گئیں تهیں، آنکهوں کی پتلیاں ساکت هو گئی تهیں، منه تهے که کهلے هوئے تهے، شام کی فضا پر سکوت طاری تها حتیٰ که اونٹوں کے گلے کی گهنٹیاں خاموش هوگئی تهیں اور دنیائے اسلام کی عظیم ترین مفسره، عالم غیر معلمه، خطیب منبر سلونی کے لب و لهجے میں توحید، رسالت، امامت، قرآن اور حیات بعدالموت کے اسرار و رموز سے پرده اٹها رهی تهیں ۔خطبے کے مفاهیم کے سامنے شعور و فهم انسانی عجز کا اظهار کر رهے تهے، زبان مبارک سے نکلنے والے ایک ایک لفظ سامعین کے قلب و روح سے سینکڑوں پردے اتار رهے تهے، ایک ایک بات سے فضائل محمد و آل محمد (ص) کے چشمے ابل رهے تهے، حق کی شمع کی ضوفشانیاں بڑه رهی تهی، باطل کے چهرے کی تیرگی هر کسی پر عیاں هورهی تهی، اعلان توحید سے دلوں پر عظمت توحید آشکار هو رهی تهی، تذکره نبوت سے مقام و شریعت مصطفیٰ کی تشهیر هورهی تهی حقیقی اسلام کا چهره اور اس کے وارثین و محافظین کی شناخت هورهی تهی، شجره طیبه کی جڑ، تنے، شاخ و برگ اور بار نمایاں هو رهے تهے، اور ان کی ازلی شقاوت پر پڑے هوئے پردے ایک ایک کرکے اتر رهے تهے ۔
    بشیر بن خزیم الاسدی بیان کرتے هیں که میں ے جناب زینب (س) کو اس دن دیکها حالانکه میں نے کبهی کوئی عورت ایسی نهیں دیکهی که مجسمهٔ شرم و حیا هو، پرده دار هو اور پهر اس رعب و جلال سےتقریر کرے که لوگ حیرت زده ره جائیں، ان کی طاهر زبان سے ایسا کلام صادر هو رها تها گویا که امیر المؤمنین (ع) کی زبان گویا هے۔ایک دفعه حضرت زینب (س) نے لوگوں کی طرف اشاره کیا که "چپ رهو" اور پهر شروع کیا:
    آپ نے الله سبحانه کی حمد و ثنا بیان کی اور اپنے جد امجد جناب محمد مصطفیٰ (ص) پر درود و سلام پڑها اس کے بعد فرمایا:
    "هاں! خدا کی قسم! اب روؤگے بهت، هنسوگے کم، کیونکه تم نے زمانه بهر کی برائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لیں ۔اب یه دهبے تمهارے دامن سے چهڑائے نه جاسکیں گے اور فرزند رسول (ص) کے خون کے دهبے کیسے چهٹ سکتے هیں، اس خون کے دهبے جو سید شباب اهل جنت تهے ۔جو تمهارے نیکوں کا ملجأ و مأذیٰ تها، جو تمهارے مصیبتوں کے وقت جائے پناه تها، جو راه هدایت دیکهانے کے لیے ایک نورانی مناره تها، جو سنت رسول (ص) کا پیشوا تها ۔کتنا برا ذخیره تم لے چلے هو، تمهارے لیے هلاکت و بربادی هو، تمهاری کوئی امید بر نه آئے، تمهارے هاته قلم هوں، تمهاری تجارت برباد هو، تم غضب الهی میں گرفتار هو، تم پر ذلت و رسوائی کی مار هو ۔اے کوفے والو! جانتے هو رسول الله کے کس جگربند کو تم نے ذبح کرڈالا رسول اکرم کے کس ناموس کو تم نے سر برهنه لا کر کهڑا کیا، کس کا خون تها جو تم نے بے دریغ بهایا، یه کس کی حرمت ضائع کی، تم نے بڑی مصیبت بر پا کردی به روایت دیگر فرمایا: ایسی مصیبت که قریب هے آسمان پهٹ جائے، تم اس پر تعجب کر رهے هو که آسمان سے خون کیوں برس رها هے ابهی کیا هے آخرت کا عذاب تو اس سے بهی زیاده دردناک اور رسوا کن هوگا، جب تمهارا کو ئی بهی مددگار نه هوگا، الله کی دی هوئی مهلت سے اترا نه جانا کیونکه الله تعالی کو اپنے کاموں میں جلدی نهیں هوتی، نه اس کو وقت انتقام کے فوت هو جانے کا دهڑکا هوتا هے، تمهارا رب تمهاری کمین میں هے۔
    راوی کهتا هے: بخدا میں نے دیکها که سب لوگ یه کلام سن کر متحیر هوگئے اور بے اختیار روتے تهے اور اپنی انگلیاں منه میں دباتے تهے ۔ایک پیرمرد میرے پهلو میں کهڑا تها بهت رورها تها اس کی داڑهی آنسوؤں سے تر هوگئی تهے، کهتا تها:
    "کهولکم خیر الکهول و نسلکم اذا عد نسل لا یبور و لا یخزیٰ"(۲۴)
    میرے ماں باپ آپ پر فدا هوں تمهارے بوڑهے تمام بوڑهوں سے بهتر تمهارے جوان تمام جوانوں سے افضل اور تمهاری عورتیں عالم کی تمام عورتوں سے افضل اور تمهاری نسل بهترین نسل هے اور کبهی بهی تم عاجز و ذلیل نه هوگے۔
    علامه سید ابن حسن نجفی اس خطبے کی اثر آفرینی کے متعلق لکهتے هیں:" الحمدالله و الصلاوه علیٰ ابی محمد و آله الطیبین الاخیار، یه تها بنت علی (ع) کی تقریر کا ابتدائی جمله جس نے کوفه والوں کے دل و دماغ کو فتح کرلیا اور پهر عقیلهٔ بنی هاشم، فلسفهٔ شهادت کی ترجمان، جناب زینب (س) اپنے والد گرامی کے انداز میں خطبه خواں هوئیں اور هر جمله سے فصاحت و بلاغت کے ساته حقائق و معارف کا جو دریا امنڈا هے وه عالم تبلیغ و تلقین میں بے مثال مانا جاتا هے نیز اپنے سریع اور شدید رد عمل کے حوالے سے یه تقریر، فکری انقلاب کی تاریخ اور انسانی نفسیات کی دنیا میں بهی اپنی نظیر سمجهی جاتی هے ۔"
    دربار یزید میں حضرت زینب (س) کا خطبه
    جب اسیروں کا قافله دربار یزید میں پهنچا، تو یزیدنے بنی هاشم کے حصول سلطنت کے کهیل کا ذکر کیا اور وحی نازل هونے کا انکار کیا یه اسلام کے اصول پر اعلانیه حمله تها جس کا جواب دینا ضروری تها چنانچه حضرت زینب (س) کهڑی هوگئیں اور وه معرکهآلاء تقریر کی جس نے یزید کے جاه و جلال کی ساری بنیادوں کو کهوکلا کردیا ۔آپ نے فرمایا کتنا اچها هے میرے پروردگار کا ارشاد که:
    "آخر میں ان لوگوں کی جو برے اعمال کرتے هیں، یه نوبت پهنچی که وه آیات خداوندی کی تکذیب کرنے اور ان کی هنسی اڑانے لگے تو نے اے یزید! کیا یه گمان کیا هے که چونکه تو نے هم پر زمین آسمان کے تمام راستوں کو بند کرتے هوئے هم کو اس حالت پر پهنچادیا هے که آج هم تیرے سامنے قیدیوں کی طرح لائے جارهے هیں، تو اس خدا کے نزدیک بهی هم حقیر اور تو باعزت قرار پائے گا؟ یا که تجهے یه ظاهری کامیابی تیرے مقرب بارگاه الهی هونےکی جهت سے حاصل هوئی هے، اسی خیال کے ماتحت تو خوش هو هوکر اپنے شانوں پر نظر ڈال رها هے، اس لیے که اس وقت تجهے یهی دیکهائی دے رها هے که دنیا تیرے حکم کی پابند اور امور حکومت و مملکت منظم و مرتب هیں اور سلطنت و حکومت تیرے لیے تمام خطرات سے پاک و صاف هوگئی هےکیا تو بهول گیا خدا کے قول کو که نه خیال کریں جنهوں نے کفر اختیار کررکها هے که هم جو ان کو مهلت دیتے هیں وه ان کے لیے کسی بهتری کا باعث هوگی ۔ هم نے ان کو صرف اس لیے مهلت دیتے هیں که وه خوب دل کهول کر گناه کرلیں، بالآخر ان کے لیے حقارت آمیز سزا تو مقرر هی هے"
    "کیا یه اسلامی غیرت و حمیت اسی کی متقاضی هے که تو اپنی عورتوں بلکه کنیزوں تک کے لیے پردے کا اهتمام کرے اور رسول خدا (ص) کی نواسیوں کو قید کرکے دربدر پهرائے اور پهر اس پر یه کهنے کی جرأت کرے
    "لاهلوا و استحلوا فرحاً "گویا تو اپنے مشرک بزرگوں سے داد کا طالب هے گهبرا نهیں، تهوڑے هی دنوں میں تو بهی اسی گهاٹ اتارا جائے گا اور اس وقت تو آرزو کرے گا که کاش تیرے هاته شل اور تیری زبان گنگ هوتی اور تو نے جو کچه کها اور کیا وه نه کها اور نه کیا هوتا ۔تیرے لیے اس سے بدتر کیا هوسکتا هے که روز حشر خدا تیرا فیصله کرنے والا اور محمد (ص) تیرے مقابل مدعی اور جبرئیل ان کی طرف سے دعویٰ کے گواه هوں گے ۔اس وقت ان لوگوں کو جنهوں نے تیرے افعال کی تأیید کی هے اور تیرا ساته دےکر تجهے مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط کر رکها هے، معلوم هوجائے گا که ظالموں کو کیا برا بدله دیا جاتا هے، اگر چه انقلاب زمانه نے یه نوبت پهنچادی هے که میں تجهسے بات کررهی هوں میری نظروں میں تیری کوئی وقعت نهیں حتیٰ که تیری توبیخ و سرزنش کو بهی میں اپنے لیے ایک بڑی مصیبت خیال کرتی هوں لیکن کیا کروں که دل بهرا هوا هے اور کلیجے میں آگ لگی هے ۔خدا کی شأن که خداپرست افراد شیطانی لشکر کے هاتهوں قتل هوں ۔اچها (اے یزید تجهکو قسم هے) تو کوئی دقیقه اٹها نه رکه اور اپنی پوری کوشش صرف کرلے اور اپنی تمام جدوجهد ختم کردے لیکن خدا کی قسم تو همارے ذکر کو اور هماری زندگی کو فنا نهیں کرسکتا اور نه همارے اصلی مقصد کو پهنچ سکتا هے، اس خون ناحق کا دهبه تیرے دامن پر قیامت تک باقی رهے گا اور تو کبهی اس کو دهو نهیں سکتا، تیری راۓ یقیناً غلط، تیری زندگی بهت محدود، اور تیرے ارد گرد کا مجمع بهت جلد تتر بتر هونے والا هے، وه دن بهت نزدیک هے جب منادی ندا کرے گا که "ظالموں پر خدا کی لعنت هے" شکر هے اس خدا کا جس نے همارے پیش رو بزرگوں کا انجام سعادت کے ساته اور همارے آخری بزرگ کا انجام شهادت و رحمت کے ساته مقرر کیا اور وهی همارے لیے کافی اور ناصر و معین هے "۔ (۲۵)
    سید ابن حسن نجفی نے اس خطاب کے بارے میں اس طرح تبصره کیا هے:"یزید کے بهرے دربار میں حضرت زینب کبریٰ نے جب خطاب فرمایا هے تو عجیب عالم تها! یوں لگتا تها جیسے آگ برس رهی هو، زلزله آگیا هو، یزید کو اپنے راج محل کی دیواریں گرتی نظر آرهی تهیں اور اقتدار کے سارے چراغ بجهتے دیکهائی دے رهے تهے، وزرا کا رنگ رخ زرد پڑ چکا تها، امراء اپنے حواس کهو بیٹے تهے، سفراء دم بخوداور بهت سی اهم شخصیات فوری طور پر صورت حال کے پس منظر سے مکمل آگهی کے لیے بے قرار تهیں ۔ "(۲۶)
    حضرت زینب (س) کے خطبات کی بعض اهم خصوصیات
    میں نے اپنے اس مقالے میں حضرت زینب (س) کے خطبات میں سے دو اهم خطبه کو نمونه کے طور پر پیش کیا تا که ان کی خصوصیات کے بارے میں بهتر بحث هوسکے ۔
    ۱ ۔ پهلی خصوصیت یه هے که ایک ظریف نکته حضرت زینب (س) کے خطبوں میں نظر آتا هے اور وه یه که جناب زینب (س) نے اپنے خطبوں میں ایک ترتیب رعایت کی هے ۔ اپنی باتوں کی سند پهلے قرآن شریف سے دیتی هیں پهر اپنے جد کی احادیث سے اور اس کے بعد اپنے باپ حضرت علی (ع) کے حوالے سے جیسا که اموی حکومتیوں کے سامنے قرآن کی اس آیت کو سند بناکر اس طرح خطاب کرتی هیں:"ثم کان عاقبه الذین اساؤ السویٰ ان کذبوا بآیات الله و کانوا بها یستهزئون "(۲۷) اس آیت پڑهنے کے بعد جناب زینب (س) نے الله کی قطعی اور حتمی سنت کی طرف اشاره کیا هے حق و باطل کی جنگ کی طرف اشاره کیا هے که قطعی طورپر فتح حق هی کی هوتی هے اور یه الله کی سنت هے که باطل هلاک هوجاتا هے ۔
    ۲ ۔ دوسری خصوصیت حضرت زینب (س) کے خطبات کی یه هے که حضرت نے جهاں بهی خطبه هڑها وهاں کے لوگوں کا ماضی سامنے رکهکر خطبه پڑها جیسا که کوفه میں جب خطبه پڑهتی هیں تو اپنے خطبے کو مدح و ثنای الهی سےشروع کیا اور الله کی قدرت و عظمت نامحدود کی طرف اشاره کیا اور هم جانتے هیں که اس طرح سے ابتدا کرنا حضرت علی (ع) کے خطبوں میں نظر آتا هے اور حضرت زینب (س) نے بهی اسی لیے اس طرح شروع کیا تا که کوفه کے لوگ حضرت علی (ع) کی یاد میں پڑجائیں جو کسی وقت اس شهر میں خلیفهالمسلمین کے نام سے پهچانے جاتے تهے اور حضرت زینب (س) بهی انهی کی بیٹی تهیں۔اور جب شام میں حضرت زینب (س) نے خطبے کا آغاز کیا تو ایک چهوٹی سی عبارت سے حمد و ثنای پروردگار بجا لائیں کیونکه وهاں کے لوگ اهل بیت (ع) سے بهت دور هوچکے تهے ۔
    ۳ ۔ تیسری خصوصیت یه هے که حضرت زینب (س) نے اپنے خطبات میں اس بات پر اشاره کیا هے که رسول خدا (س) کے بعد هدایت حضرت علی (ع) اور ان کے بعد امام حسن (ع) اور پهر امام حسین (ع) کو ملی هے، اس طرح کا بیان کرنا یعنی خاندان رسول الله ایک سلسله کی طرح هے جن کا حق غصب کیا گیا هے، اس جیسی عبارت که"تم لوگوں نے رسول الله (ص) کے وصی اور بهائی کو مارا هے، امیرالمؤمنین (ع) کو شهید کیا هے، میرے بهائی سیدالشهداء کو شهید کیا هے"، اس مقصد کو واضح کرتی هے ۔
    ۴ ۔ چوتهی خصوصیت یه هے که آیات قرآنی کو سند بنا کر یه بتایا هے که امویوں نے حق رهبریت کو غصب کیا هے جسیا که فرمایا:"پروردگارا! ان لوگوں نے تیرے بهیجے هوئے قرآن کے خلاف قدم اٹهایا، تیرے نبی کے وحی کے بارے میں اور حضرت علی (ع) کا حق چهین لیا ان لوگوں کے پیروکاروں کو ظلم و ستم سے مارڈالا اور آج بهی ان کے فرزندوں کو مار ڈالا " ۔
    ۵ ۔ پانچویں خصوصیت یه هے که شام کے خطبے میں حضرت زینب (س) نے امویوں کی هویت کو آشکار کردیا، پهلے یزید کو فاسق، جاهل، ناشایسته کها جس نے دهمکی دے دے کر اسلامی حکومت کی رهبری کو غصب کیا هے اور ههر "یابن الطلقاء"(۲۸) (اے آزاد کیے گئے کے لڑکے) کی عبارت کهه کر یه یاد دلایا هے که میرے
    جد میرے نانا رسول خدا (ص)، تمهارے جد ابوسفیان کے خون سے درگذر هوگئے تهے اور ابوسفیان نے اسلام قبول کرلیا تو آزاد هوگیا اور اگر یه کام نه کرتا تو ابوسفیان اور اس کے بعد جناب زینب (س) نے اس خاندان کی سنگدلی اور بے رحمی پر اشاره کیا که یاد کرو تمهاری دادی هنده کس قدر بے رحم تهی جو جگر خواره کے نام سے مشهور هوگئی اور تمهارا باپ معاویه نے کتنوں کا خون بهایا هے ۔
    هم نے دیکها که ان باتوں سے حضرت زینب (س) نے ایک نهایت بزرگ شکاف کو بنی امیه کے خاندان اور نبوت کے خاندان کے بیچ آشکار کیا هے ۔
    ۶ ۔ چهٹی خصوصیت یه هے که حضرت زینب (س) نے شام کے خطبے میں الهی سنتوں کو یاد دلایا هے اور انبیاء کے مقصد کو یاد دلایا هے جیسا که فرماتی هیں "الله کے ارادے سے اتنے سارے ظلم و ستم کا انجام مؤمنین اور انبیاء اور حق کی عزت و سربلندی کے علاوه کچه بهی نهیں رها هے ۔"الله نے وعده دیا هے که عزت و سلطنت هماری هی هوگی، اے یزید یه تم هو جو هلاک هوجائوگے، لعن و نفرین کے سارے دروازے تم پر هی کهولیں گے ذرا صبر کر وه دن دور نهیں " ۔
    ۷ ۔ ساتویں خصوصیت جو سب سے زیاده اهم هے یه هے که حضرت زینب (س) نے علم ابلاغ کے سارے شرائط کو ذهن میں رکهکر خطبات اور مرثیه کے ابلاغ و اظهار کے لیے ان سے کام لیا هے ۔
    علم ابلاغ (communication science) کے ایک مغربی مفکر نے پیغام کی اثر
    آٓفرینی کے لیے درج ذیل شرائط بیان کیے هیں: (۲۹)
    ۱ ۔ پیغام رسانی اس انداز میں کی جائے که وه مطلوبه اثر پیدا کرسکے ۔
    ۲ ۔ اثر آفرینی کے لیے ضروری هے که ابلاغ ان الفاظ و کلمات میں کیا جائے جن کو پیغام وصول کرنے والا بخوبی سمجهتا هو ۔
    ۳ ۔ پیغام رساں میں اس کو وصول کرنے والے کی اصلاح مضمر هو ۔
    ۴ ۔ جن افرد تک پیغام رسانی کی جارهی هو، وه ان کے معاشرتی اقدار کے خلاف نه هو، بلکه اس معاشرے کے افراد اپنی سماجی اور معاشرتی رسوم و رواج کی حدود میں ره کر اس کا اثر لے سکیں اور پهر پیغام کی مقصدیت کو سمجهکر اس پر عمل پیرا هوسکیں ۔
    حضرت زینب (س) نے ان شرائط کو بخوبی استعمال کیا، اس دور کے مزاج کے مطابق ایسے وسائل استعمال کیے جو نهایت مؤثر تهے ۔ آپ نے هر مناسب موقع پر مخالف کی دروغ گوئی کا پرده چاک کیا ۔ امام حسین (ع) کی حقانیت و صداقت کے اظهار کے لیے آپ نے وه انداز خطابت اختیار کیا جو آپ کے والد ماجد حضرت علی (ع) کے خطبات میں نمایاں هے ۔
    علی کی جاه و جلالت نمود کرتی هے زبان په جب کبهی زینب کا نام آتاهے
    خطبات کے علاوه اسلام کی حفاظت کرنے کے دوسر ے طرائق
    حضرت زینب (س) نے مختلف مقامات پر اس اسلام کی حفاظت کی خاطر مختلف فرائض انجام دیے جو روحی و روانی حیثیت سے اس قدر تأثیر گذار رهے که تاریخ اس کی گواه هے من جمله:
    ۱ ۔ امام حسین (ع) کی شهادت کے بعد عمر سعد کے سپاهی حضرت کے ارد گرد جمع هوگئے تو اس وقت جناب زینب (س) خیمه سے باهر آتی هیں اور سپاه عمر سعد کو چیرتے هوئے اپنے کو بهائی کی لاش پر پهنچاکر لاش کو هاتهوں پر اٹهاکر آسمان کی طرف نگاه ڈالی اور فرمایا:"الهی تقبل منا هذا القربان"(۳۰) اے میرے پروردگار اس قربانی کو هماری طرف سے قبول فرما۔ یهاں پر حضرت زینب (س) کے اس کردار نے واضح کردیا که اولاً: یه جنگ اسلام اور کفر کی جنگ هے جس نے ابهی تک بهت سی قربانی لی هے ۔ ثانیاً: حق، باطل کے مقابلے میں مارا گیا هے اور اس حق و باطل کی جنگ کی رسالت کو قیامت تک زنده رهنا هے ۔ ثالثاً: حضرت زینب (س) نے اپنے بهائی کی لاش کو بلند کرکے در حقیقت حق و باظل کی جنگ کا
    خونین پرچم بلند کیا اور یه بتلادیا که اس نهضت کی علمدار خود زینب (س) هی هے ۔
    ۲ ۔ عزاداری سید الشهداء کی سب سے پهلی مجلس خود جناب زینب (س) نے برپا کی تهی اور حضرت نے حکم دیا تها که کجاووں پر کالے کپڑے ڈال دیے جائیں اور اس طرح اپنے مقصد کی تأثیرات کو زیاده سے زیاده واضح کردیا ۔
    کوفه میں قیدیوں کا کارواں دیکهکر کوفه کی عورتوں نے سوچا که قیدی بچوں کے لیے کچه کهانے اور پینے کا انتظام کریں لیکن جناب زینب (س) نے بچوں کی بهوک اور پیاس کے باوجود ان سب کو کهانے پینے سے باز رکها اور فرماتی هیں:"انٌ الصدقه علینا حرام "(۳۱) اے کوفیو! هم اهل بیت (ع) پر صدقه روا نهیں هے ۔حضرت کے یه سخن کوفه کی عورتوں کے دهن به دهن هوئی اور سبهی جان گئے که یه کاروان اهل بیت رسول خدا (ص) کا کاروان هے اور بیگانوں کا کاروان نهیں هے جب یه خبر ابن زیاد کو پهنچی تو اس نے حکم دیا که اس کاروان کو بهت جلدی کوفه کی گلیوں سے گذارا جائے ۔
    حضرت زینب (س) نے اس کردار سے اپنے اور اپنے همراهیوں کو پهچنوادیا تها که جانو هم کون هیں هم اهل بیت رسول خدا (ص) هیں جس رسول کے کهنے پر تم مسلمان هوئے هو، هم انهی کے اهل بیت میں سے هیں، دیکهو تمهارے ظالم حاکم نے هم پر کتنے ظلم کیے هیں دیکهو همارا مقصد کیا هے که هم اپنے پردے کی اپنے عزیزوں کی قربانی دے کر اپنے مقصد کی حفاظت کررهے هیں پاسبانی کررهے هیں ۔
    نتیجه
    مؤرخوں نے لکها هے که حضرت زینب (س) کی تبلیغی سیرت، رأفت اور محبت کے ساته ساته تهی، اس کے باوجود که اس خاندان پر کس قدر ظلم و ستم اور مصیبت کے پهاڑ توڑے گئے یه خصوصیت واقعاً حیرت انگیز هے ۔حضرت زینب (س) کا پیغام اور محبت و رأفت کے ساته ساته رهنا یه معنا رکهتا هے که همیشه اهل بیت علیهم السلام اور ان کے چاهنے والوں کے درمیان ایک دوطرفه رابطه برقرار رها هے اس طرح که کسی کی طرف سے پیغام بهیجاجاتا هے اور مخاطب پیغام کو جذب کرتا هے اور تبلیغ میں یه، ایک مهم اصل هے جس کا رعایت کرنا بهت اهمیت رکهتا هے ۔
    ایک ایرانی شاعر نے کیا خوب کها هے:"کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود" (قادر طهماسبی) یعنی اگر حضرت زینب (س) کی پیغام رسانی نه هوتی تو کربلا کا پیغام کربلا هی میں دفن هوجاتا۔ ایک انقلاب کی پایداری اس پر هے که اس کے مبلغ اور پیغام رساں اپنی ذمه داری کو صحیح طریقه سے انجام دے ۔اگر امام حسین (ع) نے دنیا والوں کو سکهایا که کس طرح جنگ کرتے هیں کس طرح شهید هوتے هیں تو زینب (س) نے بهی دنیا والوں کو سکهایا کی ایک قیدی کاوران کی کس طرح حفاظت کرتے هیں اپنے زمانے کے امام کی کس طرح تیمارداری کرتے هیں اور اپنے بهائی کی رسالت کی، اپنے بهائی کے مقصد کی کس طرح حفاظت کرتے هیں که اگر بے مقنعه و چادر دیار به دیار شهر به شهر کوچه گلیوں سے هی کیوں نه گذارا جائے پهر بهی اپنے مقصد سے باز نه آئے اپنے مقصد یعنی اسلام کی حفاظت کرنا ۔

    پی‌نوشت‌ها
    1. علی محمد، علی دخیل؛ زینب بنت الامام امیر المؤمنین؛ ص ۱۰.
    2. بنت الشافی؛ زینب بانوی قهرمان اسلام؛ ص ۱۰.
    3. رسول محلاتی، سید هاشم؛ زندگانی حضرت زهرا (س) و دختران آن حضرت؛ ص ۲۷۰.
    4. علی محمد، علی دخیل؛ سابق کتاب؛ ص ۱۱.
    5. رسول محلاتی، سید هاشم؛ سابق کتاب؛ ص ۲۸۵.
    6. بنت الشافی؛ سابق کتاب؛ ص ۱۷۲.
    7. رسول محلاتی، سید هاشم؛ سابق کتاب؛ ص ۲۸۵.
    8. مطهری، مرتضیٰ؛ حماسهٔ حسینی؛ ج ۲، ص ۲۲۵.
    9. خان سپهر، عباس قلی؛ ناسخ التواریخ؛ جزء اول، ص ۷۳.
    10. صادقی اردستانی، احمد؛ زینب قهرمان؛ ص ۳۹۲.
    11. محلاتی، ذبیح الله؛ ریاحین الشریعه؛ ج ۳، ص ۶۱.
    12. محمدی اشتهاردی، محمد؛ زینب الگوی پرستاران، مجله پاسدار اسلام، شماره ۲۰۱، ص ۲۸.
    13. ملا صدرا؛ اسفار؛ ج ۳، ص ۱۱۷.
    14. علامه مجلسی؛ بحارالانوار؛ ج ۸۱، ص ۲۲۵.
    15. محمدی اشتهاردی، محمد؛ خواهران قهرمان؛ ص ۱۹۰.
    16. محمدی اشتهاردی، محمد؛ سابق کتاب؛ ص ۱۲۰.
    17. عباس قمی؛ منتهیٰ الآمال؛ ص ۳۹۵.
    18. محلاتی، ذبیح الله؛ ریاحین الشریعه؛ ج ۳، ص ۱۰۶.
    19. علامه مجلسی؛ بحار؛ ج ۴۵، ص ۱۱۵.
    20. محقق جزایری؛ خصائص الزینبیه؛ ص ۲۸۸.
    21. طبرسی، فضل بن حسن؛ اعلام الوریٰ؛ ص ۲۴۷.
    22. شریعتی، علی؛ حسین وارث آدم؛ ص ۱۸۹.
    23. شریعتی، علی؛ سابق کتاب؛ ص ۱۹۲.
    24. نظری منفرد، علی؛ صحیفهٔ کربلا؛ ص ۳۹۰.
    25. نقی النقوی، ع؛ شهید انسانیت؛ ص ۴۵۹ و ۴۶۰.
    26. نجفی، الف؛ حضرت زینب کے تاریخ ساز اور عهد آفرین خطبے؛ ص ۳۲.
    27. سوره روم، آیه ۱۰.
    28. نظری منفرد، علی؛ صحیفه کربلا؛ ص ۴۵۰.
    29. احمد رضوی، سید جمیل؛ امام حسین کی خبر شهادت کا نظام ابلاغ، نشریه رضاکار۔شماره ۲۷، ص ۳۸.
    30. نظری منفرد، علی؛ صحیفه کربلا؛ ص ۳۷۲.
    31. علامه مجلسی؛ بحار؛ ج ۴۵، ص ۱۳۴.
    فهرست منابع و مآٔخذ
    1. بنت الشافی؛ زینب بانوی قهرمان کربلا، مترجم: حبیب چایچیان، چاپ شانزدهم، تهران، نشر امیرکبیر، ۱۳۷۳
    2. رسول محلاتی، سید هاشم؛ زندگانی حضرت زهرا (س) و دختران آن حضرت، چاپ اول، تهران، انتشارات علمیه اسلامیه، بیتا
    3. صدرالدین شیرازی، محمد بن ابراهیم (ملاصدرا)؛ اسفار الاربعه، بیروت، ناشر: دارلاحیاء التراث العربی، ۱۴۲۳ ق
    4. طبرسی، فضل بن حسن؛ اعلام الوریٰ، بیجا، دارلکتب الاسلامیه، ۱۳۹۰ ق
    5. جزایری، سید نورالدین؛ خصائص الزینبیه، محقق: ناصر باقری بیدهندی، چاپ دوم، قم، انتشارات مسجد مقدس جمکران، بهار ۷۹
    6. خان سپهر، عباس قلی؛ ناسخ التواریخ، جزءاول، کتابفروشی اسلامیه، بیجا، بیتا
    7. صادقی اردستانی، احمد؛ زینب قهرمان، چاپ اول، نیجا، نشر مطهر، ۱۳۷۲ (به نقل از وسیلهالدارین فی انصار الحسین ص ۴۳۲)
    8. علی محمد، علی دخیل؛ زینب بنت الامام امیرالمؤمنین، بیروت، مؤسسه اهل بیت علیهم السلام، ۱۳۹۹ ق
    9. محلاتی، ذبیح الله؛ ریاحین الشریعه، تهران، دارالکتب الاسلامیه، بیتا
    10. مطهری، مرتضیٰ؛ حماسه حسینی، چاپ بیست و یکم، انتشارات صدرا، ۱۳۷۵
    11. مجلسی، محمد باقر؛ بحارالانوار، چاپ دوم، بیروت، دارلاحیاءالتراث العربی، ۱۴۰۳ ق
    12. شریعتی، علی؛ حسین وارث آدم، مجموعه آثار، شماره ۱۹، تهران، انتشارات قلم، ۱۳۸۱
    13. نظری منفرد، علی؛ صحیفه کربلا، مترجم: نثار احمد زین پوری، چاپ اول، قم، انتشارات انصاریان، ۱۹۹۹ م
    14. نقی النقوی، ع؛ شهید انسانیت، ناشر: لاهور امامیه مشن، بیتا
    15. نجفی، الف؛ ۱۹۸۵ م، حضرت زینب کے تاریخ ساز اور عهد آفرین خطبے، ناشر: کراچی اداره تمدن اسلام
    16. احمد رضوی، سید جمیل؛ امام حسین (ع) کی خبر شهادت کا نظام ابلاغ، نشریهٔ رضاکار (لاهور)، سال ۱۴۱۲، شماره ۲۷

    • فایل مقاله : دانلود فايل
    • <#f:7352/> : <#f:7353/>
    • <#f:9774/> : <#f:9775/>
    • <#f:9776/> : <#f:9777/>